جمعرات 21 مئی 2026 - 17:03
حضرت ابوذر غفاری کی عظمت کے لیے یہی بس کہ سردارانِ جنت انہیں "چچا" کہہ کر پکارتے تھے

حوزہ / علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: ابوذر غفاری نے حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات کا سامنا کیا، ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبوی (ص) کے راوی قرار پائے۔ ختمی مرتبت (ص) کا دفاع و تحفظ اور ان کی رحلت کے بعد صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں حضرت ابوذر غفاری پیش پیش رہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 5 ذی الحجہ یوم وفات صحابی رسول اکرم (ص) حضرت جندب ابن جنادہ ابوذر غفاری کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: جناب ابوذر غفاری کے نظریات اور افکار انتہائی پختہ تھے، وہ اپنی مثال آپ تھے اور حضرت ابوذر غفاری کی عظمت ہے کہ سرداران جنت حضرات حسنین کریمین آپ کو چچا کہہ کر پکارتے تھے۔

انہوں نے کہا: حضرت ابوذر غفاری دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر خود خدمت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر و منزلت اور فضیلت و مقام کو سب پر واضح اور آشکار کیا اور اسی پاداش میں مختلف قبائل کی جانب سے ظلم و تشدد کی طویل اور صبر آزما صعوبتیں تو برداشت کیں لیکن پایہ استقلال میں ذرا لغزش نہ آئی۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا: تاریخ اسلام شاہد ہے کہ اعلان رسالت کے بعد اولین ایام میں جن مصائب و مشکلات سے مسلمان دوچار رہے ان کا جرات و بہادری اور دلیری سے مقابلہ کرنے والوں اور ختمی مرتبت کا دفاع و تحفظ اور ان کے رحلت کے بعد صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں حضرت ابوذر غفاری پیش پیش رہے۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت ابوذر غفاری کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبوی (ص) کے راوی قرار پائے، ان کی حق و سچ کے اظہار میں بے باکی اور بے خوفی کی وجہ سے انہیں یہ سند امتیاز عطا ہوئی کہ حدیث پیغمبر (ص) میں ان کے متعلق وارد ہوا ہے کہ "زمین نے کسی ایسے شخص کو اپنے اوپر اٹھایا نہیں اور آسمان نے اس پہ سایہ نہیں کیا جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو"۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت کی وجہ سے پختہ نظریات کے حامل تھے، خاص کر معاشی و سیاسی حوالے سے وہ ایک واضح نقطہ نگاہ رکھتے تھے، کسی محل کے گرد چکر لگایا کرتے تھے اور آیہ کریمہ تلاوت کرتے رہتے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ "اور جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جس روز وہی مال آتش جہنم میں تپایا جائیگا اسی سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پشتیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائیگا) یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لئے ذخیرہ کر رکھا تھا لہذا اب اسے چکھو جسے تم جمع کیا کرتے تھے"۔ (سورة توبہ آیت 34/35)۔

انہوں نے کہا: حضرت اباذر غفاری کے نظریات پر اسلامی اسکالرز نے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب "الاشتراکی الزاہد" یعنی "سوشلسٹ پرہیزگار" کے نام سے بھی شائع ہوئی۔ ان کے نظریات کیلئے ان کتب سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا: حضرت ابوذر غفاری کو حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات جن میں سماجی بائیکاٹ حتیٰ کہ کئی بار جلاوطنی جیسے مصائب جھیلنے پڑے اور اسی جلاوطنی کے دوران کمسن دختر کے ہمراہ مدینہ سے فاصلے پر ربذہ کے مقام پر عالم مسافرت میں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ ان کی نماز جنازہ مشہور صحابی مالک اشتر نے پڑھائی جو قافلہ کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے۔ اس عظیم المرتبت صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلا وطن کر کے جس خطے میں بھیجا گیا وہاں کے لوگ آج بھی سامراجی طاقتوں اور ان کے آلہ کاروں کے مظالم کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha