تحریر: حجت الاسلام و المسلمین عبدالرحیم اباذری
حوزہ نیوز ایجنسی I آج جب میں نے مختلف گروپس میں آقا سید کمال خرازی کی شہادت کی خبر دیکھی تو اچانک خیال آیا کہ کیسے پاکیزہ، سچے، مخلص، باوقار، باحیا، محبوب، عالم، عاقل، معتدل اور سب سے بڑھ کر اصیل و باوقار انسان ایک کے بعد ایک اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ وہ بغیر پیچھے مڑے، خاموشی سے اس فانی دنیا کو چھوڑ کر قافلۂ «عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُون» میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم اس دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ پر ذرا پیچھے مڑ کر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے کتنے قیمتی گوہر آسانی سے کھو دیے ہیں!
یہ عزیز ترین افراد زمانے کے بدترین، شقی ترین اور گندے عناصر کے ہاتھوں، جو اخلاقی پستی میں حیوانوں سے بھی بدتر ہیں، شہید کیے گئے۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن یقیناً ان کے ناحق بہائے گئے خون کے اثرات اور برکات مستقبل قریب میں امتِ مسلمہ، خصوصاً ایران کے عوام کے لیے نمایاں، محسوس اور حیرت انگیز انداز میں ظاہر ہوں گے۔ اس کے آثار ہم ابھی سے دیکھ رہے ہیں—بشرطیکہ ہم ان ایام کی قدر و قیمت کو پہچانیں، اتحاد و یکجہتی کو مضبوط کریں، عوامی سطح پر ہم آہنگی کو برقرار رکھیں، اور سڑکوں پر شعوری و حماسی موجودگی کا مظاہرہ کریں۔
ہمیں چاہیے کہ ایک دوسرے پر بے جا تنقید اور اعتراضات سے گریز کریں، اور حکومتی عہدیداروں "چاہے وہ انتظامیہ سے ہوں، عدلیہ سے، مقننہ سے یا فوج و پولیس کے کمانڈر" جو اس وقت محاذِ اول پر خدمات انجام دے رہے ہیں، ان پر اعتماد کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تنقید کے نام پر انہیں کمزور کریں اور کل کسی ناقابلِ تلافی پشیمانی کا شکار ہو جائیں۔
یہ شہداء دراصل ہمارے معاشرے کے وہ ممتاز، باکردار اور بے مثال افراد تھے جو دینی، ثقافتی، انقلابی اور اخلاقی سرمائے کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایسے فرشتہ صفت اور محبوب انسانوں کا نعم البدل پیدا ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ عام عوام اور معصوم بچوں میں سے بھی جو مظلومانہ طور پر شہید ہوئے "جیسے میناب کے معصوم اسکول کے بچے" وہ بھی مستقبل کے رہنما، دانشور، اور ملک کے معمار بن سکتے تھے۔
سید کمال خرازی بھی اسی پاکیزہ اور بااصل خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ شاید بہت سے لوگ نہ جانتے ہوں کہ وہ قم میں قائم ہونے والے معروف دینی ادارے «مؤسسہ در راہ حق» کے بانیوں میں سے تھے۔ ان کی دینی غیرت، احساسِ ذمہ داری اور اخلاص کی بدولت یہ علمی و ثقافتی ادارہ وجود میں آیا، مگر انہوں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اسے اپنی ذات کی تشہیر کا ذریعہ بنایا۔
حضرت آیت اللہ رضا استادی کی یادداشتوں میں ذکر ہے:
"اس علمی مرکز کے اصل بانی آیت اللہ خرازی تھے۔ انہیں اپنے بھائی سید کمال خرازی کے ذریعے معلوم ہوا کہ عیسائی حلقے ملک میں وسیع دینی و ثقافتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں، حتیٰ کہ تعلیمی مراکز تک ان کی رسائی ہو چکی ہے۔ اس پر دونوں بھائیوں نے دینی غیرت اور احساسِ ذمہ داری کے تحت اس کے مقابلے کے لیے قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔"
یہ ادارہ سن 1964ء میں برادرانِ خرازی کی کوششوں سے قائم ہوا، اور بعد میں دیگر افراد کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔ سن 1970-71ء میں جب اس کے تعلیمی شعبے کا آغاز ہوا تو مرحوم آیت اللہ مصباح یزدی کو بھی اس میں تعاون کے لیے دعوت دی گئی۔
آقا کمال خرازی نے اس ادارے میں طویل عرصے تک مؤثر کردار ادا کیا، اسی طرح حضرت آیت اللہ سید محسن خرازی بھی اس میں شریک رہے۔ مگر ان کی عاجزی، اخلاص اور بے نفسی ایسی تھی کہ انہوں نے کبھی اپنے آپ کو اس کا مالک یا شریک ظاہر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ زیادہ تر آیت اللہ مصباح یزدی کے نام سے مشہور ہو گیا، جیسا کہ آج بھی اسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔
یہ تمام نکات ہمارے لیے "خصوصاً طلاب، علماء، اساتذہ اور عام لوگوں کے لیے" بہت بڑا درس ہیں۔
اللہ تعالیٰ شہید آقا سید کمال خرازی کے درجات بلند فرمائے، ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھے، اور ان کے راستے کو جاری رکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ فرمائے۔









آپ کا تبصرہ