حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے ممتاز جعفری مفتی اور شیعہ عالم دین حجت الاسلام شیخ احمد قبلان نے ایک بیان میں کہا: کوئی بھی جنگ بندی یا راستہ جو ہمیں نتیجے تک پہنچائے اور طاقت کے نئے توازن کو مستحکم کرنے کے لیے جو کچھ ضروری ہے، وہ دو اہم عوامل سے پیدا ہوتا ہے: مقاومت کی استقامت اور ایران کی دہشت گرد اسرائیل کے خلاف جنگ میں داخل ہونے کی سنگین دھمکی۔
انہوں نے کہا: لبنای پارلیمنٹ کے سربراہ نبیہ بری نے اس حساب و کتاب کے ساتھ ایک مضبوط مقاومت کی تعمیر کی جس نے لبنان کی حکومت اور اس کے تاریخی عقائد کو سیاسی حکومت کے سستے سودے سے محفوظ رکھا۔
شیخ قبلان نے کہا: یہ منظر اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ ہمیں اساطیری جنگی میدانوں کے قلب میں لے آتا ہے جو مقاومت نے پچھلے تین ماہ میں سرحدوں کے جنوبی حصے میں 4 سے 8 کلومیٹر کے پٹی میں گزارے ہیں۔ ان علاقوں میں جہاں دہشت گرد اسرائیل کے درجنوں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر فوجی ساز و سامان تباہ، پاش پاش اور جلا دیے گئے۔ اس کے علاوہ، آنے والے دن صیہونی فوج کے ہزاروں افسروں اور سپاہیوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی حقیقی جہتوں کو ظاہر کریں گے۔
لبنانی جعفری مفتی نے کہا: مقاومت پوری دنیا کو ثابت کر دے گی کہ یہ ایک اساطیری قومی جنگی قوت ہے، ایک استثنائی علاقائی طاقت ہے اور علاقائی طاقت اور اس کے نئے ڈھانچے کا ایک مرکزی حصہ ہے۔ ہم ایران کے ساتھ اپنے ابدی تعلقات پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ایران وہ ملک ہے جس نے اس وقت لبنان اور مقاومت کی مدد کی جب قریب اور دور سب نے ان سے خیانت کی تھی۔









آپ کا تبصرہ