حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حیدر آباد پاکستان میں خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کے تحت اور مدرسہ صراطِ الٰہی و ادارۂ حفظ القرآن کے تعاون سے ایک پروقار محفلِ قرأتِ قرآن کا انعقاد کیا گیا؛ جس میں حفاظ قرآن نے قرآنی فن کا مظاہرہ کیا۔

محفلِ قرآن کا باقاعدہ آغاز پاکستان اور ایران کے قومی ترانوں سے ہوا۔
یہ روحانی محفل صدرِ ایران شہیدِ جمہور آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی، ان کے شہید رفقائے کار، قائدِ شہیدِ امت، میناب اسکول کے مظلوم شہید بچوں، شہدائے پاکستان، شہدائے پاک فوج اور تمام شہدائے جہانِ اسلام کے ایصالِ ثواب کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

محفل میں خادمِ حرمِ امام رضاؑ مولانا حسن علی لاشاری نے خصوصی شرکت کی، جبکہ صراطِ الٰہی اسکول آف اہل البیتؑ کے اساتذہ، طالبات اور طلبہ سمیت ۲۵۰ سے زائد افراد شریک ہوئے۔

محفلِ پاک میں مدرسہ صراطِ الٰہی و ادارۂ حفظ القرآن کے قراء کرام نے انتہائی پرسوز انداز میں تلاوتِ قرآنِ پاک کی سعادت حاصل کی، جن میں حافظ سید محمد حسین موسوی، قاری الطاف حسین، حافظہ نعمت بتول اور حافظہ قرۃ العین شامل تھے۔
اس کے علاوہ ادارے کے حفاظ اور اساتذہ نے اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے ۹۹ اسمائے حسنیٰ کی قرأت (اسماء الحسنیٰ خوانی) کر کے شہدائے اسلام کو ہدیہِ ثواب پیش کیا۔

اس موقع پر تمام طلبہ اور اساتذہ نے ہاتھوں میں قرآن کریم بلند کر کے شہیدِ جمہور آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی یاد تازہ کی اور ان کے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہے گئے تاریخی الفاظ دہرائے کہ: "یہ قرآن فرقہ واریت اور ظلم کو پسند نہیں کرتا؛ یہ قرآن انسان ساز اور تہذیب ساز ہے اور یہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔"
مہمانِ خصوصی مولانا حسن علی لاشاری نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی اگرچہ ایران کے صدر تھے، مگر انہوں نے ہمیشہ امام رضاؑ کی سیرت پر چلتے ہوئے خود کو قوم کا خادم سمجھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام رضاؑ کا خادم ہونے کے لیے مشہد مقدس جانا ہی لازمی نہیں، بلکہ اپنے گھر، محلے، علاقے اور ملک میں رہ کر ضرورت مندوں کی مدد کرنے سے بھی آپ امامؑ کے خادم بن سکتے ہیں۔
محفل کا اختتام دعائے امامِ زمانہ (عج) سے ہوا، جس میں شہدائے اسلام کے درجات کی بلندی، امتِ مسلمہ کے اتحاد و سلامتی اور عالمِ اسلام میں امن و استحکام کے لیے رقت آمیز دعا کی گئی۔









آپ کا تبصرہ