حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اپنے پیغام میں آغا سید حسن موسوی صفوی نے کہا کہ عید المباہلہ اسلام میں اہلِ بیتِ اطہارؑ کی روحانی، اعتقادی اور دینی مرکزیت کی تجدید کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعۂ مباہلہ، جس کا ذکر قرآنِ مجید میں سورۂ آلِ عمران (آیت 61) میں موجود ہے، رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیتِ اطہارؑ کے بلند و برتر مقام، طہارت اور قربِ الٰہی کی واضح اور الٰہی دلیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب نجران کے عیسائی وفد کے ساتھ حقیقتِ حضرت عیسیٰؑ کے موضوع پر گفتگو اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آیتِ مباہلہ نازل فرمائی۔ اس موقع پر رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ صرف اپنے برگزیدہ اہلِ بیتؑ کو لے کر میدانِ مباہلہ میں تشریف لائے، جن میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام، سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا، حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عظیم واقعہ پنجتنِ پاک علیہم السلام کی عظمت، طہارت، قربِ رسولؐ اور ان کے خدائی انتخاب کا روشن ثبوت ہے۔
آغا سید حسن موسوی صفوی نے کہا کہ عید المباہلہ صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی ولایت سے تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ یہ دن مؤمنین کو اس اخلاقی، روحانی اور دینی راستے پر ثابت قدم رہنے کی دعوت دیتا ہے جس کی تعلیم امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام، سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا، حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے کردار اور سیرت کے ذریعے دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعۂ مباہلہ ہمیں ایک اور عظیم سبق بھی دیتا ہے کہ حق کی فتح خونریزی اور تصادم کے بغیر بھی ممکن ہے۔ جب نجران کے عیسائی وفد نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپؐ کے اہلِ بیتؑ کے نورانی چہروں، روحانی عظمت اور سچائی کا مشاہدہ کیا تو انہوں نے مباہلہ سے اجتناب کیا اور صلح کو ترجیح دی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ سچائی، اخلاقی قوت، حکمت اور یقین کے ذریعے غالب آتی ہے، نہ کہ تشدد اور جبر کے ذریعے۔
انہوں نے کہا کہ عید المباہلہ عصرِ حاضر کے لیے بھی ایک عظیم پیغام رکھتی ہے کہ اختلافات اور تنازعات کو تقسیم، نفرت اور محاذ آرائی کے بجائے مکالمہ، حکمت، صبر اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
آغا سید حسن موسوی صفوی نے مسلم امہ سے اپیل کی کہ وہ ناانصافی، جھوٹ، تفرقہ اور تعصب سے دور رہتے ہوئے اخلاص، استقامت، عبادت، خیرات اور اخلاقی ذمہ داریوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ واقعۂ مباہلہ کی جڑیں شیعہ عقائد میں گہری ہیں، تاہم اس کا پیغام پوری امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد، اخلاقی بیداری اور روحانی بصیرت کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کشمیر میں پائیدار امن، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہورِ پُرنور کے لیے خصوصی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو عدل، صداقت اور الٰہی رحمت کی شدید ضرورت ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ “عید المباہلہ کو صرف ایک تاریخی یادگار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے ایک زندہ روحانی اور اخلاقی نظامِ فکر کے طور پر اپنانا چاہیے، جو ہمیں اہلِ بیتِ اطہارؑ کی محبت، حق سے وابستگی، پُرامن بقائے باہمی، اجتماعی اتحاد اور عدلِ الٰہی کی امید سے جوڑتا ہے۔”









آپ کا تبصرہ