حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایران، اسرائیل اور امریکہ سے متعلق نئی اطلاعات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاسی، معاشی اور عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔
ایرانی بحریہ کے بیان نے خاص توجہ حاصل کی ہے، جس میں کہا گیا کہ ایران کی مسلح افواج کا ایک بڑا حصہ ابھی تک جنگ میں شامل ہی نہیں ہوا۔ اس بیان کو ایران کی طاقت اور اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، اسی لیے اب مذاکرات کی بات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے دنیا کی بڑی طاقت کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔
اسی دوران الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران جنگ کے دوران حاصل کیے گئے امریکی ہتھیاروں اور ڈرونز کی “ریورس انجینئرنگ” کر رہا ہے، یعنی ان کی ٹیکنالوجی کو سمجھ کر مقامی سطح پر اسی طرز کے ہتھیار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ ایران کی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے۔
معاشی میدان میں بھی جنگ کے اثرات واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل، ڈیزل اور کوئلے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی جتنی بڑھے گی، عالمی معیشت پر اس کے اثرات بھی اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔
دوسری طرف اسرائیل کے اندر سیاسی اور سماجی دباؤ میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق حکومت اور فوج کو سخت تنقید کا سامنا ہے، جبکہ حزب اللہ کے بارے میں اسرائیلی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ بعض اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل خود ایک مشکل صورتحال میں پھنس گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی آئندہ انتخابات کے لیے اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
عالمی سطح پر بھی اسرائیل کو تنقید کا سامنا ہے۔ ہالینڈ کی پارلیمنٹ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعاون محدود کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ اٹلی کے وزیر اعظم نے بھی اسرائیلی کارروائیوں پر اعتراض کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ میں بھی اسرائیل کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔
انسانی حقوق کے معاملے میں ایران نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف سے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ میں بڑی تعداد میں ایرانی بچے متاثر ہوئے، لیکن عالمی اداروں نے اس پر مؤثر ردعمل نہیں دیا۔ ایران نے خبردار کیا کہ ایسے معاملات پر خاموشی عالمی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرے گی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال صرف ایک جنگ نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔









آپ کا تبصرہ