حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ برادران کے مدیر حجت الاسلام ڈاکٹر سید عمار ہمدانی نے عصرِ حاضر کے تقاضوں، حوزۂ علمیہ کی ذمہ داریوں، تحقیق کی اہمیت اور جدید ذرائعِ ابلاغ سے استفادہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ہر عالم، محقق اور طالبِ علم کو اپنا علمی صفحہ، چینل یا پلیٹ فارم قائم کرنا چاہیے، تاکہ ان کے علمی اور تحقیقی آثار ہمیشہ زندہ رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ شہید نے سن 2000ء میں حوزاتِ علمیہ کے مسئولین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی سے گریز یا فرار ممکن نہیں، بلکہ ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دین کی تبلیغ اور ترویج کے لیے انہیں مؤثر انداز میں بروئے کار لانا ہوگا۔
ڈاکٹر عمار ہمدانی نے کہا کہ حوزۂ علمیہ کے نظام میں عصری تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی گئیں۔ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے قیام کے ذریعے حوزوی اور جامعاتی نظام کا ایک مؤثر امتزاج پیش کیا گیا اور ایران کے متعدد مدارس کو اس علمی و تعلیمی نظام سے مربوط کیا گیا، تاکہ دینی اور جدید تعلیم کے درمیان توازن قائم ہو۔
انہوں نے پاکستان اور ایران میں سائنسی علوم کے میدان میں قابلِ قدر پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں علومِ انسانی میں مزید تحقیق اور ترقی کی ضرورت محسوس کی گئی اور اسی ضرورت کے پیشِ نظر رہبرِ معظم نے خصوصی توجہ مبذول کروائی، جبکہ آیت اللہ مصباح یزدیؒ نے بھی اس شعبے میں نمایاں علمی خدمات انجام دیں۔
جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ برادران کے مدیر نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں صرف علمی اسناد کافی نہیں، بلکہ مہارت، ہنر اور عملی صلاحیتوں کا حصول بھی ناگزیر ہے۔ ان مہارتوں کو معاشرے میں فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انقلابِ اسلامی کے بعد مختلف علوم کو عربی سے فارسی زبان میں منتقل کیا گیا، جس سے علمی سرمایہ عام فہم انداز میں عوام تک پہنچا۔ اسی طرز پر اردو زبان میں بھی معیاری علمی و تحقیقی کام کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ اردو قارئین کی بڑی تعداد اس بات کی متقاضی ہے کہ اس میدان میں سنجیدہ اور مؤثر خدمات انجام دی جائیں۔
ڈاکٹر ہمدانی نے دینی علوم کو عقلی، استدلالی اور عصری اسلوب میں پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کے ذہنی اور فکری تقاضوں کا بہتر انداز میں جواب دینے کے لیے دینی علوم کو عصری تقاضوں کے مطابق پیش کرنا ناگزیر ہے اور ایران کے علمی مراکز سے استفادہ کرتے ہوئے تحقیق، تدریس اور علمی خدمت کے میدان کو مزید وسعت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سوشل میڈیا موجودہ دور کا سب سے مؤثر ذریعۂ ابلاغ ہے، کہا کہ آج ہر عالم، محقق اور طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ اپنا علمی صفحہ، چینل یا پلیٹ فارم قائم کرے، کیونکہ افراد ایک دن دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی علمی و تحقیقی خدمات اور آثار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اسی لیے تحقیق، تصنیف اور علمی ورثے کی حفاظت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔









آپ کا تبصرہ