القابات علماء اور مقام معصومین (ع)

حوزہ/آج کل بعض حلقوں میں یہ اعتراض بار بار سننے کو ملتا ہے کہ “امام”، “مولانا”، “ثقہ”، “حجۃ الاسلام” اور “آیت اللہ” جیسے القابات صرف چہاردہ معصومین علیہم السلام کے لیے مخصوص ہیں، لہٰذا کسی عالمِ دین یا فقیہ کے لیے ان کا استعمال درست نہیں۔ بعض اوقات اس اعتراض کو اس شدت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے گویا ان الفاظ کا استعمال عقیدۂ امامت کے خلاف یا مقامِ اہل بیتؑ میں کمی کا باعث ہو۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| آج کل بعض حلقوں میں یہ اعتراض بار بار سننے کو ملتا ہے کہ “امام”، “مولانا”، “ثقہ”، “حجۃ الاسلام” اور “آیت اللہ” جیسے القابات صرف چہاردہ معصومین علیہم السلام کے لیے مخصوص ہیں، لہٰذا کسی عالمِ دین یا فقیہ کے لیے ان کا استعمال درست نہیں۔ بعض اوقات اس اعتراض کو اس شدت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے گویا ان الفاظ کا استعمال عقیدۂ امامت کے خلاف یا مقامِ اہل بیتؑ میں کمی کا باعث ہو۔

لیکن اگر اس مسئلے کو جذبات کے بجائے قرآن، حدیث، لغت اور امتِ مسلمہ کی علمی روایت کی روشنی میں دیکھا جائے تو حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ عربی زبان میں الفاظ کا ایک لغوی معنی ہوتا ہے اور پھر ان کے مختلف مصادیق ہوتے ہیں۔ بعض مصادیق عام ہوتے ہیں اور بعض کامل و اعلیٰ۔

مثال کے طور پر “امام” کا لفظ رہنما اور پیشوا کے معنی میں آتا ہے۔ قرآن مجید نے یہ لفظ انبیاء علیہم السلام کے لیے بھی استعمال کیا ہے:
﴿وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا﴾ (الأنبياء: 73)
اور گمراہ پیشواؤں کے لیے بھی: ﴿وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ﴾ (القصص: 41)
اس سے واضح ہے کہ “امام” ایک عمومی لفظ ہے، اگرچہ اس کا کامل ترین مصداق ائمۂ اہل بیت علیہم السلام ہیں۔ یہی اصول دیگر القابات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

“مولانا” دراصل “مولیٰ” سے بنا ہے، جس کے معنی سرپرست، مددگار اور دوست کے ہیں۔ قرآن نے خود اللہ تعالیٰ کے لیے فرمایا: ﴿نِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ﴾ (الأنفال: 40)
چنانچہ کسی عالمِ دین کو “مولانا” کہنا الوہیت یا عصمت کا دعویٰ نہیں بلکہ احترام اور دینی نسبت کا اظہار ہے۔

اسی طرح “آیت اللہ” کا مطلب “اللہ کی نشانی” ہے۔ قرآن کے مطابق پوری کائنات اللہ کی آیات سے بھری ہوئی ہے: ﴿وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ﴾ (الذاريات: 20)
لہٰذا اگر دین کا کوئی بزرگ عالم اپنی زندگی علم، تقویٰ اور ہدایتِ خلق میں صرف کرے تو اسے “آیت اللہ” کہنا ایک عرفی اور علمی تعبیر ہے، نہ کہ کوئی عقیدتی منصب۔

“ثقہ” کا لفظ تو علمِ رجال کی بنیادی اصطلاحات میں سے ہے، جس کا مطلب صرف “قابلِ اعتماد” ہے۔ شیعہ اور سنی دونوں مکاتب کی رجالی کتب ایسے سیکڑوں بلکہ ہزاروں افراد کے تذکروں سے بھری ہوئی ہیں جنہیں “ثقہ” قرار دیا گیا ہے۔ کسی نے کبھی اسے مقامِ عصمت کا مترادف نہیں سمجھا۔
اسی طرح “حجۃ الاسلام” کے عنوان پر بھی غور ہونا چاہیے۔ اگرچہ “حجۃ اللہ” کا کامل ترین مصداق امامِ معصومؑ ہیں، لیکن علماء کے لیے “حجۃ الاسلام” کا لقب اس معنی میں استعمال ہوتا ہے کہ وہ دین کے علمی محافظ اور اسلام کے دلائل کے ترجمان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امامِ عصر علیہ السلام نے اپنی مشہور توقیع میں فرمایا:
وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَىٰ رُوَاةِ أَحَادِيثِنَا، فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ۔
(الکافی، ج1، ص67؛ کمال الدین، ج2، ص483؛ الغیبۃ للطوسی، ص177)
یعنی پیش آنے والے مسائل میں ہمارے راویوں اور علماء کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں ان پر اللہ کی حجت ہوں۔

اس کے ساتھ امام حسن عسکری علیہ السلام کا یہ فرمان بھی قابلِ توجہ ہے:
فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ صَائِنًا لِنَفْسِهِ… فَلِلْعَوَامِّ أَنْ يُقَلِّدُوهُ۔(وسائل الشیعہ، ج27، ص131)

اگر اہل بیتؑ نے فقہاء کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دین میں علماء کی ایک معتبر اور محترم حیثیت موجود ہے۔
البتہ ایک بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ کوئی عالم، فقیہ یا رہبر خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، وہ معصوم نہیں ہوتا۔ عصمت، منصوص امامت اور حجیتِ مطلقہ صرف ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کا حق ہے۔ ان کے مقام کو کسی دوسرے کے لیے ثابت کرنا یقیناً غلو اور عقیدتی انحراف ہے۔ لیکن دوسری طرف علماء کے علمی و دینی مقام کا انکار کرنا یا ان کے لیے رائج علمی القابات کو شرک و گمراہی قرار دینا بھی انصاف اور علمی دیانت کے خلاف ہے۔
دینِ اہل بیتؑ کا مزاج افراط و تفریط نہیں بلکہ اعتدال ہے۔ یہی اعتدال ہمیں سکھاتا ہے کہ معصومینؑ کے بے مثال مقام کو محفوظ رکھتے ہوئے علماءِ ربانیین کی علمی خدمات اور دینی منزلت کا بھی اعتراف کیا جائے۔ الفاظ پر نزاع اور اختلاف و انتشار پیدا کرنے کے بجائے اصل توجہ علم، تقویٰ، کردار اور حق کی خدمت پر ہونا چاہیے، کیونکہ اہل بیتؑ نے ہمیں شخصیات کے ناموں سے زیادہ ان کے اوصاف اور اعمال کو معیار بنانا سکھایا ہے۔

  • قربانی کی عبادت، معیشت کا فروغ

    قربانی کی عبادت، معیشت کا فروغ

    حوزہ/انسانی تہذیب کی تاریخ میں بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ظاہری قالب سے کہیں زیادہ گہرے معانی اور ہمہ جہت اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی حقیقت محض…

  • قربانی تو ہو گئی؛ مگر “میں” رہ گئی

    قربانی تو ہو گئی؛ مگر “میں” رہ گئی

    حوزہ/ عید گزر گئی۔ قربان گاہیں آباد ہوئیں، چھریاں چلیں، جانور ذبح ہوئے، تکبیروں کی صدائیں بلند ہوئیں، گوشت تقسیم ہوا، تصاویر بنیں، مبارک بادوں کا تبادلہ…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha