منگل 2 جون 2026 - 21:09
موجودہ حالات میں مسلمان باہمی اتحاد و اخوت اور اسلامی اقدار کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کریں: امام جمعہ سکردو

حوزہ/امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے موجودہ ملکی اور عالمی حالات کے پیشِ نظر ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ باہمی اتحاد، اخوت، بھائی چارے، صبر و تحمل اور اسلامی اقدار کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف باہمی وحدت، احترامِ متقابل اور مشترکہ اسلامی اقدار کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے موجودہ ملکی اور عالمی حالات کے پیشِ نظر ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ باہمی اتحاد، اخوت، بھائی چارے، صبر و تحمل اور اسلامی اقدار کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف باہمی وحدت، احترامِ متقابل اور مشترکہ اسلامی اقدار کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں ایک دوسرے کے احترام، عزتِ نفس، رواداری اور دینی مقدسات کے تحفظ کا درس دیتا ہے؛ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی فرد، گروہ یا مکتبِ فکر کے مقدسات، مذہبی شخصیات اور محترم ہستیوں کی توہین سے مکمل اجتناب کرے اور ایسے تمام اقوال و اعمال سے دور رہے جو امتِ مسلمہ میں نفرت، انتشار اور فرقہ واریت کو فروغ دیتے ہوں۔

امام جمعہ سکردو نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ پیغام کسی ایک مکتبِ فکر کے لیے نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ خواہ وہ اہلِ تشیع ہوں، اہلِ سنت ہوں، اہلِ حدیث ہوں، اسماعیلی برادری سے تعلق رکھتے ہوں، نوربخشی مکتبِ فکر سے وابستہ ہوں یا کسی بھی اسلامی مسلک اور مکتبِ فکر کے پیروکار ہوں، سب پر یکساں طور پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات، دینی شخصیات اور مقدسات کا احترام کریں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن توہین، تحقیر، اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز طرزِ عمل کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔

علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہا کہ شہید رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای قدس سرہ نے واضح طور پر فتویٰ صادر فرمایا تھا کہ "اہلِ سنت کے مقدسات، بالخصوص امہات المؤمنینؓ کی توہین شرعاً حرام ہے۔" اسی طرح مرجعِ عالی قدر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ العالی نے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور باہمی اخوت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ "اہلِ سنت ہمارے بھائی ہی نہیں بلکہ ہماری جان ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں عظیم مجتہدین کے ارشادات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ اسلام احترام، محبت، اخوت، رواداری اور وحدتِ امت کا دین ہے، نہ کہ نفرت، تفرقہ اور انتشار کا۔

امام جمعہ سکردو نے کہا کہ ہم تمام علمائے کرام، خطباء، ذاکرین، واعظین، دینی و سماجی شخصیات، سوشل میڈیا صارفین اور عوام الناس سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے گفتار و کردار میں احتیاط کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیز اور نفرت آمیز مواد کے پھیلاؤ سے اجتناب کریں، اور ہر اس عمل سے دور رہیں جو مسلمانوں کے درمیان بداعتمادی اور اختلافات کو ہوا دے سکتا ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ توہینِ مقدسات کے نام پر کسی بے گناہ شخص کو ہراساں کرنا، بلا تحقیق الزامات عائد کرنا، ذاتی دشمنیوں یا گروہی مفادات کے لیے ایسے حساس معاملات کو استعمال کرنا، یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا بھی شرعاً، اخلاقاً اور قانوناً قابلِ مذمت ہے۔ کسی بھی شکایت یا تنازعے کی صورت میں قانونی، آئینی اور شرعی طریقۂ کار اختیار کیا جائے اور کسی فرد یا گروہ کے خلاف بلا ثبوت اور بلا تحقیق کارروائی سے اجتناب کیا جائے۔

علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہا کہ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی تمام تر توانائیاں امتِ مسلمہ کے اتحاد، نوجوان نسل کی صحیح تربیت، امن و امان کے قیام، باہمی بھائی چارے اور معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے صرف کریں۔ ہمیں اپنے اختلافات کو علمی، اخلاقی اور مہذب انداز میں بیان کرنا چاہیے اور ایسے تمام رویوں سے اجتناب کرنا چاہیے جو امت کے شیرازے کو بکھیرنے کا سبب بنیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا."اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103) اللہ تعالیٰ ہمیں اتحادِ امت، باہمی اخوت، صبر و تحمل اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو ہر قسم کے انتشار، نفرت اور فرقہ واریت سے محفوظ رکھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha