اتوار 7 جون 2026 - 11:45
مصری سنی عالم: ایران کے خلاف جارحیت کی مخالفت اور اس کی حمایت شرعی فریضہ ہے

حوزہ/ مصر کے ممتاز سنی عالم اور سابق ترجمان وزارت اوقاف مصر، نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی مسلمان ملک پر ہونے والی جارحیت کے مقابلے میں اس کی حمایت کرنا ایک شرعی اور اسلامی فریضہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مصر کے ممتاز سنی عالم اور سابق ترجمان وزارت اوقاف مصر، نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی مسلمان ملک پر ہونے والی جارحیت کے مقابلے میں اس کی حمایت کرنا ایک شرعی اور اسلامی فریضہ ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شیخ سلامہ عبدالقوی نے اپنے یوٹیوب چینل پر جاری ایک بیان میں کہا کہ موجودہ تنازع کو خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان جنگ قرار دینا درست نہیں۔ ان کے بقول ایران ایک مسلمان ملک ہے اور جب کسی مسلمان ملک کو غیر مسلم طاقتوں کی جانب سے نشانہ بنایا جائے تو اسلامی تعلیمات مسلمانوں کو مظلوم اور موردِ حملہ فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کا حکم دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی حمایت کسی سیاسی وابستگی یا فرقہ وارانہ جھکاؤ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں کے تحت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کل امریکہ سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات پر حملہ کرے تو وہ اسی اصول کے تحت ان ممالک کے ساتھ بھی کھڑے ہوں گے، کیونکہ اسلام میں مظلوم اور موردِ جارحیت فریق کی حمایت کو اہمیت دی گئی ہے۔

مصری عالم نے مزید کہا کہ اگر ایران امریکی مفادات کے خلاف کوئی اقدام کرتا ہے تو اسے اپنے دفاع کے حق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ دفاعِ مشروع کو اسلامی فقہ اور بین الاقوامی قانون دونوں تسلیم کرتے ہیں۔

شیخ عبدالقوی نے فلسطین اور غزہ کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے بعض عرب حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایران نے فلسطینی عوام اور مزاحمتی قوتوں کی حمایت کی ہے، جس پر کم از کم اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے عرب دنیا میں ان آوازوں کا خیرمقدم کیا جو ایران کے ساتھ تصادم کی مخالفت کرتی ہیں اور اسے سیاسی بصیرت اور دانشمندی قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مذہبی اور سیاسی اختلافات کو اخلاقی اور شرعی ذمہ داریوں پر غالب نہیں آنا چاہیے۔

شیخ سلامہ عبدالقوی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ مسلمان ہمیشہ مظلوم اور موردِ تجاوز فریق کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، نہ کہ جارح اور حملہ آور قوتوں کے ساتھ، اور حق جہاں بھی ہوگا وہ اسی کے ساتھ ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha