حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتہ کی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ مختلف محاذوں پر سیاسی، معاشی اور داخلی سطح پر اہم پیش رفتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ایرانی سپاہ پاسداران نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران ایران کی جانب سے کسی بھی ملک، خصوصاً خلیج فارس کے جنوبی ممالک پر کوئی ڈرون یا میزائل حملہ نہیں کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق اگر کسی حملے کی خبریں درست ہیں تو وہ صہیونی یا امریکی کارروائی ہو سکتی ہیں، کیونکہ ایران اپنی ہر عسکری کارروائی کا باضابطہ اعلان کرتا ہے۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ میں ایک گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت 4.16 ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جب کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ جنگ بندی بھی عالمی توانائی بحران کو فوری طور پر کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
امریکی اور مغربی شخصیات کی جانب سے بھی جنگ بندی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ سابق امریکی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نہ صرف اپنی عسکری اور دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ خطے میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔ بعض مبصرین نے اسے امریکہ کی بڑی اسٹریٹجک ناکامی قرار دیا، جبکہ سینیٹر برنی سینڈرز نے اسرائیل کے اثر و رسوخ پر تنقید کرتے ہوئے امریکی فوجی امداد روکنے کے لیے قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر ایران کے اندر جنگ کے باعث متاثر ہونے والے انفراسٹرکچر کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ وزارتِ راه کے مطابق ریلوے نیٹ ورک کے کئی متاثرہ حصوں کی مرمت مکمل یا جاری ہے، جس کے نتیجے میں مشہد سے آج 5200 مسافر مختلف شہروں کی جانب روانہ ہوئے۔ جہاں مرمت مکمل نہیں ہو سکی، وہاں مسافروں کے لیے مفت بس سروس فراہم کی جا رہی ہے۔
اسی کے ساتھ ایران بھر میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای کی شہادت کے چالیسویں دن کی مجالس بھی جاری ہیں۔ تہران سمیت مختلف شہروں میں عزاداری کا ماحول عاشورا کی یاد تازہ کر رہا ہے، جہاں بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل کر خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر جنگ بندی کے باوجود خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ ایران داخلی استحکام، عوامی حمایت اور علاقائی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ