20 ذی الحجہ یومِ وفاتِ رئیس الواعظین مولانا سید کرار حسین واعظ؛ منبرِ ولایت کا آتش نوا، قلمِ حق کا مجاہد اور شعورِ ملت کا معمار

حوزہ/تاریخِ ملت میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جو صرف اپنے عہد کی ضرورت نہیں ہوتیں بلکہ آنے والے زمانوں کی فکری ضرورت بن جاتی ہیں۔ وہ محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ایک دبستانِ فکر، ایک مستقل تحریک اور ایک زندہ پیغام ہوتی ہیں۔ ان کی موجودگی سے زمانے کی فضا بدلتی ہے، اور ان کی رحلت کے بعد بھی ان کے نقوش اہلِ بصیرت کے لیے راستے متعین کرتے رہتے ہیں۔ رئیس الواعظین مولانا سید کرار حسین واعظ ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے۔

تحریر: سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ ملت میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جو صرف اپنے عہد کی ضرورت نہیں ہوتیں بلکہ آنے والے زمانوں کی فکری ضرورت بن جاتی ہیں۔ وہ محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ایک دبستانِ فکر، ایک مستقل تحریک اور ایک زندہ پیغام ہوتی ہیں۔ ان کی موجودگی سے زمانے کی فضا بدلتی ہے، اور ان کی رحلت کے بعد بھی ان کے نقوش اہلِ بصیرت کے لیے راستے متعین کرتے رہتے ہیں۔ رئیس الواعظین مولانا سید کرار حسین واعظ ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے۔
وہ علم کے مسافر بھی تھے اور عمل کے راہی بھی۔ قلم کے مجاہد بھی تھے اور منبر کے سپاہی بھی۔ فکر کے معمار بھی تھے اور تحریک کے علمبردار بھی۔ ان کی پوری زندگی تبلیغِ دین، دفاعِ ولایت، احیاءِ شعور اور بیداریِ ملت کی ایک مسلسل داستان ہے۔ اگر ان کی زندگی کے مختلف گوشوں کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری عمر علمِ آلِ محمدؐ کے چراغ جلانے اور جہالت کی تاریکیوں سے جنگ کرنے میں بسر کر دی۔
ان کا وجود اس حقیقت کی زندہ تفسیر تھا کہ جب علم اخلاص سے مل جاتا ہے تو شخصیت ایک ادارہ بن جاتی ہے۔ ان کی گفتگو میں استدلال کی قوت تھی، ان کے لہجے میں یقین کی حرارت تھی، ان کی فکر میں ولایت کی روشنی تھی اور ان کے کردار میں خدمتِ دین کا اخلاص موجزن تھا۔ وہ ان خطباء میں سے نہ تھے جو سامعین کو وقتی طور پر متاثر کر کے رخصت ہو جائیں بلکہ ان کا انداز ایسا تھا کہ سننے والا مجلس سے اٹھتا تو اس کے ذہن میں سوالات بھی جاگ چکے ہوتے، فکر بھی بیدار ہو چکی ہوتی اور عقیدے میں تازگی بھی پیدا ہو جاتی۔
منبر پر ان کی شخصیت دیکھنے والوں کے لیے ایک منفرد منظر ہوتی تھی۔ بلند آہنگ آواز، پُروقار نشست، جلال سے آمیختہ وقار، اور الفاظ کی ایسی ترتیب کہ معلوم ہوتا جیسے علم و حکمت کے موتی ایک منظم لڑی میں پروئے جا رہے ہوں۔ جب وہ گفتگو شروع کرتے تو سامعین کو محسوس ہوتا کہ تاریخ بول رہی ہے، استدلال گفتگو کر رہا ہے اور ولایت اپنا تعارف پیش کر رہی ہے۔ ان کی خطابت میں جذبات بھی تھے مگر جذبات عقل کے تابع تھے، ولولہ بھی تھا مگر حکمت کے دائرے میں تھا، شدت بھی تھی مگر دلیل کے ساتھ تھی۔
وہ ان نادر خطباء میں سے تھے جنہوں نے منبر کو محض مرثیہ خوانی یا داستان گوئی جملہ بازی کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے فکری تربیت، دینی بیداری اور شعورِ ولایت کی درسگاہ بنا دیا۔ ان کی مجالس میں قرآن بھی ہوتا تھا، حدیث بھی ہوتی تھی، تاریخ بھی ہوتی تھی، فلسفہ بھی ہوتا تھا اور عصرِ حاضر کے مسائل کا تجزیہ بھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے سامعین میں عوام بھی ہوتے تھے اور اہلِ علم بھی، نوجوان بھی ہوتے تھے اور بزرگ بھی۔
مولانا سید کرار حسین واعظ کی شخصیت کا دوسرا عظیم پہلو ان کا قلم تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے لوگ اچھے مقرر ہوتے ہیں مگر قلم ان کا ساتھ نہیں دیتا، اور بہت سے لوگ اچھے مصنف ہوتے ہیں مگر منبر پر وہ تاثیر پیدا نہیں کر پاتے۔ مگر مولانا کرار حسین ان خوش نصیب ہستیوں میں شامل تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے زبان کی قوت بھی عطا کی تھی اور قلم کی عظمت بھی۔ ان کی تحریروں میں تحقیق کی دقاقت و گہرائی، استدلال کی مضبوطی، مطالعے کی وسعت اور زبان کی دلکشی بیک وقت جمع تھی۔
انہوں نے اپنی تصانیف کے ذریعے نہ صرف عقائدِ حقہ کا دفاع کیا بلکہ فکری یلغاروں اور نظریاتی حملوں کا ایسا مدلل، محققانہ اور مؤثر جواب دیا جو آج بھی اہلِ علم و تحقیق کے نزدیک قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی کتابیں محض کاغذ کے چند اوراق نہیں بلکہ حق و باطل کی معرکہ آرائی میں قائم ہونے والے علمی مورچے تھیں۔ خدیجہ ملکۃ العرب میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی عظمت و خدمات کا تابناک تذکرہ، اُمّ المؤمنین عائشہ میں تاریخ کے حساس ابواب کا تحقیقی جائزہ، ہابیل و قابیل میں حق و باطل کی ازلی کشمکش کا فلسفیانہ و تاریخی مطالعہ، نور و نار میں ہدایت و ضلالت کے دو متقابل راستوں کی وضاحت، سازش میں واقعۂ قرطاس اور تاریخِ اسلام کے اہم سیاسی نشیب و فراز کا مدلل تجزیہ، باغی میں باغِ فدک، خلافت اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے اہم مسائل پر عمیق بحث، مجرم میں تاریخی کرداروں کا بے لاگ احتساب، تاریخِ شیعہ میں مکتبِ اہلِ بیتؑ کی علمی و تاریخی خدمات کا جامع بیان، ولی اللہ میں ولایت و امامت کے روشن دلائل، دلیلِ عزا میں شعائرِ حسینی کی عقلی، نقلی اور شرعی بنیادوں کا استدلال، اور نماز میں اسرارِ عبادت، فلسفۂ بندگی اور آدابِ پرستش کی دل نشین تشریح—یہ سب تصانیف اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ مولانا کرار حسین واعظ محض ایک خطیب نہیں بلکہ صاحبِ قلم محقق، صاحبِ نظر مفکر اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کے نڈر مدافع تھے۔ ہر کتاب میں ایک محقق کی ژرف نگاہ، ایک مناظر کی قوتِ استدلال، ایک ادیب کی لطافتِ بیان اور ایک عاشقِ اہلِ بیتؑ کے دل کا سوز موجزن نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں نے ہزاروں اذہان کی رہنمائی کی، بے شمار شبہات کا ازالہ کیا اور شعورِ ولایت کی شمع کو نسل در نسل روشن رکھا۔
اگر مناظرے کے میدان کا ذکر کیا جائے تو مولانا کرار حسین کا نام صفِ اول کے مناظرین میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے مناظرے شور و غوغا کا نمونہ نہیں ہوتے تھے بلکہ علمی وقار، تحقیقی استدلال اور منطقی ترتیب کا شاہکار ہوتے تھے۔ مخالف جب ان کے سامنے آتا تو اسے جلد احساس ہو جاتا کہ وہ صرف ایک خطیب کے سامنے نہیں بلکہ ایک وسیع المطالعہ عالم، باریک بین محقق اور حاضر جواب مفکر کے روبرو ہے۔
مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ کے ساتھ ان کی رفاقت اور دوستی بھی تاریخِ تشیع کا ایک روشن باب ہے۔ دونوں شخصیات کا مقصد ایک تھا، فکر ایک تھی، درد ایک تھا اور منزل بھی ایک تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب تنظیم المکاتب جیسی عظیم دینی تحریک کی بنیاد رکھی گئی تو مولانا کرار حسین واعظ اس کے ابتدائی معماروں میں شامل تھے۔ انہوں نے صرف انتظامی تعاون ہی نہیں دیا بلکہ اپنی علمی قوت، خطیبانہ صلاحیت اور فکری بصیرت کو بھی اس تحریک کی کامیابی کے لیے وقف کر دیا۔
تنظیم المکاتب کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ادارے کے قیام، استحکام، فروغ اور وسعت میں مولانا کرار حسین کی خدمات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے ادارے کو صرف ایک تنظیم نہیں سمجھا بلکہ اسے ملتِ جعفریہ کی فکری بقا اور دینی تربیت کا ذریعہ قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے زندگی بھر اس مشن کو اپنے دل سے لگائے رکھا اور اس کی کامیابی کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔
ان کی پوری زندگی حق گوئی، جرأت اور استقامت کی تصویر تھی۔ انہوں نے کبھی مصلحتوں کے بتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ باطل جہاں بھی نظر آیا، اس کے خلاف آواز بلند کی۔ فتنہ جہاں بھی دکھائی دیا، اس کی نشان دہی کی۔ تحریف جہاں بھی محسوس ہوئی، اس کا علمی تعاقب کیا۔ وہ جانتے تھے کہ خاموشی بعض اوقات جرم بن جاتی ہے، اس لیے انہوں نے زندگی بھر حق کا عَلَم بلند رکھا۔
آج جب ہم مولانا سید کرار حسین واعظ کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک عہد ہماری نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے۔ ایسا عہد جس میں منبر علم کا مرکز تھا، قلم جہاد کا ہتھیار تھا، اور تبلیغ خدمتِ دین کا نام تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی سے یہ سبق دیا کہ عالم کا اصل مقام صرف کتابوں میں نہیں بلکہ ملت کی رہنمائی میں ہے، اور خطیب کی اصل عظمت صرف مجمع جمع کرنے میں نہیں بلکہ ذہنوں کو بیدار کرنے میں ہے۔
ان کی رحلت کے بعد اگرچہ ان کی آواز خاموش ہو گئی، مگر ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ ان کی کتابیں آج بھی بول رہی ہیں، ان کی فکر آج بھی رہنمائی کر رہی ہے، ان کی خدمات آج بھی یاد کی جا رہی ہیں اور ان کا نام آج بھی احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا سید کرار حسین واعظ ان لوگوں میں سے تھے جو مر کر بھی نہیں مرتے، کیونکہ ان کی زندگی علم میں ڈھل جاتی ہے، ان کا کردار تاریخ میں محفوظ ہو جاتا ہے اور ان کی فکر نسلوں کی میراث بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس مردِ مجاہد، خطیبِ باکمال، ادیبِ بلند مقام، مدافعِ ولایت اور خادمِ ملت کے درجات بلند فرمائے، ان کے علمی و دینی کارناموں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ملتِ جعفریہ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے والی ایسی ہی بااخلاص، باجرئت اور صاحبِ بصیرت شخصیات عطا فرماتا رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha