حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ/ جامعۃ المصطفیٰ (ص) العالمیہ کے تحت اشراف برصغیر (ہندوستان و پاکستان) کے مدارسِ علمیہ کی مشترکہ کاوشوں سے قم المقدسہ میں ایک عظیم الشان تعزیتی، احتجاجی اور تجدید بیعت کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں علماءِ و خطباء، اساتذہ، طلابِ کرام اور اہلِ خانہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ پروگرام “اعلانِ بیعت با رہبری و اظہارِ برائت از استکبارِ جہانی” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کا مقصد اسلامی محاذ کی حمایت، امتِ مسلمہ پر امریکی و صہیونی جارحیت کی مذمت، اور ولی امرِ مسلمین کے ساتھ تجدیدِ عہد کرنا تھا۔

پروگرام کا آغاز مدرسہ مبارکہ حجتیہ میں ہوا، جہاں مغرب و عشاء کی نماز کے بعد ایک باوقار مجلس اور خطاب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر جانشینِ ریاستِ محترم جامعۃ المصطفیٰ (ص) العالمیہ حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج آقای خالق پور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو اتحاد، بصیرت اور رہبری کے محور پر جمع ہونے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ استکباری قوتیں اسلامی دنیا کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، مگر اہلِ ایمان اپنے مرجع و رہبر کی قیادت میں ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے اپنے تاثرات میں کہا کہ قم المقدسہ میں برصغیر کے طلاب اور مدارس کی یہ وحدت اور بیداری ایک خوش آئند علامت ہے، جو نہ صرف علمی فضا کو مضبوط کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر امتِ مسلمہ کے اتحاد کا پیغام بھی دیتی ہے۔

اس کے بعد حجۃ الاسلام والمسلمین سید ضیغم رضوی نے مجلس سے خطاب کرتے ہوئے شہداء، مقاومت اور ولایتِ فقیہ کے موضوع پر مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کی نجات کا راستہ ولایت اور رہبری کے ساتھ وابستگی میں مضمر ہے۔ انہوں نے شہداء کے مشن کو زندہ رکھنے، مظلوم اقوام کی حمایت اور استکبارِ عالم کے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس امر کی بھی وضاحت کی کہ اسلامی بیداری کی موجودہ لہر دراصل شہداء کے خون اور رہبری کی بصیرت کا ثمر ہے۔

خطابات کے بعد مدرسہ حجتیہ سے ایک احتجاجی اور تعزیتی جلوس برآمد ہوا، جس میں علماء، طلاب اور عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جلوس اسلامی محاذ کی حمایت، امریکہ و صہیونیت کے ظلم کی مذمت، اور ولی امرِ مسلمین سے وفاداری کے نعروں کے ساتھ حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی جانب روانہ ہوا، جہاں یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔

حرم مطہر میں پہنچ کر مختلف مدارس کے ذمہ داران اور علماء کرام نے اپنی جانب سے قراردادیں اور مذمتی بیانات پیش کیے، جن میں صہیونی رژیم اور امریکی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی، جبکہ ملتِ ایران اور رہبری معظم کے ساتھ مکمل یکجہتی اور بیعت کا اعادہ کیا گیا۔

اس مشترکہ پروگرام میں برصغیر کے متعدد مدارسِ علمیہ نے شرکت کی، جن میں نمایاں طور پر یہ ادارے شامل تھے:
مدرسہ علمیہ الامام القائم (عج)
مدرسہ علمیہ امام المنتظر (عج)
مدرسہ علمیہ الولایہ
مدرسہ علمیہ امام المتقین (ع)
مدرسہ علمیہ امام سجادؑ
مدرسہ علمیہ امام علیؑ
مدرسہ علمیہ البعثت
مدرسہ علمیہ ثقلین
مدرسہ علمیہ حیدر کرار
مدرسہ علمیہ صاحب الزمان (عج)
مدرسہ علمیہ شہید ثالثؒ
مدرسہ علمیہ علوی دار القرآن
مدرسہ علمیہ عین الحیات

واضح رہے کہ یہ پروگرام برصغیر کے مدارسِ علمیہ کی مشترکہ بصیرت، وحدت اور اسلامی شعور کا ایک مؤثر مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ