حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم میں حسینیہ "بوی سیب حسینی" میں 17ویں محرم کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم کے استاد اور جامعہ مدرسین کے رکن آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے کہا کہ مجالسِ عزا میں شرکت اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں سے عملی براءت کا اظہار اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے فلسفے کو واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب حق پر عمل نہ ہو اور باطل غالب آ جائے تو مؤمن کو شہادت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آج بھی دنیا میں صہیونی حکومت کے مظالم اسی حقیقت کی یاد دلاتے ہیں۔
آیت اللہ فاضل لنکرانی نے امام حسین علیہ السلام کے اس ارشاد کا حوالہ دیا کہ "لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے، آزمائش کے وقت حقیقی دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں۔" ان کے مطابق یہی حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مخالفین دین کی خاطر نہیں بلکہ دنیاوی مفادات کے لیے میدان میں آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیندار افراد نے امام حسین علیہ السلام کے خلاف جنگ کی، تاکہ دین کو سیاست سے الگ ثابت کیا جا سکے، جبکہ یہ دعویٰ تاریخی حقائق اور خود امام حسین علیہ السلام کے ارشادات کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا پرستی اور لالچ کی وجہ سے لوگ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ گئے اور ابن زیاد نے قبائلی سرداروں کو رشوت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ ان کے بقول شہید مطہری نے بھی واقعۂ کربلا کی اس تحریف کی نشاندہی کی تھی۔
آیت اللہ فاضل لنکرانی نے کہا کہ آج امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ، رہبرِ شہید اور شہداء کے خون کی برکت سے ملتِ ایران دین پر ثابت قدم ہے اور یہی عاشورائی جذبہ ملک کی کامیابی اور استقلال کا راز ہے۔









آپ کا تبصرہ