حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس خبرگانِ رہبری کے رکن اور حوزات علمیہ ایران کی سپریم کونسل کے رکن آیت اللہ محسن اراکی نے عراقی حفاظ و قراء قرآن سے ملاقات میں کہا کہ قرآن کریم صرف انفرادی عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت، سیاست، حکومت اور سماجی نظام کی رہنمائی فراہم کرنے والی جامع کتاب ہے۔ انہوں نے اسلام کو صرف ذاتی عبادات تک محدود کرنے کی کوشش کو امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کے ساتھ ایک بڑی خیانت قرار دیا۔
آیت اللہ محسن اراکی نے قم المقدسہ میں عراق سے آئے ہوئے حفاظ اور قراء قرآن سے ملاقات کے دوران ان کی ایران آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی حفظ و تلاوت اسی وقت اپنے حقیقی اثرات ظاہر کرتی ہے جب اس کے ساتھ تدبر، غور و فکر اور اس کی گہری تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش بھی شامل ہو۔ط
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم الٰہی معارف کا بے مثال خزانہ ہے، جس سے صحیح طور پر استفادہ کرنے کے لیے مسلسل تحقیق، علمی محنت اور کلامِ الٰہی سے مضبوط تعلق ضروری ہے۔
آیت اللہ اراکی نے کہا کہ اسلام دشمن عناصر، بالخصوص صہیونی تحریک، قرآن کی تعلیمات کو معاشرے کی سیاسی اور اجتماعی زندگی سے الگ کرنے کی منظم کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ طرزِ فکر انسانیت کے خلاف ایک بڑی خیانت ہے، کیونکہ قرآن صرف عبادات کا نہیں بلکہ ہدایت، سیاست، حکومت اور معاشرتی نظم کا بھی مکمل دستور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم میں "ملک" اور "امر" سے متعلق آیات واضح طور پر اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ کائنات اور انسانی معاشروں پر حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ دشمنانِ اسلام ہمیشہ اس بنیادی حقیقت کو مسخ کرنے، پس منظر میں دھکیلنے اور اجتماعی زندگی سے خارج کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔









آپ کا تبصرہ