حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، زیارتِ عاشورا میں موجود جملہ «اللهم اجعل محیای محیا محمد و آل محمد و مماتی ممات محمد و آل محمد» اسلامی طرزِ زندگی کا ایک جامع منشور ہے، جو انسان کو عقیدہ، اخلاق اور عملی زندگی کے ہر شعبے میں اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت کی پیروی کی دعوت دیتا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین جواد محدثی نے اس جملے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ "محیا" اور "ممات" سے مراد صرف زندگی اور موت نہیں بلکہ زندگی گزارنے اور دنیا سے رخصت ہونے کا انداز ہے۔ اس دعا میں مومن خدا سے درخواست کرتا ہے کہ اس کی پوری زندگی اور موت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام کے نقشِ قدم پر ہو۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی زندگی کے تین بنیادی پہلو ہیں: عقائد، اخلاق و کردار، اور احکامِ شرعیہ۔ حقیقی پیروکار وہ ہے جس کے عقائد، اخلاقی رویے اور عملی زندگی اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق ہوں۔
حجت الاسلام والمسلمین محدثی نے حضرت عبدالعظیم حسنیؒ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے عقائد کی صحت جانچنے کے لیے انہیں امام ہادی علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو اپنے عقائد کو ہمیشہ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے معیار پر پرکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دین صرف زبانی دعووں یا رسمی عبادات کا نام نہیں بلکہ تکلیف اور ذمہ داری پر مبنی طرزِ حیات ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی کربلا کے سفر میں یہی تعلیم دی کہ کامیابی اور شہادت دونوں صورتوں میں اصل اہمیت خدا کے حکم پر عمل کرنے کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی زندگی عزت، استقامت، عبادت، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور رضائے الٰہی کے لیے قربانی سے عبارت تھی۔ امام حسین علیہ السلام کا یہ فرمان کہ "عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے" اسی فکر کا مظہر ہے۔
انہوں نے احادیثِ اہلِ بیتؑ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دوسروں کو نقصان پہنچانا، ہمسایوں کے حقوق ادا نہ کرنا اور روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ نہ کرنا اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ زیارتِ عاشورا پڑھنے والوں کو اپنے عقائد، کردار اور طرزِ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ ان کی زندگی واقعی سیرتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی عکاس بن سکے۔









آپ کا تبصرہ