اتوار 14 جون 2026 - 18:17
عاشورا، اسلام کے تحفظ کی عظیم تحریکِ مقاومت کا نام ہے: آیت‌ اللہ فاضل لنکرانی

حوزہ/ سربراہ مرکز فقہی ائمہ اطہار علیہم‌السلام آیت‌ اللہ محمدجواد فاضل لنکرانی نے کہا ہے کہ واقعۂ عاشورا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ اسلامِ ناب محمدی صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے تحفظ کی عظیم تحریکِ مقاومت اور ایک ہمہ گیر فکری و دینی مدرسہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ مرکز فقہی ائمہ اطہار علیہم‌السلام آیت‌ اللہ محمدجواد فاضل لنکرانی نے کہا ہے کہ واقعۂ عاشورا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ اسلامِ ناب محمدی صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے تحفظ کی عظیم تحریکِ مقاومت اور ایک ہمہ گیر فکری و دینی مدرسہ ہے۔

انہوں یزد میں حوزه علمیہ خواهران کے مدیران اور اساتذہ کے اجتماع سے خطاب کیا اور امامت کے قرآنی مبانی، فلسفۂ عاشورا اور عصر حاضر میں حوزوی خواتین کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔

آیت‌اللہ فاضل لنکرانی نے کہا کہ امامت دین اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے اور قرآن کریم کی متعدد آیات اس کے محوری کردار پر دلالت کرتی ہیں۔ انہوں نے آیتِ تبلیغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ولایتِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا ابلاغ خود رسالتِ پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا تسلسل ہے۔

انہوں نے آیتِ مودّت “قُل لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَىٰ” کو اہل بیت علیہم‌السلام کی محبت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محبت صرف قلبی جذبات نہیں بلکہ عملی اطاعت اور پیروی کا تقاضا کرتی ہے۔

عزاداریٔ امام حسین علیہ‌السلام کو شعائرِ الٰہی کا حصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوگواری اور اظہارِ غم نہ صرف جائز بلکہ دینی و قرآنی تعلیمات کے مطابق مودّتِ اہل بیت کا عملی اظہار ہے۔

انہوں نے واقعۂ کربلا کو “جهاد ذَبّی” کا واضح مصداق قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ‌السلام کی جدوجہد دراصل دین کے اصل وجود کے دفاع اور اسلام کو تحریف و نابودی سے بچانے کی کوشش تھی۔ اس نوعیت کے جہاد میں پورا معاشرہ ذمہ دار ہوتا ہے۔

آیت‌اللہ فاضل لنکرانی نے کہا کہ عاشورا تاریخ اسلام کا سب سے بڑا مدرسۂ مقاومت ہے، جہاں امام حسین علیہ‌السلام نے اپنی جان، اہل خانہ اور اصحاب کی قربانی دے کر دینِ خدا کے تحفظ کی لازوال مثال قائم کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عصرِ حاضر میں بھی فکرِ عاشورا، انقلاب اسلامی کے فکری ڈھانچے اور مقاومت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

طالبات کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبات معارف کی ترسیل اور نسلِ نو کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں، اور انہیں فکری و استدلالی صلاحیت کے ساتھ معاشرتی و فکری چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

آخر میں انہوں نے احکامِ شرعی سے متعلق بعض شبہات کے جواب میں کہا کہ اسلامی قوانین انسانی ظاہری معیاروں کے مطابق نہیں بلکہ حقیقی مصالحِ الٰہی پر مبنی ہیں، جنہیں محدود انسانی ادراک سے مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha