حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عشرۂ ولایت کی مناسبت اور حضرت امام خمینیؒ کی برسی کی یاد میں مدرسہ علمیہ امام سجادؑ قم میں "غدیر، مباہلہ اور مکتبِ امام؛ ولایت کے تین جلوے" کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام منعقد ہوا۔ اس موقع پر مدرسہ کے سرپرست امورِ تعلیم حجت الاسلام والمسلمین شاکر علی نے خطاب کرتے ہوئے واقعۂ مباہلہ، غدیرِ خم اور مکتبِ امام خمینیؒ میں ولایت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اپنے خطاب میں واقعۂ مباہلہ کو غدیر کے دن اعلانِ ولایت کی تمہید قرار دیتے ہوئے کہا: انبیائے الٰہی اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیاسی و سماجی ولایت ان کے بنیادی اہداف میں شامل تھی کیونکہ ان کا مقصد زمین پر الٰہی حکومت کا قیام اور دینی احکام کا نفاذ تھا۔

حجت الاسلام شاکر علی نے آیۂ تطہیر اور آیۂ ولایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین اور ولی کو عصمت، صداقت اور ایثار جیسی اعلیٰ صفات کا حامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں عصرِ غیبت میں حضرت امام خمینی (رہ) کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: امام راحل (رہ) نے اسلامی حکومت اور ولایتِ فقیہ کے نظریے کو نئے انداز سے پیش کیا اور اس کی عملی تعبیر پیش کی۔ ان کے مطابق مکتبِ امام خمینیؒ میں ولایتِ فقیہ، اسلام کے بنیادی احکام میں سے ہے اور اس کے دلائل، عقلی و نقلی دونوں بنیادوں پر قائم ہیں۔
مدرسہ علمیہ امام سجادؑ کے معاونِ آموزش نے فقہِ جواہری پر امام خمینیؒ کے اصرار کا حوالہ دیتے ہوئے صاحبِ جواہر کے اس معروف قول کو نقل کیا کہ: "کأنّه ما ذاق من طعم الفقه شيئاً"؛ یعنی ولایتِ فقیہ کا منکر گویا فقہ کی حقیقت سے آشنا ہی نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا: امام خمینی (رہ) کے نزدیک اسلامی حکومت کا قیام ایک قابلِ حصول اور واجب ہدف ہے، جس کے لیے عملی جدوجہد ضروری ہے۔ امام راحلؒ نے اپنی پوری زندگی اسی مقصد کے لیے صرف کی اور بالآخر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ذریعے اسلامی نظام قائم کیا۔
انہوں نے جمہوریہ اسلامی ایران کو عصرِ حاضر میں ولایت کے عملی مظہر کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس کے تحفظ اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔ نیز شہید مطہری، شہید باہنر، شہید رئیسی، آیت اللہ مصباح یزدی اور دیگر انقلابی شخصیات کو مکتبِ امام خمینیؒ کی تربیت یافتہ شخصیات قرار دیا۔
قابل ذکر ہے کہ پروگرام کا اختتام حضرت امام مہدی (عج) کے ظہور میں تعجیل اور انقلابِ اسلامی ایران کو ان کی عالمی حکومت سے متصل ہونے کی دعا کے ساتھ ہوا۔










آپ کا تبصرہ