حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علم و آگہی کسی بھی معاشرے کی فکری بنیاد اور اس کی ترقی کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ دینی مدارس اس حوالے سے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، جہاں طلباء و طالبات کو نہ صرف دینی علوم سے آراستہ کیا جاتا ہے، بلکہ ان کی علمی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مختلف مقابلہ جاتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ انہی بابرکت کاوشوں کے تسلسل میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے زیرِ اہتمام، سکردو میں سالانہ بین المدارس علمی مقابلہ منعقد ہوا، جس میں مختلف دینی اداروں کے طلباء و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

ممتحن حجۃالاسلام ڈاکٹر جابر محمدی (مسئولِ آموزش، نمائندگی جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ اسلام آباد) کے مطابق، اس علمی مقابلے کا بنیادی مقصد طلبہ و طالبات کی علمی استعداد کو اجاگر کرنا اور ان میں مسابقتی شعور کو فروغ دینا ہے۔

اس مقابلے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر حصے کے دو مراحل مقرر کیے گئے تھے، تاکہ مختلف تعلیمی سطحوں کے مطابق طلباء کی صلاحیتوں کا منصفانہ جائزہ لیا جا سکے۔
اس مقابلے میں جامعۃ النجف، جامعہ محمدیہ ٹرسٹ، جامعۃ الزہراء اور جامعۃ خدیجہ الکبریٰ کے 120 سے زائد طلباء و طالبات نے شرکت کی اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپنے علمی جوہر کا مظاہرہ کیا۔
امتحانی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی گئیں، جن میں سطحِ مقدماتی، متوسط اور عالی کے مطابق متعلقہ خانے کو پُر کرنا، ہر سوال کے لیے مخصوص جگہ میں جواب درج کرنا اور وقت کی پابندی کو یقینی بنانا شامل تھا۔

سو سوالات پر مشتمل اس پرچے کے لیے سو منٹ کا وقت مقرر کیا گیا اور طلبہ کو تاکید کی گئی کہ وہ صراحت اور باریک بینی کے ساتھ سوالات کے جوابات تحریر کریں۔
یہ علمی مقابلہ جامعۃ النجف سکردو بلتستان کے علامہ اقبال آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جہاں ایک منظم، سنجیدہ اور علمی ماحول دیکھنے کو ملا۔
اس موقع پر حجۃالاسلام ڈاکٹر جابر محمدی، حجۃالاسلام شیخ غلام محمد ملکوتی اور مولانا شیر محمد بطورِ ممتحنین اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، جبکہ جامعہ خدیجہ الکبریٰ کی ایک معزز خواہر نے طالبات کے شعبے کی نگرانی کے فرائض سرانجام دیے۔

جامعۃالنجف کے مسئول آموزش استاد محترم حجۃالاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے امتحانی سنٹر کا معائنہ کیا اور جامعۃ المصطفٰی العالمیہ کی اس علمی کاوش کو سراہا۔
انتظامی امور کو منظم انداز میں انجام دینے میں جامعۃ النجف سکردو بلتستان کے ایڈمنسٹریٹر علی احمد نوری اور مسئول دفتر یاسین توحیدی نے نمایاں کردار ادا کیا، جنہوں نے پروگرام کو خوش اسلوبی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
پروگرام میں طلبہ و طالبات نے نہایت نظم و ضبط، سنجیدگی اور شوق کے ساتھ شرکت کی اور اپنی علمی قابلیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

یہ مقابلہ نہ صرف ایک کامیاب علمی سرگرمی ثابت ہوا، بلکہ اس نے طلباء و طالبات کے اندر خود اعتمادی، علمی ذوق اور مسابقتی جذبے کو مزید تقویت بخشا۔
آخر میں منتظمین کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے، تاکہ طلبہ و طالبات اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں اور معاشرے کے لیے ایک مؤثر اور باصلاحیت علمی سرمایہ بن کر ابھریں۔









آپ کا تبصرہ