تحریر: سید انجم رضا
حوزہ نیوز ایجنسی|
موجودہ دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی صرف دو ریاستوں کا تنازعہ نہیں بلکہ یہ عالمی سیاست، نظریاتی تصادم اور طاقت کے توازن کی ایک واضح تصویر ہے۔ اس تناظر میں اگر حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس کشمکش کی جڑیں محض وقتی اختلافات میں نہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی اور تاریخی بنیاد رکھتی ہیں۔
شہید رہبر معظم کو اس دور میں انسانیت کے لیے ایک الٰہی انعام سمجھا جاسکتا ہے، جن کی قیادت نے نہ صرف ایران بلکہ عالمِ اسلام کے اندر ایک نئی فکری بیداری پیدا کی۔ ان کی شہادت کے بعد عوام کے دلوں میں اسلام کی طرف رجحان مزید مضبوط ہوا اور یہ احساس شدت اختیار کر گیا کہ حق کی راہ میں قربانی ہی اصل کامیابی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی قیادت میں ایران نے نہ صرف سیاسی بلکہ فکری سطح پر بھی خودمختاری کا ایک منفرد نمونہ پیش کیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ تنازعہ کی بنیاد میں امریکہ کی بالادستی کی پالیسی اور اس کی مداخلت پسندانہ حکمت عملی شامل ہے۔ امریکہ کی تاریخ میں بارہا ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں اس نے دیگر ممالک میں جنگیں مسلط کیں، حکومتیں تبدیل کروائیں اور اپنے مفادات کے لیے عدم استحکام پیدا کیا۔ اس کے برعکس ایران ایک قدیم تہذیب کا حامل ملک ہے جس نے اپنی تاریخ میں جارحیت کے بجائے دفاع اور خودمختاری کو ترجیح دی ہے۔
ایٹمی پروگرام کو اس تنازعہ کی بنیاد بنانا بھی ایک متنازعہ معاملہ ہے، کیونکہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور مسلسل دباؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصل مسئلہ ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ خطے میں اثر و رسوخ کا کنٹرول ہے۔
ایرانی عوام کا ردعمل اس پورے منظرنامے میں انتہائی اہم ہے۔ جنگی حالات کے باوجود ایران میں نہ تو خوف و ہراس کی کیفیت ہے اور نہ ہی معاشی بدحالی کا وہ منظر جو عموماً جنگ زدہ ممالک میں دیکھا جاتا ہے۔ عوامی سطح پر حوصلہ، اتحاد اور نظم و ضبط واضح نظر آتا ہے۔ سڑکوں اور پارکوں میں جاری سماجی و تربیتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایرانی قوم نے جنگ کو بھی ایک تعمیری عمل میں بدل دیا ہے۔
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے اندر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، جو ایک صحت مند جمہوری عمل کی علامت ہے۔ نظامِ ولایتِ فقیہ کے تحت اختلافِ رائے کو نہ صرف برداشت کیا جاتا ہے بلکہ اسے بہتر حکمت عملی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ امریکہ پر اعتماد کرنا ایک مشکل فیصلہ ہے، کیونکہ ماضی میں اس کی جانب سے بارہا وعدہ خلافی دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی سطح پر بھی یہ تنازعہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے کے حوالے سے۔ اگرچہ ایران کے لیے اس کی بندش یا کھلاؤ براہِ راست اتنا نقصان دہ نہیں، لیکن عالمی سطح پر اس کے اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران-امریکہ تنازعہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں طاقت، نظریہ، معیشت اور عالمی سیاست سب شامل ہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ ایرانی قوم نے اپنے عزم، استقامت اور نظریاتی وابستگی کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والی قوم نہیں۔ مستقبل کا فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو، یہ تنازعہ عالمی تاریخ میں ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔









آپ کا تبصرہ