ترتیب و ترجمہ: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
حوزہ نیوز ایجنسی|
ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہای(رہ) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔
اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔
دوسری خصوصیات: احیائے کتاب خدا
وہ بچپن ہی میں دینی طالبِ علم بن گئے۔ جسم نحیف، آنکھیں کمزور، اور مزاج میں حیا نمایاں تھی، مگر حجرے کی چٹائی اور فرش ان کے قدموں سے ہلتا رہتا تھا۔ ایک ہمحجرہ، جو عمر اور وضع میں ان جیسا ہی تھا، نے کھانے کا انتظام کیا۔ بہت انتظار کے بعد بھی دیکھا کہ وہ نہیں بیٹھتے، بلکہ حجرے میں آگے پیچھے چلتے رہتے ہیں تاکہ اس دن کے درس کے ایک مشکل نکتے کو سمجھ سکیں۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ وہ کوشش تو کر رہے ہیں، مگر ابھی اس مفہوم پر کامل دسترس حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
آخرکار ان کے دوست کا صبر ختم ہوا اور اس نے کہا:“آقا سید علی! چھوڑ دیجیے… آئیے کھانا کھاتے ہیں… جو بات آپ کو سمجھ نہیں آئی، وہ مجھے بھی نہیں آئی۔ بلکہ میرا خیال ہے مدرسے میں کسی کو بھی سمجھ نہیں آئی ہوگی، شاید خود استاد کو بھی پوری طرح معلوم نہ ہو۔ چھوڑ دیں…
سید علی ایک لمحہ رکے پھر نہایت سکون اور وقار کے ساتھ فرمایا:دوستِ عزیز! جب میں چاہتا ہوں کہ میرا نمونہ عمل امام جعفر صادق علیہ السلام ہوں، تو کیا یہ میرے لئے زیب دیتا ہے کہ میں اس مسئلے کو نہ سمجھ سکوں؟
بعد میں اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے (مفہوماً) کہا:میں برسوں سے اپنی نماز کے قنوت میں دعا کر رہا ہوں کہ اے خدا! مجھے اپنے دین کا زندہ کرنے والا بنا دے… مگر ابھی تک اُس مقام تک نہیں پہنچ سکا جس کی خواہش تھی .بڑے لوگ دور کی سوچ رکھتے ہیں، اور ان کی دعائیں اور آرزوئیں بھی سوچ سمجھ کر ہوتی ہیں۔
اگر امام خمینی رہ نے اسلام کو عملی میدان میں لا کر ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھی، تو شہید رہبر نے قرآن کریم کا پرچم بلند کیا اور اس کتاب الہی پر خاص توجہ دے کر اسے شیعہ معاشرے میں رائج اور زندہ کیا۔ہمیشہ شیعوں پر یہ الزام لگایا جاتا رہا کہ وہ کتابِ خدا کی طرف کم توجہ دیتے ہیں؛ ان میں مفسرین کم ہیں، حافظ اور قاری اس قدر نہیں، اور قرآنی محافل زیادہ رونق نہیں رکھتیں۔ لیکن گزشتہ صدی میں علامہ سید حسین طباطبایی نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر “المیزان” کے ذریعے ایک انقلاب برپا کیا، اور انقلاب اسلامی کے شہید رہبر، جو علامہ سے گہری وابستگی رکھتے تھے، قرآن کو معاشرے کے متن میں لے آئے۔
وہ قرآنی محافل کے بارے میں حساس تھے، حافظان قرآن ، قراء اور مفسرین کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ، اور قرآن کریم کی احیاء کے لیے جو کچھ ضروری سمجھتے، عملی جامہ پہناتے رہے ،خواہ میڈیا میں تخصصی و تبلیغی پروگرام ہوں یا دارالقرآن مراکز اور قرآنی نشستوں کے قیام ۔ قرآن کریم سے ان کی محبت اور توجہ اس حد تک تھی کہ آج ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار حافظ، قاری، مفسر اور قرآنی کارکن نظر آتے ہیں جو اسلامی معاشروں میں، محلوں اور وطن کے گوشے گوشے میں قرآن کا پرچم بلند کیے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شہید رہبر کی آخری عوامی نشست بھی قرآن کریم کی تکریم کے لیے منعقد ہوئی۔ شدید سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی خطرات کے باوجود، اگرچہ فضائیہ کے افسران کا اجلاس منعقد نہ ہو سکا، مگر انہوں نے قرآنی محفل کو ہر گز منسوخ ہونے نہیں دیا۔
ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں ایسے حکمران ضرور گزرے ہیں جنہیں دینی مباحث سے دلچسپی تھی، بلکہ بعض ایسے بھی تھے جو خود دینی شعائر کے پابند نہ ہونے کے باوجود چاہتے تھے کہ وہ دین کے حامی اور شعائرِ اسلامی کے سرپرست دکھائی دیں۔ لیکن ایران کی تاریخِ حکمرانی میں یہ شہید رہبر کی منفرد خصوصیت تھی کہ انہوں نے عملی، بنیادی اور اسٹریٹجک انداز میں اپنے استاد اور مرشد کی وصیت پر عمل کیا اور قرآن کو حقیقی معنوں میں معاشرے میں زندہ کیا اور اسے بلند مقام پر فائز کیا۔









آپ کا تبصرہ