پیر 4 مئی 2026 - 23:07
خطہ شدید بحران کی لپیٹ میں: جنگ کے اثرات ہر محاذ پر، امریکہ و اسرائیل دباؤ میں، مزاحمتی طاقتیں غالب

حوزہ/ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک ہمہ گیر بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ معیشت، توانائی، ٹیکنالوجی اور سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی اور حالیہ جنگ کے اثرات اب واضح طور پر ایک وسیع اور گہرے بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس کے اثرات صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، توانائی اور داخلی سیاست تک پھیل چکے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے جدید اور کم لاگت والے ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی فوج کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا اعتراف ہے کہ ان ڈرونز کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے، یہاں تک کہ فوجی دستوں میں الگ افراد کو صرف آسمان پر نظر رکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ روایتی دفاعی نظام اس نئی جنگی حکمت عملی کے سامنے کمزور پڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جہاں پہلے ہر ماہ تقریباً تین ہزار جہاز اس گزرگاہ سے گزرتے تھے، اب یہ تعداد انتہائی کم ہو کر صرف ڈیڑھ سو کے قریب رہ گئی ہے۔ اس کمی نے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر براہ راست اثر ڈالا ہے، جس کا نتیجہ مختلف ممالک کی معیشتوں پر دباؤ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

اسی تسلسل میں حماس نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ہرگز نہیں ڈالے گی، کیونکہ موجودہ حالات کو وہ مکمل امن نہیں بلکہ “نیم جنگی صورتحال” قرار دیتی ہے۔ یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی غیر معمولی جھٹکے دیکھنے کو ملے ہیں۔ کویت کی جانب سے اپریل 2026 میں تیل کی برآمدات مکمل طور پر رک جانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جو کئی دہائیوں میں پہلی بار پیش آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی بحریہ کو بھی مسلسل تکنیکی مسائل کا سامنا ہے، جہاں USS Higgins میں آگ لگنے اور اس سے قبل USS Gerald R. Ford کے تکنیکی خرابیوں کا شکار ہونے جیسے واقعات نے امریکی عسکری تیاریوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

معاشی محاذ پر امریکی کمپنی Amazon کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس نے امارات اور بحرین میں اپنے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی بحالی میں مہینوں کا وقت درکار ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اس پیش رفت نے یہ واضح کیا ہے کہ جنگ کے اثرات اب نجی شعبے تک بھی گہرائی سے سرایت کر چکے ہیں۔

امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ کانگریس کے اہم اراکین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے فوری طور پر جنگ ختم کرنے اور فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب قانونی طور پر جنگ جاری رکھنے کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔

ادھر اسرائیل کے اندرونی حالات بھی تیزی سے بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیت نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ملک اندرونی بحران اور انتشار کا شکار ہے، جبکہ فوج میں بھرتی سے فرار اور سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

مجموعی طور پر یہ تمام حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ تنازع ایک طویل المدتی اور ہمہ جہت بحران میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں روایتی طاقت کے پیمانے بدل رہے ہیں۔ نئی جنگی حکمت عملی، معاشی دباؤ، اندرونی سیاسی اختلافات اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے اتحاد اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha