جمعرات 11 جون 2026 - 15:48
عصرِ رواں کے آئینے میں مباہلہ صحیفۂ صداقت

حوزہ/عیدِ مباہلہ تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جس میں حق و باطل آمنے سامنے آئے، صداقت نے اپنی حجتِ کاملہ پیش کی اور باطل اپنے انجام سے خوف زدہ ہو کر پسپا ہو گیا۔ یہ دن فقط ایک تاریخی واقعہ کی یادگار نہیں بلکہ سچائی، دیانت، جرأتِ اظہارِ حق اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی عظمتِ بے مثال کا زندہ منشور ہے۔

تحریر: مولانا گلزار جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| عیدِ مباہلہ تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جس میں حق و باطل آمنے سامنے آئے، صداقت نے اپنی حجتِ کاملہ پیش کی اور باطل اپنے انجام سے خوف زدہ ہو کر پسپا ہو گیا۔ یہ دن فقط ایک تاریخی واقعہ کی یادگار نہیں بلکہ سچائی، دیانت، جرأتِ اظہارِ حق اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی عظمتِ بے مثال کا زندہ منشور ہے۔

ارشادِ ربانی ہے: ﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ﴾ "کہہ دیجیے: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو، ہم اپنے نفسوں کو بلائیں اور تم اپنے نفسوں کو، پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیں۔

مباہلہ در حقیقت آسان زبان میں مختصر اور پر اثر یہ ہیکہ صداقت کی فتح اور جھوٹ کی شکست کا دن ہے۔ ملکِ عزیز کی موجودہ فضا میں اس دن کو بڑی شان و شوکت کے ساتھ مناتے ہوئے صداقت کی سرمدیت، لازوالیت اور ابدیت، نیز جھوٹ، فریب، شکست اور ناکامی کی داستان کو بیان و قلم کی تمام تر توانائیوں کے ساتھ آشکار کرنا چاہیے۔ جھوٹوں پر مسلسل نفرین و لعنت کرتے ہوئے سچائی کے دامن کو تھامنے کی وصیت و نصیحت ہر فرد پر لازم و ضروری ہے۔

عصرِ رواں میں جس طرح چینلوں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے جھوٹ پروسا جا رہا ہے، ملمع سازی کے ذریعے حقائق کو روندا جا رہا ہے، انسانی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے، فرقہ وارانہ فساد کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں، ظلم کو عدل، عیب کو حسن، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کا لباس پہنایا جا رہا ہے، دولت و شہرت کے حصول کے لیے ضمیر فروشی عام کی جا رہی ہے، طاغوت کی آغوش میں بیٹھ کر سچائی کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور کذب بیانی کا زہر معاشرے میں گھولا جا رہا ہے، تو اس کا علاج صرف صداقت کا تریاق ہے اور کچھ نہیں؛ اس لیے کہ ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ دکھائی دیتا ہے۔

سیاست میں جھوٹ،
تجارت میں جھوٹ،
صحافت میں جھوٹ،
وزارت میں جھوٹ،
قضاوت میں جھوٹ،
عدالت میں جھوٹ،
قرابت میں جھوٹ،
روایات میں جھوٹ،
عنایات میں دکھاوے کا جھوٹ،
سخاوت میں ریاکاری کا جھوٹ،
شجاعت میں خودپسندی کا جھوٹ،
درسیات میں عجب پسندی کا جھوٹ،
مملکت میں دھاندلی کا جھوٹ، امتحانات میں پیپر لیک کا جھوٹ
مسیحائی اور ڈاکٹری میں لوٹ مار کا جھوٹ، اور دینی اداروں میں بھی اشتباہِ خوردنی کا سفید جھوٹ۔

جب سماج کے ہر گوشے میں جھوٹ کا بول بالا ہو تو مباہلہ کا جشن پوری شدت اور شعوری وابستگی کے ساتھ منا کر صداقت کے شفاف چہروں کو دکھانا ضروری ہے۔ یہ فقط ایک عید ہی نہیں بلکہ ایک عہد و پیمان بھی ہے، اور یہی عہد ایک نئے دور کا متقاضی ہے۔
اس معرکہ مباہلہ میں لڑائی اسلحوں کی نہیں تھی بلکہ کرداروں کی تھی، اور عصرِ حاضر میں بھی اصل جنگ یہی ہے۔ آج اسلحوں سے کہیں زیادہ اصلاحِ معاشرہ کے لیے کردار سازی اور تربیتِ نفس کی ضرورت ہے۔ تہذیبِ انسانی اپنی منزلِ تکمیل تک اسی وقت پہنچ سکتی ہے جب ہر طرف صدق و صفا کا راج ہوگا؛ تبھی بشریت معراج سے ہمکنار ہوگی۔

جھوٹ اور فریب کی سزا لعنت ہے، اور لعنت رحمتِ الٰہی سے دوری کا نام ہے۔ اسلحوں کے زخم جسموں پر لگتے ہیں اور وقت کے ساتھ مندمل ہو جاتے ہیں، مگر لعنت کے زخم نسلوں تک منتقل ہوتے رہتے ہیں اور ان کے اندمال کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی۔

اسی لیے اُس دور کی عیسائیت نے اس عذاب سے بچنے کے لیے مباہلہ قبول نہ کیا اور جزیہ دے کر ابدی لعنت سے بظاہر بچ گئی، مگر کذب بیانی کے طوقِ گراں بار کو گلے میں ڈالے رہی اور اپنی شکستِ فاش کا اعتراف کر لیا۔ آیتِ مباہلہ کا قیامت تک باقی رہنا اس حقیقت کی علامت ہے کہ ہر وہ قوم، قبیلہ، حزب، پارٹی اور خانوادہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے جس کے دہن صرف جھوٹ کے لیے کھلتے ہیں۔

صداقت معیارِ کامیابی ہے اور کذب علامتِ انحطاط۔صداقت آبرو مندانہ حیات ہے اور جھوٹ ذلت آمیز زندگی۔ سچ بقائے آدمیت کی دلیل ہے اور جھوٹ اعتباراتِ حیات کا قاتل۔

سچ سکون ہے اور جھوٹ بے چینی۔
سچ عشق ہے اور جھوٹ نفرت۔
سچ صفتِ محمود ہے اور جھوٹ صفتِ مذموم۔
سچ رحمان کی خوشنودی ہے اور جھوٹ شیطان کی علامت، کرب اور بے چینی کا سر چشمہ۔
سچ حسینیت ہے اور جھوٹ یزیدیت۔
سچائی صبر ہے اور جھوٹ جبر و ستم۔

مباہلہ سچائی کی جیت اور جھوٹ کی ہار کا نام ہے۔ لہٰذا جو سچ کا ساتھ دے گا وہی سچوں کے ساتھ ہوگا، اور جو جھوٹ اور جھوٹوں سے محبت کا دعویٰ کرے گا وہ دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوگا۔ اب فیصلہ اہلِ خرد کے حوالے ہے۔

جب ہم آیتِ مباہلہ پر غور و خوض کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا آغاز ان افراد کی مذمت سے ہوتا ہے جو علم و آگہی، برہان و دلیل کے آجانے کے بعد بھی کٹ حجتی کرتے ہیں؛ یعنی اپنی غلط بات پر ہٹ دھرمی اختیار کرنا، اور اس غلط کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دینا۔ آیت کے سیاق و سباق سے قطعِ نظر بھی یہ نکتہ نہایت قابلِ تأمل ہے۔ نہ جانے کتنے ایسے افراد ہیں جو خود کو باشعور کہلوانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اس لا علاج مرض میں مبتلا ہیں۔ خداوندِ عالم سب کو اس آفت سے محفوظ رکھے

واقعۂ مباہلہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حق کو دلیل کی قوت حاصل ہوتی ہے جبکہ باطل کو ہمیشہ فریب، شور اور پروپیگنڈے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تاریخ کا فیصلہ آج بھی وہی ہے جو میدانِ مباہلہ میں ہوا تھا؛ صداقت سربلند ہے اور کذب سرنگوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں صدق و امانت کو شعار بنائیں، کیونکہ سچائی ہی نجات کا راستہ اور رضائے الٰہی کا وسیلہ ہے۔

خداوندِ عالم ہمیں اہلِ صداقت کے قافلے میں شامل فرمائے اور ہر قسم کے کذب، نفاق اور فریب سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین

  • غدیر آیتوں کے جھرمٹ میں

    غدیر آیتوں کے جھرمٹ میں

    حوزہ/غدیر اسلام کی عظیم عیدوں میں سب سے بڑی عید ہے اور اس اہمیت اور ضرورت قرآن سے بھی ثابت ہے۔

  • سولی کا منبر اور میثم تمار

    سولی کا منبر اور میثم تمار

    حوزہ/حضرت میثم تمار علیہ الرحمہ وہ جری و بہادر، وہ سورما و دلیر و شیر غضنفر وہ عظیم شخصیت جس نے تکلم کی دہلیز پر قدم رکھ کر حق و حقانیت کے پرچم کو بلند…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha