حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ کے مدرسہ علمیہ معصومیہ میں بارہویں علامہ حلّی تحقیقی فیسٹیول کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جس میں حوزہ علمیہ کے ذمہ داران، اساتذہ اور بڑی تعداد میں طلبہ شریک ہوئے۔ اس موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں تحقیقی خدمات انجام دینے والے طلبہ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
تقریب کے آغاز میں سربراہ تحقیق حوزہ علمیہ قم، حجت الاسلام والمسلمین ترکاشوند نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق، حوزہ کی علمی ترقی کی بنیاد ہے اور اس میدان میں طلبہ و اساتذہ کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے فیسٹیول کے منتظمین کی خدمات کو بھی سراہا۔
اس کے بعد معاونِ تحقیق حوزہ ہائے علمیہ، حجت الاسلام والمسلمین فرہاد عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ حلّی فیسٹیول، طلبہ اور اساتذہ کی علمی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے، جو تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
قائم مقام مدیر حوزہ علمیہ قم، حجت الاسلام والمسلمین حمید ملکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حوزہ میں تحقیقی سوچ کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں تحقیقی معیار اور مقدار دونوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح جامعہ مدرسین کے رکن آیت اللہ فیاضی نے دینی علوم میں تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حوزوی تحقیقات معاشرے کی فکری اور دینی ضروریات کو پورا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر منتخب محققین اور مصنفین کو اعزازی اسناد اور انعامات سے نوازا گیا۔
ادھر فیسٹیول کے رکن حجت الاسلام والمسلمین طہماسبی نے بتایا کہ اس سال مجموعی طور پر 1254 تحقیقی کام، جن میں کتب، مقالے، تھیسس اور تحقیقی منصوبے شامل ہیں، موصول ہوئے۔ ان میں سے 114 آثار جامعۃ الزہرا(س) اور خواتین مدارس سے جبکہ 452 آثار اساتذہ کی جانب سے پیش کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو حوزہ میں تحقیق کے فروغ کی واضح علامت ہے۔ طہماسبی کے مطابق تقریباً 700 ماہرین نے جانچ کے عمل میں حصہ لیا اور آخرکار 150 افراد کو منتخب کیا گیا، جن میں 14 نے پہلی، 36 نے دوسری اور 100 نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ برسوں میں بھی یہ علمی سرگرمی مزید وسعت اختیار کرے گی اور حوزہ میں تحقیق کا یہ سفر مزید مضبوط ہوگا۔









آپ کا تبصرہ