مباہلہ کے ذریعے امام کاظم علیہ السلام کی اتمامِ حجت!

حوزہ/حضرت امام موسیٰ بن جعفر (کاظم) علیہ السلام نے فرمایا: ہارون الرشید نے حکم دیا کہ مجھے مدینہ سے (بغداد) اس کے پاس لایا جائے، ایک جلسه میں اس نے مجھ سے پوچھا: "آپ اپنے شیعوں کو اس بات سے کیوں نہیں روکتے کہ وہ آپ کو "یا بن رسول اللہ" (اے اللہ کے رسول کے بیٹے) کہیں اور آپ کو پیغمبر کی اولادکهه کر پکاریں؟ جبکہ آپ لوگ علی کی اولاد ہیں اور فاطمہ تو صرف ایک ظرف (ذریعہ) تھیں، اور اولاد کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے نہ کہ ماں کی طرف۔

تحریر: عابد رضا

حوزہ نیوز ایجنسی| حضرت امام موسیٰ بن جعفر (کاظم) علیہ السلام نے فرمایا: ہارون الرشید نے حکم دیا کہ مجھے مدینہ سے (بغداد) اس کے پاس لایا جائے، ایک جلسه میں اس نے مجھ سے پوچھا: "آپ اپنے شیعوں کو اس بات سے کیوں نہیں روکتے کہ وہ آپ کو "یا بن رسول اللہ" (اے اللہ کے رسول کے بیٹے) کہیں اور آپ کو پیغمبر کی اولادکهه کر پکاریں؟ جبکہ آپ لوگ علی کی اولاد ہیں اور فاطمہ تو صرف ایک ظرف (ذریعہ) تھیں، اور اولاد کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے نہ کہ ماں کی طرف۔

امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں سورہ انعام کی آیت ۸۴ تلاوت فرمائی:"وَ وَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ وَ يَعْقُوبَ كُلًّا هَدَيْنا وَ نُوحاً هَدَيْنا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ داوُدَ وَ سُلَيْمانَ ... وَ زَكَرِيَّا وَ يَحْيى‌ وَ عِيسى‌" اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو ہدایت دی اور اس سے پہلے نوح کو ہدایت دی اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان... اور زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ کو (ہدایت دی)۔

پھر امامؑ نے ہارون سے پوچھا: "عیسیٰ کا باپ کون تھا؟"

ہارون نے کہا: ان کا کوئی باپ نہیں تھا، وہ اللہ کے کلام اور روح القدس سے پیدا ہوئے تھے۔"

امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: "جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماں (حضرت مریم) کی طرف سے انبیاء کی اولاد شمار کیا گیا ہے، ویسے ہی ہمیں بھی ہماری ماں فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے ذریعے انبیاء کی اولاد میں شامل کیا گیا ہے"۔

ہارون نے (متاثر ہو کر) کہا: " بہت خوب؛ مجھے کوئی اور دلیل بھی دیجئے!"

امام علیہ السلام نے فرمایا:"تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی، تو رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کے علاوہ کوئی اور موجود نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا:"فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُم" (آل عمران/۶۱) پس اے پیغمبر! علم(دلیل) آ جانے کے بعد جو لوگ آپ سے جھگڑا کریں، تو آپ کہہ دیجیے کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں تم اپنی عورتوں کو بلاؤ، اور ہم اپنے نفسوں (جانوں) کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ۔

پس اس آیت میں 'اَبْنَآئَنَا' (ہمارے بیٹے) سے مراد حسن اور حسین ہیں، 'نِسَآئَنَا' (ہماری عورتیں) سے مراد فاطمہ ہیں، اور 'اَنْفُسَنَا' (ہمارے نفس) سے مراد علی بن ابی طالب (علیہم السلام) ہیں"۔

ہارون لاجواب اور عاجز ہو کر بولا:" بہت خوب"۔

حوالہ: الإختصاص (شیخ مفید)، صفحہ: ۵۶

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha