حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہم ان دنوں امامِ امت، رہبرِ انقلابِ اسلامی کے سید الشہداء، شہید آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہای کے مطہر پیکر کی تشییع کے ایام میں ہیں اور شہادت کے قرآنی و معرفتی مبانی کا ازسرِ نو مطالعہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
مندرجہ ذیل بیانات، حقیقتِ شہادت، شہید کے مقام و منزلت، ثقافتِ ایثار، پسماندگان کی ذمہ داری اور امت مسلمہ کی عزت، استقلال اور استقامت کے تسلسل میں شہید کے خون کے کردار کی ایک جامع تصویر امامِ شہید کی زبان سے پیش کرتے ہیں۔
لوگوں کی خدمت کی راہ میں شہادت، الٰہی ابدی حیات ہے
ہمیں مصیبت کے مقابلے میں کس طرح رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ یہ نہایت اہم بات ہے۔
میں پہلے بھی اس عظیم سانحے (محترم صدرِ جمہوریہ اور ان کے رفقاء کی شہادت) کے بارے میں گفتگو کو اس نورانی آیتِ مبارکہ سے مزین کرنا چاہتا ہوں، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِنْ لَا تَشْعُرُونَ"
"جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم اس حقیقت کا شعور نہیں رکھتے۔"
اس آیت کے اردگرد، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد، کسی فوجی کارروائی، جنگ، قتال یا اس جیسے موضوع کا ذکر نہیں ہے، بلکہ صرف "فی سبیل اللہ" فرمایا گیا ہے۔

یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں "اللہ کی راہ میں قتل ہونے" سے مراد صرف میدانِ جنگ میں قتل ہونا ہے، کیونکہ اس آیت میں اس بات کی کوئی دلیل یا قرینہ موجود نہیں۔
البتہ سورۂ آلِ عمران کی آیت "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا..." کے بارے میں یہ بات درست ہے، کیونکہ وہ آیت جہاد کے احکام کے ضمن میں نازل ہوئی ہے؛ لیکن یہ آیت مطلق ہے اور ہر اس شخص کو شامل ہے جو اللہ کی راہ میں قتل ہو۔
لوگوں کی خدمت کی راہ، اللہ کی راہ ہے۔
عوام کے لیے جہادی خدمت انجام دینا، اللہ کی راہ ہے۔
اسلامی ملک کا انتظام و انصرام کرنا، اللہ کی راہ ہے۔
اسلامی جمہوری نظام کی ترقی اور پیشرفت کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی راہ ہے۔

آیت اللہ رئیسی عزیز اور ان کے ساتھی ملک کی ترقی، عوام کی خدمت اور اسلامی جمہوریہ کی سربلندی کی راہ میں شہید ہوئے، لہٰذا وہ اس آیت کے مصداق ہیں۔
انہیں مردہ نہ سمجھو؛ "بل احیاء"، بلکہ وہ زندہ ہیں۔ یہی وہ تعبیر ہے جو قرآن نے شہداء کے بارے میں بیان فرمائی ہے۔ (14 خرداد 1403)
شہادت؛ خدا کے ساتھ ابدی جنت کے بدلے جان کا معاملہ
شہداء کے بارے میں ائمۂ ہدیٰؑ سے نہایت گہرے اور گراں قدر ارشادات نقل ہوئے ہیں۔ اسی طرح انقلاب کے اکابر، امامِ راحل اور دیگر بزرگان نے بھی اس موضوع پر بہت کچھ فرمایا ہے۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر قرآنِ کریم اور پروردگارِ متعال کا شہداء کے بارے میں بیان ہے، جس کا کسی دوسرے بیان سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ"
یعنی بے شک اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے؛ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پھر دشمن کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی شہید ہو جاتے ہیں۔
"إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ" یعنی اللہ خود بندوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ بندہ کہاں اور خدا کہاں! لیکن اس کے باوجود اللہ بندے سے سودا کرتا ہے۔ وہ ہماری جان کے بدلے ہمیں وہ سب سے عظیم عطیہ عطا کرتا ہے جو کسی انسان کو دیا جا سکتا ہے، یعنی جنت؛ وہ جنت جو رضائے الٰہی کی جنت ہے۔
پھر قرآن مزید صراحت کے ساتھ فرماتا ہے:"يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"
یعنی وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، جنگ کرتے ہیں، پھر "فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ"، دشمن کو قتل بھی کرتے ہیں اور خود بھی شہید ہو جاتے ہیں۔
یہ صرف اسلام کے دور سے مخصوص نہیں ہے، کیونکہ قرآن فرماتا ہے:"وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ"
یعنی یہ سچا وعدہ تورات، انجیل اور قرآن، تینوں میں موجود ہے۔
اسی طرح قرآن کی یہ آیت:"وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ"
اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سنت تمام انبیائے الٰہی کی تاریخ میں جاری رہی ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:"وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ"
"ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ہیں وہ مردہ ہیں، بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔"
یہ تمام آیات شہداء کی عظمت اور مقام کو بیان کرتی ہیں، اور شہادت کی فضیلت کے بارے میں ان سے بلند کوئی بیان ممکن نہیں۔ اس کے بعد انسان اور کیا کہہ سکتا ہے؟(۳ بہمن ۱۴۰۲)
شہادت عقیدے، شناخت اور الٰہی اقدار کی سرحدوں کا دفاع
ضروری ہے کہ ہم شہادت کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھیں۔
شہادت کے بارے میں یہ حقیقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ شہادت صرف جنگ میں مارا جانا نہیں ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے ممالک کی جنگوں میں شریک ہوتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنے وطن کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے لیے، ایک محبِ وطن اور وطن پرست انسان کی حیثیت سے جنگ کرتے ہیں۔ البتہ بعض لوگ کرائے کے سپاہی بھی ہوتے ہیں، لیکن کچھ واقعی وطن کے دفاع کے جذبے سے لڑتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔
لیکن ہمارا شہید اس معنی میں دوسروں سے مختلف ہے۔
ہمارا مجاہد جب میدانِ جنگ میں قدم رکھتا ہے، خواہ اس کا انجام شہادت پر ہو یا جانبازی پر، یا وہ صحیح سلامت واپس آ جائے، اس کا مقصد صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع نہیں ہوتا۔
وہ عقیدے کی سرحدوں، اخلاق کی سرحدوں، دین کی سرحدوں، ثقافت کی سرحدوں اور اپنی دینی و قومی شناخت کی سرحدوں کے دفاع کے لیے میدان میں اترتا ہے۔ وہ ان عظیم اور معنوی اقدار کے تحفظ کے لیے جہاد کرتا ہے۔
یقیناً ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع بھی ایک قابلِ قدر اور باارزش عمل ہے، لیکن محض جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کہاں، اور اس کے ساتھ عقیدے، دین، اخلاق، ثقافت اور شناخت جیسی بلند الٰہی اقدار کے دفاع کا شرف کہاں!
ہمارے شہداء کی حقیقت اور امتیاز یہی ہے۔
شہید عہدِ الٰہی کا سچا وفادار اور خدا کے ساتھ جان کا سودا
اگر ہم شہادت کے مسئلے کو اس سے بھی بلند زاویے سے دیکھیں تو ہمارا شہید درحقیقت اس آیتِ کریمہ کا عملی مصداق اور مظہر ہے:"إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ"
یعنی اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شہید اپنی جان کا خدا کے ساتھ سودا کرتا ہے، اور یہی شہید کی حقیقی حقیقت ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:"مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ"
یعنی مؤمنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے اپنے عہد کو سچائی کے ساتھ پورا کیا؛ ان میں سے بعض اپنی منزل پا چکے ہیں اور بعض ابھی انتظار میں ہیں۔
یہی شہید ہے؛ وہ شخص جس نے خدا سے کیے ہوئے اپنے عہد کو سچائی کے ساتھ نبھایا۔ شہادت دراصل خدا سے عہد باندھنے اور اسی کے ساتھ اپنی جان کا سودا کرنے کا نام ہے۔
اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مجاہد دنیا کے عام سپاہیوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
آپ میں سے جو لوگ میدانِ جنگ میں موجود تھے، انہوں نے خود یہ حقیقت دیکھی ہوگی، اور جنہوں نے نہیں دیکھی، انہوں نے اسے کتابوں میں ضرور پڑھا ہوگا کہ دفاعِ مقدس کے دوران ایک مؤمن مجاہد، اسی طرح دیگر محاذوں پر، جیسے دفاعِ حرم وغیرہ میں، جب اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہوتا ہے تو اس کا اخلاص معمول سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، اس کا توکل زیادہ ہوتا ہے، اس کی عاجزی زیادہ ہوتی ہے، اور وہ اللہ کی حدود کی حفاظت اور ان کی پابندی میں بھی عام حالات سے بڑھ کر محتاط ہوتا ہے۔(30 آبان 1400)
شہادت الٰہی اقدار کا دفاع اور عہدِ الٰہی سے وفاداری
ضروری ہے کہ ہم شہادت کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھیں۔ شہادت کا مطلب صرف جنگ میں مارا جانا نہیں ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ اپنے ممالک کی جنگوں میں حصہ لیتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنے وطن کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے لیے، ایک محبِ وطن انسان کی حیثیت سے جنگ کرتے ہیں۔ البتہ بعض لوگ کرائے کے سپاہی بھی ہوتے ہیں، لیکن کچھ واقعی وطن کے دفاع کے جذبے سے لڑتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔
لیکن ہمارا شہید اس سے مختلف ہے۔
ہمارا مجاہد جب میدانِ جنگ میں قدم رکھتا ہے، خواہ وہ شہادت سے سرفراز ہو، جانباز بنے یا صحیح سلامت واپس لوٹے، اس کا مقصد صرف جغرافیائی سرحدوں کا دفاع نہیں ہوتا، بلکہ وہ عقیدے، اخلاق، دین، ثقافت اور اسلامی شناخت کی سرحدوں کے دفاع کے لیے میدان میں اترتا ہے۔ وہ ان بلند معنوی اقدار کی حفاظت کے لیے جہاد کرتا ہے۔
بلاشبہ وطن کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع بھی ایک عظیم اور قابلِ قدر عمل ہے، لیکن صرف سرحدوں کا دفاع کہاں، اور اس کے ساتھ عقیدہ، دین، اخلاق، ثقافت اور شناخت جیسی بلند الٰہی اقدار کے دفاع کا شرف کہاں! ہمارے شہداء کی حقیقت یہی ہے۔
اگر ہم شہادت کو اس سے بھی بلند زاویے سے دیکھیں تو ہمارا شہید درحقیقت اس آیتِ کریمہ کا مصداق ہے:﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ﴾
یعنی اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے۔
شہید اپنی جان کا خدا کے ساتھ سودا کرتا ہے اور یہی شہادت کی حقیقت ہے۔
اسی طرح قرآن فرماتا ہے:﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ﴾
یعنی مؤمنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچائی کے ساتھ نبھایا؛ ان میں سے کچھ اپنی منزل پا چکے ہیں اور کچھ ابھی انتظار میں ہیں۔
یہی شہید ہے؛ وہ جس نے خدا سے کیا ہوا عہد سچائی سے پورا کیا۔ شہادت دراصل خدا سے عہد باندھنے اور اپنی جان کا اسی کے ساتھ سودا کرنے کا نام ہے۔
اسی لیے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مجاہد دنیا کے عام سپاہیوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ آپ میں سے جن لوگوں نے میدانِ جنگ دیکھا ہے، انہوں نے اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا، اور دوسروں نے اسے کتابوں میں پڑھا ہوگا کہ دفاعِ مقدس یا دفاعِ حرم جیسے محاذوں پر جب ایک مؤمن مجاہد اللہ کی راہ میں لڑتا ہے تو اس کا اخلاص زیادہ، توکل زیادہ، عاجزی زیادہ، اور حدودِ الٰہی کی پابندی عام حالات سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔(30 آبان 1400)
شہادت؛ نظام کی بقا کی ضمانت اور رحمتِ الٰہی کا مظہر
شہداء کے مسئلے کو نہایت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ہمیں شہداء کے لیے وہی عظمت اور مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے خود ان کے لیے مقرر فرمایا ہے، جہاں ارشاد ہوتا ہے:﴿يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ﴾
یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں اترتے ہیں، ان کا دشمن کو قتل کرنا بھی اہم ہے اور خود شہید ہو جانا بھی اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنی رحمت کا سچا وعدہ فرمایا ہے۔
جو شخص اس راہ میں اپنی جان قربان کر دیتا ہے، اس کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ وہ ابھی اس دنیا سے مکمل طور پر جدا بھی نہیں ہوتا کہ رحمتِ الٰہی کی نشانیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔ یہاں تک کہ روایت میں ہے کہ جب شہید گھوڑے سے گرتا ہے۔ اس زمانے میں جنگیں گھوڑوں پر لڑی جاتی تھیں تو ابھی زمین تک بھی نہیں پہنچتا کہ اللہ کا وعدہ اس کے سامنے آشکار ہو جاتا ہے۔
یعنی اسی دنیا میں اس کی آنکھوں سے پردے اٹھ جاتے ہیں، وہ حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہے، اللہ کی رحمت اور فضل کو پوری طرح محسوس کرتا ہے اور اسے پا لیتا ہے۔ یہی شہداء کی عظیم قدر و منزلت ہے۔
اگر یہ شہادتیں نہ ہوتیں، اگر یہ ایثار اور قربانیاں نہ ہوتیں تو یہ نظام ہرگز باقی نہ رہتا۔ یہ ایک نوخیز پودا تھا جس پر سخت طوفانوں کی یلغار تھی۔ یہ نظام اس لیے باقی رہا، یہ پودا اس لیے خشک نہ ہوا بلکہ اللہ کے فضل سے ایک تناور درخت بن گیا کہ اس کے پیچھے مجاہدوں کی قربانیاں، ایثار، جذبۂ شہادت اور میدان میں اترنے کا حوصلہ موجود تھا۔
اس سرمایہ کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ دشمن کو پہچاننا چاہیے اور اس کی سازشوں اور فریبوں کو بھی اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔(15 آذر 1395)
دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے شہداء؛ دہشت گردی کی رسوائی اور ملتِ ایران کی استقامت
ہمارے ملک میں سترہ ہزار دہشت گردی کے شہداء ہیں؛ سترہ ہزار شہید! کیا یہ کوئی معمولی تعداد ہے؟ کیا یہ کوئی مذاق کی بات ہے؟
جن لوگوں نے یہ دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیں، وہ آج مغربی ممالک میں آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں۔
یہ دہشت گردی کن لوگوں کے خلاف تھی؟ ایک تاجر کو شہید کیا گیا، ایک کسان کو، ایک عالمِ دین کو، ایک یونیورسٹی کے استاد کو، ایک عبادت گزار مؤمن کو، بچوں کو اور عورتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسلامی انقلاب کی تاریخ میں سترہ ہزار دہشت گردی کے شہداء ثبت ہو چکے ہیں۔
اس حقیقت کے دو پہلو ہیں:
ایک پہلو یہ ہے کہ یہ اُن چہروں کو بے نقاب کرتی ہے جو آج دہشت گردی کے خلاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ ان کے جھوٹے دعووں کے سامنے ایک آئینہ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کس قدر جھوٹے، فریب کار، خبیث اور پست ہیں کہ خونخوار دہشت گردوں کی حمایت بھی کرتے ہیں، اور اسی کے ساتھ خود کو دہشت گردی کا مخالف بھی قرار دیتے ہیں۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک ایسی قوم، جس نے دفاعِ مقدس کے شہداء کے علاوہ بھی سترہ ہزار دہشت گردی کے شہداء پیش کیے ہیں، پھر بھی پوری استقامت کے ساتھ انقلاب کی خدمت میں، انقلاب کے راستے پر، اور انقلاب کے دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے۔
اسی استقامت اور انہی قربانیوں کے ذریعے اس انقلاب اور اس ملت کی عظمت نمایاں ہوئی ہے۔
قرآنِ کریم کا یہ ارشاد:﴿وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾
ایک بشارت ہے؛ ایسی بشارت جو شہداء ملتِ ایران کو دے رہے ہیں، اور ایسی بشارت جو وہ تمام مسلمانوں کو دے رہے ہیں۔(6 تیر 1394)
شہادت ظاہری فقدان اور قربِ الٰہی کی طرف ابدی عروج
شہید ہونا، ہماری نظر میں جو اس دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اور خصوصاً آپ کے لیے جو اس کے والد، والدہ یا شریکِ حیات ہیں، اور جن کی اس سے غیر معمولی محبت ہے، ایک تلخ حقیقت ہے؛ کیونکہ یہ جدائی ہے، محرومی ہے، اپنے عزیز کو کھو دینا ہے۔
ظاہری زندگی کے اعتبار سے یہ ایک فقدان ہے، اسی لیے اس کا غم بھی تلخ ہے۔ شہادت کا ظاہری پہلو یہی ہے کہ انسان اپنے پیارے کو کھو دیتا ہے، اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ پاتا اور اس کی خالی جگہ محسوس کرتا ہے۔
لیکن شہادت کا باطنی جوہر اور اس کی اصل حقیقت ان تمام ظاہری پہلوؤں سے کہیں بلند ہے۔
شہادت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان اچانک اللہ تعالیٰ کے بلند ترین درجات پر فائز ہو جاتا ہے، اس کا مقام فرشتوں سے بھی بلند ہو جاتا ہے، اور اس حقیقی زندگی میں، جس میں ہم سب چالیس، پچاس، ساٹھ یا ستر برس بعد لازماً داخل ہونے والے ہیں اور جو ابدی زندگی ہے، وہ نہایت بلند مقام اور اعلیٰ مرتبہ حاصل کر لیتا ہے، اللہ کی خاص توجہ کا مستحق بنتا ہے، اور قیامت کے دن اس کا فیض دوسروں تک بھی پہنچتا ہے۔
جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے:﴿يَسْعَىٰ نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ﴾
قیامت کے دن کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں ہر طرف تاریکی ہوگی؛ کیونکہ نہ سورج ہوگا اور نہ کوئی دوسرا ذریعۂ نور۔ تمام انسان تاریکی کے عالم میں ہوں گے۔
جب اللہ کے یہ نیک بندے، جن میں آپ کا یہ جوان بھی شامل ہے، آگے بڑھیں گے تو ان کے سامنے اور ان کی دائیں جانب ان کا نور چمکتا ہوا ان کے ساتھ ہوگا۔
بعض دوسرے لوگ، جو اس نور کے مستحق نہیں ہوں گے، حسرت کے ساتھ ان سے کہیں گے: "اپنے نور میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو۔"
تو انہیں جواب دیا جائے گا:﴿ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا﴾
"واپس دنیا کی طرف لوٹ جاؤ اور وہیں سے نور حاصل کرو۔ اگر تمہیں نور حاصل کرنا تھا تو وہ دنیا میں کرنا تھا، یہاں کسی کو نور نہیں دیا جاتا۔"
یہ وہ نور ہے جو انسان نے دنیا میں اپنے ایمان اور اعمال کے ذریعے حاصل کیا تھا، اور آج قیامت میں وہی نور ظاہر اور نمایاں ہو گیا ہے۔
یہ آپ کے اس جوان، اور تمام شہداء کی شخصیت کا دوسرا، حقیقی اور ابدی رُخ ہے۔(29 دی 1390)
ثقافتِ ایثار و شہادت؛ معاشرے کی حرکت اور بیداری کا محرک
شہادت اور ایثار کا مسئلہ کبھی پرانا نہیں ہوتا؛ یہ معاشرے کی حرکت کا محرک اور اس کی زندگی کی روح ہے۔ بعض لوگ اس حقیقت سے غافل ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنی گفتگو، اپنی تحریر اور اپنے طرزِ عمل کے ذریعے ایثار اور شہادت کو منفی اور ناشکری کے انداز سے پیش کرتے ہیں۔ یہ ان کی غفلت کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ شہداء اور ایثار کرنے والوں کی حرمت کا تحفظ کسی معاشرے، ملت اور ملک کے لیے کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
آپ دیکھیے کہ حضرت حسین بن علیؑ کا پاک خون کربلا میں غربت کے عالم میں زمین پر بہایا گیا، لیکن اسی لمحے سے امام سجادؑ اور حضرت زینب کبریٰؑ کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ قرار پائی کہ وہ اس پیغام کو اٹھائیں اور مختلف طریقوں سے پوری دنیائے اسلام تک پہنچائیں۔
یہ تحریک دینِ حقیقی، دینِ حسینؑ، اور اس مقصد کے احیاء کے لیے جس کی خاطر امام حسینؑ نے شہادت قبول کی، نہایت ضروری اور ناگزیر تھی۔
یقیناً امام حسینؑ کا اجر اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ تھا۔ اگرچہ لوگ ان کے واقعے کو خاموشی کے سپرد بھی کر سکتے تھے، لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام سجادؑ نے اپنی پوری زندگی، جو واقعۂ کربلا کے بعد تقریباً تیس برس پر مشتمل تھی، ہر موقع پر امام حسینؑ، ان کے خون اور ان کی شہادت کا ذکر کیوں کیا؟ کیوں لوگوں کو ہمیشہ کربلا کی یاد دلاتے رہے؟
یہ کوشش کس مقصد کے لیے تھی؟
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف بنی اُمیہ سے انتقام لینے کے لیے تھا، حالانکہ بعد میں بنی اُمیہ خود ختم ہو گئے تھے۔
پھر امام رضاؑ، جو بنی عباس کے دور میں تھے، ریّان بن شبیب کو کیوں حکم دیتے ہیں کہ اپنے درمیان امام حسینؑ کی مصیبت کا ذکر کرو، جبکہ اس وقت بنی اُمیہ کا وجود ہی باقی نہیں رہا تھا؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ امام حسینؑ کا راستہ اور ان کا خون، اسلامی امت کی عظیم تحریک کا عَلَم اور پرچم ہے، جو اسے اپنے اسلامی اہداف کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ پرچم ہمیشہ بلند رہنا چاہیے، اور حقیقت یہی ہے کہ آج تک یہ پرچم سربلند ہے اور آج بھی انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے۔(16 تیر 1383)
شہادت سب سے بڑی فضیلت اور راہِ خدا میں ایثار کی بلند ترین منزل
تمام قوموں اور ملتوں میں سب سے زیادہ عزت اسی کو دی جاتی ہے جو قربانی دیتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم کے درمیان وہ نوجوان جو اپنی جوانی کے عین عالم میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر فداکاری کرتا ہے، سب سے زیادہ محترم اور عزیز سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح ہر ملک اور ہر قوم میں وہ خاندان بھی سربلند اور فخر کے قابل ہوتا ہے جو اپنے جوان اور پھلتے پھولتے بیٹے کو اعلیٰ قومی اور انسانی مقاصد کی خاطر قربان کر دیتا ہے۔
یہ خصوصیت صرف ہمارے ملک تک محدود نہیں ہے، لیکن ہمارے ملک کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں شہادت اور فداکاری کو دینی لحاظ سے سب سے بلند فضیلت شمار کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے:"فَوْقَ كُلِّ بِرٍّ بِرٌّ حَتَّى يُقْتَلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"
یعنی ہر نیکی سے اوپر ایک نیکی ہے، یہاں تک کہ انسان اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، اور اس کے بعد کوئی اور عمل اس سے بلند نہیں ہوتا۔
بہت سے لوگوں نے سالہا سال اس ملک میں یہ کوشش کی کہ اس قوم سے فداکاری، مردانگی اور ایثار کا جذبہ چھین لیا جائے۔(09 شهریور 1378)









آپ کا تبصرہ