جمعہ 24 جولائی 2026 - 06:56
اجتہاد اور تقلید: قرآن، سنتِ اہلِ بیت اور عقل کی روشنی میں

حوزہ/آج کل سوشل میڈیا پر اجتہاد اور تقلید کے خلاف مختلف شبہات پھیلائے جا رہے ہیں۔ اکثر اوقات چند روایات کے ٹکڑے نقل کرکے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام میں اجتہاد سرے سے حرام ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر پوری روایات، قرآن مجید، ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور شیعہ فقہ کی اصطلاحات کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ شیعہ اجتہاد اور اہلِ سنت کے ''اجتہاد بالرائے، قیاس اور استحسان'' میں بنیادی فرق ہے۔

تحقیق و تحریر: آغا زمانی

حوزہ نیوز ایجنسی|

آج کل سوشل میڈیا پر اجتہاد اور تقلید کے خلاف مختلف شبہات پھیلائے جا رہے ہیں۔ اکثر اوقات چند روایات کے ٹکڑے نقل کرکے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام میں اجتہاد سرے سے حرام ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر پوری روایات، قرآن مجید، ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور شیعہ فقہ کی اصطلاحات کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ شیعہ اجتہاد اور اہلِ سنت کے ''اجتہاد بالرائے، قیاس اور استحسان'' میں بنیادی فرق ہے۔

1۔ کیا قرآن مجید نے اہلِ علم کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے؟

قرآن کریم فرماتا ہے:

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ''اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر سے پوچھو۔'' (سورہ نحل 16:43، سورہ انبیاء 21:7)

یہ آیت ایک دائمی اصول بیان کرتی ہے کہ جو شخص خود علم نہیں رکھتا، وہ اہلِ علم سے رجوع کرے۔ یہی تقلید کی بنیاد ہے۔

اسی طرح قرآن فرماتا ہے:

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً... فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ (سورہ توبہ 9:122)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب لوگ دین کی گہری سمجھ حاصل کرنے کے لیے نہیں نکل سکتے، بلکہ ہر قوم میں سے ایک گروہ دین میں مہارت حاصل کرے، پھر واپس آ کر لوگوں کی رہنمائی کرے۔

یہ آیت فقاہت، تخصص اور عوام کی رہنمائی کی واضح دلیل ہے۔

2۔ کیا ہر شخص خود قرآن و حدیث سے احکام نکال سکتا ہے؟

اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ فقہاء، اہلِ ذکر اور تفقہ فی الدین کا حکم نہ دیتا۔

قرآن خود فرماتا ہے:

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ

لیکن کیا تدبر کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص خود ڈاکٹر بھی بن جائے، انجینئر بھی بن جائے اور فقیہ بھی؟

جس طرح قرآن تدبر کا حکم دیتا ہے، اسی قرآن نے اہلِ علم سے رجوع کا بھی حکم دیا ہے۔

3۔ اجتہاد کا حقیقی معنی کیا ہے؟

شیعہ فقہ میں اجتہاد کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی رائے سے دین بنائے۔

بلکہ اجتہاد کا معنی ہے:

قرآن، سنتِ معصومین علیہم السلام، اجماع اور عقلِ قطعی کی روشنی میں انتہائی علمی محنت کے بعد حکمِ شرعی کو کشف کرنا۔

یعنی مجتہد اپنا حکم ایجاد نہیں کرتا بلکہ اللہ کے حکم کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

4۔ ائمہ علیہم السلام نے جس اجتہاد کی نفی کی وہ کون سا تھا؟

مخالفین جن روایات کو پیش کرتے ہیں، ان میں ''اجتہاد'' سے مراد وہ اجتہاد ہے جو قیاس، استحسان اور ذاتی رائے پر مبنی تھا۔

اسی روایت میں الفاظ موجود ہیں:

الاجتهاد والرأي

یعنی اجتہاد بالرائے۔

اہلِ سنت کے بعض قدیم فقہاء کہتے تھے:

''ہر مجتہد مصیب ہے۔''

لیکن شیعہ فقہاء کبھی یہ عقیدہ نہیں رکھتے۔

شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ:

حق ایک ہی ہے، مجتہد اس تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، اگر صحیح نتیجہ تک پہنچ گیا تو درست، اگر پوری کوشش کے باوجود خطا ہوئی تو معذور ہے، معصوم نہیں۔

اسی لیے شیعہ علماء کو مخطّئہ کہا جاتا ہے، نہ کہ مصوّبہ۔

5۔ اگر قرآن میں ہر چیز موجود ہے تو پھر مجتہد کی کیا ضرورت؟

یہ شبہ بھی درست نہیں۔

قرآن میں نماز کا حکم ہے، لیکن:

فجر کی دو رکعت کہاں لکھی ہیں؟

نماز کے تمام واجبات کہاں تفصیل سے موجود ہیں؟

خمس کی مکمل تفصیلات؟

حج کے سینکڑوں مسائل؟

مصنوعی باروری، اعضا کی پیوندکاری، بینکنگ، جدید تجارت، ڈیجیٹل کرنسی، اعضاء کی پیوندکاری، کلوننگ اور ہزاروں نئے مسائل؟

ان سب کے لیے قرآن اور احادیث سے حکم استنباط کرنا پڑتا ہے، اور یہی مجتہد کا کام ہے۔

6۔ مختلف مراجع کے مختلف فتاویٰ کیوں؟

یہ بھی ایک عام اعتراض ہے۔

مثلاً آیت اللہ سیستانی اور آیت اللہ خامنہ ای کسی مسئلے میں مختلف فتویٰ دے دیں۔

کیا اس سے دین میں تضاد ثابت ہوتا ہے؟

ہرگز نہیں۔

اس کی مثال یہ ہے کہ دو ماہر ڈاکٹر ایک ہی بیماری کی مختلف تشخیص کر سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ میڈیکل سائنس باطل ہوگئی۔

بلکہ دونوں نے اپنی علمی تحقیق کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا۔

اسی طرح فقہ میں بھی مختلف روایات، سند، دلالت اور اصولی قواعد کے اختلاف کی وجہ سے فتویٰ مختلف ہو سکتا ہے۔

اصل حکم اللہ کے نزدیک ایک ہی ہے، لیکن مجتہد اس تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔

7۔ کیا معصوم علیہم السلام نے فقہاء کی طرف رجوع کا حکم دیا؟

جی ہاں۔

امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں:

فأما من كان من الفقهاء صائناً لنفسه، حافظاً لدينه، مخالفاً لهواه، مطيعاً لأمر مولاه، فللعوام أن يقلدوه.

''فقہاء میں سے جو اپنے نفس کی حفاظت کرے، دین کی حفاظت کرے، خواہشات کی مخالفت کرے اور اپنے مولا کا مطیع ہو، عوام پر لازم ہے کہ اس کی تقلید کریں۔''(وسائل الشیعہ)

اسی طرح امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی توقیع مبارک:

وأما الحوادث الواقعة فارجعوا فيها إلى رواة حديثنا فإنهم حجتي عليكم وأنا حجة الله.

''نئے پیش آنے والے مسائل میں ہمارے حدیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر میری حجت ہیں۔''

یہ روایت شیعہ فقہ میں تقلید کی بنیادی دلیل شمار ہوتی ہے۔

8۔ کیا تقلید اندھی تقلید ہے؟

ہرگز نہیں۔

اندھی تقلید یہ ہے کہ بغیر تحقیق کسی کے پیچھے چل پڑا جائے۔

جبکہ شیعہ تقلید کی پہلی شرط ہی تحقیق ہے۔

انسان پہلے تحقیق کرے کہ:

کون سب سے زیادہ عالم ہے؟

کون زیادہ متقی ہے؟

کون قرآن و سنت کا بہتر ماہر ہے؟

پھر اس کی تقلید کرے۔

9۔ کیا مراجع، ائمہ علیہم السلام کے مقابل ہیں؟

یہ سب سے خطرناک مغالطہ ہے۔

شیعہ عقیدہ ہے:

تشریع صرف اللہ کی۔

بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیہم السلام کا۔

استنباط مجتہد کا۔

مجتہد کوئی نیا دین نہیں لاتا۔

وہ صرف قرآن و حدیث سے حکم اخذ کرتا ہے۔

10۔ کیا امام خمینی قدس سرہ نے نیا دین پیش کیا؟

ہرگز نہیں۔

امام خمینی نے اسلام ناب محمدی کی دعوت دی۔

انہوں نے فرمایا:

اسلام صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ عدل، حکومت، معیشت، تعلیم، ثقافت، دفاع اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے مکمل نظام ہے۔

یہی قرآن کا پیغام ہے۔

نوجوانوں کے نام ایک پیغام

میرے عزیز نوجوان!

اگر آپ موبائل خراب ہونے پر انجینئر کے پاس جاتے ہیں، بیماری میں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، عدالت میں وکیل کے پاس جاتے ہیں، تو پھر دین جیسے عظیم علم میں اس شخص کی طرف رجوع کیوں نہ کریں جس نے چالیس پچاس سال قرآن، حدیث، رجال، اصولِ فقہ، عربی ادب، تفسیر اور فقہ میں اپنی زندگی وقف کی ہو؟

اجتہاد کسی چند کتابیں پڑھ لینے یا چند تقریریں سن لینے کا نام نہیں۔ ایک مجتہد برسوں کی شب و روز محنت، سخت علمی امتحانات اور اساتذۂ کرام کی تصدیق کے بعد اس مقام تک پہنچتا ہے کہ وہ قرآن و سنت سے احکام استنباط کر سکے۔

لہٰذا مراجعِ عظام کی پیروی دراصل قرآن، اہلِ بیت علیہم السلام اور عقل کے اس اصول پر عمل ہے کہ ''جو نہیں جانتا وہ جاننے والے سے پوچھے۔''

آج شیعہ مکتب کی علمی عظمت، فقہی استحکام اور فکری پختگی انہی مراجعِ عظام کی مسلسل علمی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ امام خمینی قدس سرہ، آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی حفظہ اللہ، شہید رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ اور دیگر بزرگ مراجع نے ہمیشہ قرآن و سنتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی بنیاد پر امت کی رہنمائی کی ہے۔

اختلافِ فتویٰ، اجتہاد کی کمزوری نہیں بلکہ علمی دیانت کی علامت ہے، کیونکہ ہر فقیہ اپنی پوری علمی توانائی کے ساتھ اللہ کے حقیقی حکم تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، نہ کہ اپنی رائے کو دین بنا دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و عترت کی حقیقی معرفت، اہلِ علم کی قدر، اور دین کو اہلِ بیت علیہم السلام کے بتائے ہوئے راستے سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha