جمعرات 9 جولائی 2026 - 05:31
"تحقیق" مکتبِ اہلِ بیتؑ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کا انتہائی مؤثر ذریعہ ہے

حوزہ / جامعۃ النجف سکردو میں سینئر طلبہ (لمعہ اول و دوم) کے لیے "تحقیق کی اہمیت، علمی ارتقاء اور فکری خودمختاری" کے عنوان سے ایک خصوصی علمی و تحقیقی نشست منعقد ہوئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ النجف سکردو میں سینئر طلبہ (لمعہ اول و دوم) کے لیے "تحقیق کی اہمیت، علمی ارتقاء اور فکری خودمختاری" کے عنوان سے ایک خصوصی علمی و تحقیقی نشست منعقد ہوئی۔ جس کا مقصد طلبہ میں تحقیقی ذوق بیدار کرنا، انہیں عصرِ حاضر کے علمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور فکری و قلمی میدان میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا، جس کے بعد جامعۃ النجف کے بانی و سرپرست حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد علی توحیدی نے افتتاحی خطاب کیا۔

انہوں نے حوزوی نصاب کے تاریخی و علمی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: موجودہ حوزوی نظام بنیادی طور پر فقہی استنباط کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، جس میں صرف و نحو، منطق، اصولِ فقہ، فقہ اور دیگر اسلامی علوم شامل ہیں۔ یہ نصاب اپنے دور کی ضروریات کے مطابق نہایت مؤثر تھا، تاہم عصرِ حاضر کے فکری، تہذیبی اور اعتقادی چیلنجز اس امر کے متقاضی ہیں کہ فقہ کے ساتھ ساتھ عقائد، فلسفہ، تاریخ، ادیان اور جدید فکری مباحث میں بھی منظم اور معیاری تحقیقی کام کیا جائے تاکہ باطل نظریات کا علمی، مدلل اور تحقیقی انداز میں جواب دیا جا سکے۔

موجودہ دور میں "تحقیق" مکتبِ اہلِ بیتؑ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کا انتہائی مؤثر ذریعہ ہے

انہوں نے شیعہ علمی حلقوں میں معیاری تحقیقی مجلات کی شدید کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: بعض ایسے مکاتبِ فکر جہاں منطق، فلسفہ اور تاریخ جیسے علوم کو محدود یا غیر ضروری سمجھا جاتا ہے، ان کے تحقیقی جرائد اور علمی مجلات کی تعداد ہمارے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جبکہ شیعہ علمی حلقوں میں معیاری تحقیقی مجلات کی شدید کمی محسوس کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے منظور شدہ تقریباً سو تحقیقی جرائد شائع ہوتے ہیں مگر ان میں شیعہ مکتبِ فکر کا صرف ایک مجلہ شامل ہے جو مزید علمی تقویت اور وسعت کا متقاضی ہے۔

شیخ محمد علی توحیدی نے تحقیق کی فکری اور نفسیاتی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: غیر محقق معاشرے عموماً سطحی سوچ کے حامل ہوتے ہیں اور بغیر تحقیق ہر بات کو قبول کر لیتے ہیں جبکہ ایک حقیقی محقق ہر دعوے کو دلیل، شواہد اور تنقیدی فکر کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا ایک بنیادی راز مضبوط تحقیقی ثقافت اور مسلسل علمی جستجو ہے۔

انہوں نے مزید کہا: القلم ریسرچ سینٹر محدود وسائل کے باوجود علمی و تحقیقی خدمات انجام دے رہا ہے اور اہلِ علم خصوصاً نوجوان محققین کو اس علمی سفر میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

موجودہ دور میں "تحقیق" مکتبِ اہلِ بیتؑ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کا انتہائی مؤثر ذریعہ ہے

بعد ازاں شیخ سکندر بہشتی نے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی، شہید سید علی خامنہ‌ایؒ کے علمی و فکری نظریات کا حوالہ دیا اور کہا: اسلامی تہذیب کی تشکیل، استعماری قوتوں کا فکری مقابلہ اور ایک باوقار اسلامی تمدن کی تعمیر تحقیق، علمی تخلیق اور قلمی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں۔ رہبرِ معظم ہمیشہ تحقیق، فکر آفرینی اور علمی تولید کو اسلامی معاشرے کی بنیادی ضرورت قرار دیتے تھے۔

انہوں نے بلتستان کے علماء کی علمی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا: اگرچہ علاقے میں اہلِ علم کی تعداد قابلِ قدر ہے تاہم تحقیقی میدان میں مزید منظم اور مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر انہوں نے شیخ محمد علی توحیدی کی علمی خدمات خصوصاً ان کی ترجمہ شدہ کتب پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور اسلام آباد میں منعقدہ کتابی نمائش کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں شیخ توحیدی کی تصنیفات اور جامعۃ النجف کے طلبہ کے تحقیقی مقالات غیر معمولی توجہ کا مرکز بنے جو بلتستان کے علمی وقار کی روشن علامت ہیں۔

انہوں نے تحقیق، صحافتی رپورٹنگ اور کالم نگاری کے بنیادی اصولوں پر بھی گفتگو کی اور اپنے عملی تجربات طلبہ کے ساتھ شیئر کیے۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ آئندہ تحقیقی تربیتی نشستیں روزانہ صبح 7:00 بجے سے 9:00 بجے تک باقاعدگی سے منعقد ہوں گی، جن میں طلبہ قلم، کاپی، اخبارات اور نمونہ مقالات کے ساتھ شریک ہوں گے تاکہ انہیں عملی انداز میں تحقیق، تجزیہ اور کالم نویسی کی تربیت دی جا سکے۔

موجودہ دور میں "تحقیق" مکتبِ اہلِ بیتؑ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کا انتہائی مؤثر ذریعہ ہے

شیخ سکندر بہشتی نے مزید کہا: عاشورا اور کربلا کے موضوع پر رہبرِ معظم کی چھ ترجمہ شدہ کتابوں کو محور بنا کر تحقیقی مقالات تیار کیے جائیں گے۔

انہوں نے واقعۂ کربلا کو انسانی تربیت کا عظیم سرچشمہ قرار دیتے ہوئے کہا: اس عظیم واقعے میں بے شمار اسباق، نصیحتیں اور عبرتیں پوشیدہ ہیں جنہیں تحقیق، تدبر اور تحریر کے ذریعے معاشرے تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس موقع پر آقای علی نوری نے اپنی گفتگو کے دوران اعلان کرتے ہوئے کہا: طلبہ کے علمی مقالات کی علمی تصحیح و رہنمائی شیخ محمد علی توحیدی، شیخ سکندر بہشتی اور دیگر اساتذۂ کرام انجام دیں گے جبکہ ان مقالات کے مجموعے کی اشاعت کے تمام اخراجات جامعۃ النجف کی جانب سے برداشت کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس منصوبے کو جامعۃ النجف کی علمی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تحقیق، مطالعہ اور تحریر کے اس مبارک سفر میں بھرپور حصہ لیں تاکہ مستقبل میں قوم و ملت کو مضبوط علمی سرمایہ فراہم کیا جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ نشست کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جامعۃ النجف سکردو میں تحقیق، تصنیف، ترجمہ، کالم نگاری اور علمی تربیت کا یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا تاکہ ایسے اہلِ قلم، محققین اور مفکرین تیار ہوں جو اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے فکری، تہذیبی اور اعتقادی چیلنجز کا علمی، تحقیقی اور استدلالی انداز میں مؤثر جواب دے سکیں۔

موجودہ دور میں "تحقیق" مکتبِ اہلِ بیتؑ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کا انتہائی مؤثر ذریعہ ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha