پیر 15 جون 2026 - 13:58
انقلابِ اسلامی عصرِ غیبت میں تاریخِ اسلام کا اہم ترین موڑ ہے: آیت اللہ فاضل لنکرانی

حوزہ/ مرکز فقہی ائمہ اطہار علیہم السلام کے سربراہ آیت اللہ شیخ محمد جواد فاضل لنکرانی نے کہا ہے کہ آج امتِ مسلمہ تاریخِ اسلام کے ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہی ہے اور عصرِ غیبت میں اسلامی انقلابِ ایران کی کامیابی تاریخِ اسلام کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی ہے۔ ان کے بقول انقلابِ اسلامی کی کامیابی، آٹھ سالہ دفاعِ مقدس میں فتح اور اس کے بعد انقلاب کے تسلسل نے اسلامی معاشرے کو عزت، اقتدار اور سربلندی کے ایک نئے مرحلے تک پہنچایا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکز فقہی ائمہ اطہار علیہم السلام کے سربراہ آیت اللہ شیخ محمد جواد فاضل لنکرانی نے کہا ہے کہ آج امتِ مسلمہ تاریخِ اسلام کے ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہی ہے اور عصرِ غیبت میں اسلامی انقلابِ ایران کی کامیابی تاریخِ اسلام کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی ہے۔ ان کے بقول انقلابِ اسلامی کی کامیابی، آٹھ سالہ دفاعِ مقدس میں فتح اور اس کے بعد انقلاب کے تسلسل نے اسلامی معاشرے کو عزت، اقتدار اور سربلندی کے ایک نئے مرحلے تک پہنچایا ہے۔

یزد صوبے کے سپاہ الغدیر کے کمانڈروں اور افسران کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ فاضل لنکرانی نے کہا کہ قرآنِ کریم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر انبیائے کرام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے انسانیت کی ہدایت کے لیے ایک منظم اور بامقصد منصوبہ مرتب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان، عالمِ دین اور مجاہد کو اس الٰہی منصوبے میں اپنی ذمہ داری اور مقام کو پہچاننا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کی تاریخ شہداء کے پاکیزہ خون سے روشن ہے اور دین کی بقا و سربلندی کے لیے دی جانے والی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ آیت اللہ فاضل لنکرانی کے مطابق امام خمینیؒ کی تحریک دراصل قیامِ عاشورا کا تسلسل تھی، کیونکہ دین کے تحفظ اور اس کے دوام کے لیے ہر جدوجہد کا تعلق گزشتہ اور آئندہ الٰہی تحریکوں سے ہوتا ہے۔

انہوں نے رہبرِ انقلاب کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ اسلامی انقلاب ظہورِ امام زمانہ علیہ السلام کی تمہید ہے، اور کہا کہ اس مقصد کے لیے انسانی بیداری ضروری ہے۔ انہوں نے بالخصوص طلبہ اور مبلغین پر زور دیا کہ وہ اپنے کردار اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھیں۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو انقلاب اور دینی اقدار کے تحفظ کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ نے انقلاب کی کامیابی کے بعد اس ادارے کی بنیاد رکھی، جس نے دفاعِ مقدس سمیت مختلف میدانوں میں بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ سپاہ صرف انقلاب کی نہیں بلکہ دینِ الٰہی اور اسلامی اقدار کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ نے دین کو صرف انفرادی عبادات تک محدود تصور کرنے کے بجائے اسے ایک مکمل نظامِ حیات اور حکومتِ الٰہی کے قیام کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق سپاہ پاسداران اسی فکر اور نظریے کے عملی نفاذ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے ماہِ محرم کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام ظلم و جبر کے خلاف اور حاکمیتِ دین کے دفاع کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب بھی محرم اور صفر کی برکتوں سے کامیاب ہوا اور آج ایسی منزل پر پہنچ چکا ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل اسلامی قوت کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے عوام کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشی مشکلات کے باوجود لوگ اپنے اصولوں اور اقدار سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، جو ان کی فکری و معنوی بیداری کی علامت ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر آیت اللہ فاضل لنکرانی نے ولایتِ فقیہ کے نظام کو اسلامی معاشرے کی استحکام بخش قوت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ دشمن ابتداء ہی سے اس ادارے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی اتحاد اور دینی ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے اختلاف اور تفرقے سے اجتناب ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha