منگل 21 جولائی 2026 - 15:35
رہبرِ انقلاب کی شہادت اور میری زندگی

حوزہ / رہبرِ معظمِ انقلاب کی حیاتِ مبارکہ اور ان کی شہادت دونوں عصرِ حاضر کے انسان کے لیے ہدایت، بصیرت اور عزتِ نفس کا روشن پیغام ہیں۔

خاتون روزی، جامعۃ الزہراء، سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی | اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ (سورۂ آلِ عمران: 169)

ترجمہ: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔"

کسی بھی عظیم دینی، علمی اور فکری شخصیت کی زندگی انسانیت کے لیے نمونۂ عمل ہوتی ہے جبکہ اس کی شہادت بھی حق، استقامت اور ایثار کا لازوال درس اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ رہبرِ معظمِ انقلاب کی حیاتِ مبارکہ اور ان کی شہادت دونوں عصرِ حاضر کے انسان کے لیے ہدایت، بصیرت اور عزتِ نفس کا روشن پیغام ہیں۔

رہبرِ معظمِ انقلاب کی شہادت کا میری زندگی پر اثر

شہادت کسی عظیم شخصیت کی زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ ایک بلند فکر اور مقدس مشن کے نئے سفر کا آغاز ہوتی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ تلواریں جسموں کو ختم کر سکتی ہیں، مگر نظریات کو نہیں مٹا سکتیں۔ شہداء کا خون زمین پر گرتا ہے، مگر اس سے آزادی، عزت، بیداری اور استقامت کے پھول کھلتے ہیں۔

اگر رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہونے کا شرف حاصل ہو، تو اس کا میری زندگی پر سب سے گہرا اثر یہ ہوگا کہ میں اپنے مقصدِ حیات کو بہتر انداز میں پہچان سکوں گی۔ میں یہ سبق حاصل کروں گی کہ ایک باایمان انسان کبھی ظلم کے سامنے سر نہیں جھکاتا، باطل سے سمجھوتہ نہیں کرتا اور حق کے راستے سے کبھی دستبردار نہیں ہوتا۔

میں ایک طالبہ ہوں اور میری بنیادی ذمہ داری علم حاصل کرنا، اپنے حجاب کی حفاظت کرنا، اپنے اخلاق کو سنوارنا، والدین اور اساتذہ کا احترام کرنا اور اپنے کردار کے ذریعے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنا ہے۔

میں عہد کرتی ہوں کہ اپنے قلم کو حق کی آواز، اپنی زبان کو سچائی کا ترجمان اور اپنی زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف رکھوں گی۔

آج دشمن ہماری فکر، ہماری ثقافت اور ہماری نئی نسل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے نازک حالات میں ہمیں ایمان، علم، اتحاد، بصیرت اور استقامت کو اپنا سب سے مضبوط ہتھیار بنانا ہوگا۔

نتیجہ

آئیے! ہم سب یہ عہد کریں کہ اپنے دین، اپنے وطن، اپنی تعلیم، اپنے اخلاق اور اپنی اسلامی شناخت کی حفاظت کریں گے۔ کیونکہ زندہ قومیں اپنے شہداء کے خون کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، بلکہ ان کی قربانیوں کو اپنی زندگی کا چراغِ راہ بناتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے، علم میں ترقی کرنے، کردار کی پاکیزگی اختیار کرنے، اسلام کی مخلصانہ خدمت انجام دینے اور شہداء کی سیرت سے صحیح معنوں میں فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha