حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ النجف سکردو پاکستان میں ایک پروگرام میں حجت الاسلام شیخ محمد علی ممتاز نے رہبرِ شہید اور موجودہ رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت الله سید مجتبی خامنہ ای کی مشترکہ صفات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید ہمارے لیے اللہ کی طرف سے ایک عظیم نعمت تھے اور اب رہبرِ معظم سید مجتبی خامنہ ای بھی ہمارے لیے اللہ کی طرف سے نعمت ہیں۔ جس طرح شہید رہبر کو رہبر منتخب کرنا کسی کو معلوم نہیں تھا، اسی طرح سید مجتبی خامنہ ای کو رہبر منتخب کرنا بھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔ آپ کے خلاف بہت سے پروپیگنڈے کیے گئے، لیکن خدا کے فضل و کرم سے دشمن اپنے مکرو فریب میں ناکام ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ شہید اور موجودہ رہبرِ معظم دونوں کی ذات میں تین صفات ہمارے لیے نمونہ عمل ہیں۔ ہمیں ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح رہبرِ شہید کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا کہ آپ مجتہد نہیں ہیں، آپ کی تقلید نہیں کر سکتے، اسی طرح آج جب رہبرِ معظم *آیت اللہ سید علی الحسینی خامنہ ای* کی شہادت کے بعد مقامِ رہبری کے لیے *آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای* کو منتخب کیا گیا تو بعض دشمن عناصر یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ آپ مجتہد نہیں ہیں۔
انہوں نے دورِ حاضر کے بعض علماء پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ہمارے علماء پر تعجب ہوتا ہے کہ رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی الحسینی خامنہ ای کی شہادت کے فوراً بعد یہ کہنے لگے کہ اب رہبرِ شہید کی تقلید نہیں کر سکتے اور آیت اللہ سید مجتبی الحسینی خامنہ ای مجتہد کے درجے پر نہیں ہیں۔

شیخ محمد علی ممتاز نے آیت اللہ سید مجتبی الحسینی خامنہ ای کی فقاہت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ باقاعدہ طور پر 17 سال سے حوزه علمیہ قم میں درسِ خارج دے رہے ہیں۔ جب آپ نے خواص کے درس کے علاوہ عمومی درس بھی دینا شروع کیا تو رہبرِ شہید نے آپ کو عمومی درس دینے سے روک دیا، کیونکہ آپ کے عمومی درس کی وجہ سے باقی بڑے فقہاء کے درس میں طلباء کی تعداد کم ہونے کا خدشہ تھا۔
انہوں نے آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کی پرہیزگاری اور سادگی کے بارے میں کہا کہ جب آپ شادی کی عمر کو پہنچے تو ایک دن رہبرِ شہید نے اپنے بڑے رہنماؤں کے سامنے فرمایا: "میرے پاس ایک لڑکا ہے جو متقی اور باکردار ہے، لیکن غریب ہے۔ جس گھر میں وہ رہ رہا ہے وہ بھی کرایے کا گھر ہے۔" باقی رہنماؤں نے سر جھکا لیا۔ اس وقت حداد عادل نے کہا: "آقا! میں اس لڑکے کو اپنی بیٹی دوں گا۔" تو رہبر نے فرمایا: "وہ کوئی اور نہیں، وہ میرا بیٹا مجتبی خامنہ ای ہے۔" یہ سنتے ہی باقی سب افسوس کرنے لگے کہ کاش میں اپنی بیٹی دیتا۔ یہ ہے رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبی الحسینی خامنہ ای کی سادگی اور تقویٰ، جس کی تعریف خود رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی الحسینی خامنہ ای کر رہے ہیں۔ آپ مسلم مجتہد ہیں۔

رہبرِ شہید اور آیت اللہ سید مجتبی الحسینی خامنہ ای کی تین مشترکہ خصوصیات
1۔ اخلاص و تقویٰ
آپ دونوں سید علی اور سید مجتبی اخلاص و تقویٰ کے مالک تھے۔ ہر کام صرف خدا کی خوشنودی کے لیے انجام دیتے تھے۔ صرف خدا سے ڈرتے تھے اور دنیا کی کسی طاقت سے نہیں ڈرتے تھے۔ ہمیں بھی اپنے کاموں میں اخلاص پیدا کرنے اور تقوائے الٰہی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
2۔ استقامت
آپ دونوں صاحبِ استقامت تھے۔ انقلابِ اسلامی کے پہلے دور میں اور امام خمینیؒ کی رحلت کے بعد بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بیرونی دشمنوں سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ اندرونی دشمنوں کی چالوں کا بھی استقامت سے مقابلہ کیا۔ اسی استقامت کی بدولت 86 سالہ بزرگ جوانوں کی طرح میدان میں کھڑے رہے اور آخرکار جامِ شہادت نوش کئے۔
3۔ بصیرت
ہر کام کو اپنے وقت پر انجام دینے کا نام بصیرت ہے۔
آپ دونوں سید علی خامنہ ای اور سید مجتبی خامنہ ای بصیرت کے پیکر تھے۔ ہر کام بصیرت سے انجام دیتے تھے۔ رہبرِ شہید ہی کی بصیرت تھی جس کی وجہ سے مخالفین بھی آپ کے ہمراہ ہو گئے اور آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے بھی بصیرت سے کام لیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو کب بند کرنا چاہیے اور کب کھولنا چاہیے۔

بحیثیتِ دینی طالبِ علم ہمیں رہبرِ شہید اور آیت اللہ سید مجتبی الحسینی خامنہ ای کی سیرت پر چلتے ہوئے اپنے اندر تقوائے الٰہی، استقامت اور بصیرت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں انہوں نے دعا کی "پروردگار! ہمیں رہبرِ شہید کی راہ پر گامزن رہنے اور اپنے اندر تقویٰ الٰہی، استقامت اور بصیرت پیدا کرنے کی توفیق دے آمین!









آپ کا تبصرہ