حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سازمان تبلیغات اسلامی قم کے ڈائریکٹر جنرل حجت الاسلام و المسلمین شعبان زادہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: شہر قم کو زائرین کے نظم و انتظام اور خدمت کے لیے پانچ آپریشنل حلقوں میں منظم کیا گیا ہے: پہلا حلقہ: پیامبر اعظم (ص) بلیوارڈ، دوسرا حلقہ، پیامبر اعظم (ص) بلیوارڈ اور حرم مطہر تک جانے والی سترہ سڑکوں کے درمیان کا علاقہ، تیسرا حلقہ، شہر کے داخلی راستوں تک جانے والی سڑکیں، چوتھا حلقہ، داخلی راستے اور پانچواں حلقہ، شہر سے باہر پارکنگ کی جگہیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ان پانچ مقامات میں زائرین کی خدمت کے لئے 1200 سے زائد موکب تعینات کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: ان مواکب میں زائرین کی خدمت کے لیے 15 ملین سے زیادہ منرل واٹرز اور تین ملین ہلکے کھانے تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان کل مواکب میں سے 45 موکب غیر ایرانی افراد اور گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں، 155 موکب دیگر صوبوں سے ہیں اور باقی سب قم صوبے سے ہیں۔

حجت الاسلام و شعبان زادہ نے مزید کہا: تمام مواکب کی جگہ کا تعین حرم مطہر تک جانے والی 17 سڑکوں اور پیامبر اعظم (ص) بلیوارڈ پر سکیورٹی حکام کی مکمل نگرانی میں کیا گیا ہے۔ مواکب کی تعیناتی ہفتہ سے شروع ہو گی اور مرکزی خدمات پیر کو انجام دی جائیں گی۔
انہوں نے اس تقریب میں مساجد کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: قم شہر کی 550 مساجد کو مکمل طور پر آمادہ کر دیا گیا ہے اور منعقدہ چھ نشستوں کے ذریعے ائمہ جماعت اور مساجد کے ٹرسٹیوں کے نمائندوں کو بھی ان کی ذمہ داریوں اور عملی پروگراموں سے آگاہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا: اس کے علاوہ، مساجد کے ساتھ 70 حسینیہ و امام بارگاہ بھی خدمت کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور تمام مساجد اور حسینیوں کی پوزیشن متعین ہے۔ اس کے علاوہ، پہلے مرحلے میں 50 سے زائد مذہبی انجمنیں زائرین کی رہائش اور خدمت کے لیے تیار ہیں۔ تقریباً ایک ہزار فعال خواتین کارکنوں کو 50 سے زائد محلوں میں تقریباً 20 ہزار گھروں کا دورہ کر کے اور براہ راست رابطہ کرکے زائرین کی رہائش میں عوامی شرکت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
سازمان تبلیغات اسلامی قم کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا: ان شاء اللہ تمام مواکب خدمت میں پیش پیش ہوں گے، مساجد معاون ہوں گی اور خواتین عوامی شرکت کا راستہ بنائیں گی اور میڈیا اس عظیم واقعہ کو دنیا تک پہنچائے گا۔









آپ کا تبصرہ