تحریر: عادل فراز
حوزہ نیوز ایجنسی| آخرکار ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے ہوگیا، البتہ ابھی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ۔ ۱۹ جون کو سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں فریقین اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے۔ اس کے بعد مذکرات کا آغاز ہوگا۔ معاہدے کی رو سے ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیاں ختم ہوجائیں گی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران کو جنگی تاوان ادا کرنا ہوگا، جو تقریباً تین سو ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔
مذاکرات کے دوران ایران کے چوبیس ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کئے جائیں گے، جبکہ معاہدے سے قبل امریکہ ایران کو بارہ ارب ڈالر جاری کرے گا۔اس کے علاوہ چودہ نکاتی مسودے میں جنگ اور پابندیوں کے خاتمے کے لیے کئی اہم نکات شامل ہیں۔ معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی بازار میں بھی رونق لوٹ آئی ۔ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ۔ آبنائے ہرمز کی بحالی سے عالمی توانائی کی سپلائی مستحکم ہوگی، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ملکوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔عالمی تجزیہ نگار اس سفارت کاری اور معاہدے میں پیش رفت کو صدی کی اہم کامیابیوں میں شمار کر رہے ہیں، کیونکہ جنگ کا خاتمہ خطے میں امن کے ساتھ عالمی معیشت کے استحکام کا سبب بھی بنے گا۔ البتہ موجودہ صدی میں یہ پہلا ایسا معاہدہ ہے جس میں نام نہاد عالمی طاقت بیک فٹ پر اور نئی طاقت یعنی ایران فرنٹ فٹ پر ہے۔
معاہدے کے اعلان کے ساتھ امریکی عوام اور صدر ٹرمپ نے بھی راحت کی سانس لی ہوگی ۔کیونکہ ٹرمپ اس جنگ سے نکلنے کے لئے بہت بیتاب تھے ۔گوکہ اسرائیل اب بھی اس معاہدے سے ناخوش ہے ۔اس کی بنیادی وجہ اسرائیل کا ناجائز وجود ہے ۔اگر امریکہ نے اسرائیل کے خلاف جاکر معاہدے پر دستخط کئے تو اسرائیل آئندہ کئی خطرات سے دوچار ہوسکتاہے ۔فی الوقت جیساکہ نظر آرہاہے اسرائیل معاہدے پر رضامند نہیں ہے ۔اس معاہدے سے اسرائیل کو ایک بڑا نقصان یہ ہوگاکہ اب اُسے ایران کے ساتھ تنہا الجھناپڑے گا۔امریکہ براہ راست اور اعلانیہ اس کی مدد سے دریغ کرے گا۔جب کہ امریکہ پس پردہ کمک سے گریز بھی نہیں کرسکتا کیونکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اس کے مفادات کا اہم مرکز ہے ۔امریکہ نے خطے میں اپنی چودھراہٹ اور آمریت کے تسلط کے لئے اسرائیل کےناجائز وجود کو جواز بخشاتھا۔لہذا یہ ممکن نہیں کہ امریکہ پس پردہ اسرائیل کی مدد نہ کرے ۔معاہدے پر دستخط کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے امکانات ختم تو نہیں ہوں گے البتہ کم ضرور ہوجائیں گے ۔کیونکہ امریکہ بہت دن تک کسی معاہدے کا پابند نہیں رہ سکتا۔وہ ہر معاہدے اور ہر جنگ میں پہلے اپنا مفاد تلاش کرتاہے ۔چونکہ اس جنگ میں امریکہ کو بھاری نقصان جھیلناپڑاہے لہذا آئندہ کچھ سا ل تک جنگ کے امکانات معدوم ضرور ہوجائیں گے ۔ایران نے آخر تک جنگ میں اپنی برتری باقی رکھی ،اس بناپر معاہدے میں ایران کےشرائط حاوی ہیں ۔یہی ایران کی کامیابی بلکہ فتح مبین ہے ۔
امریکی صدر ٹرمپ نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر لکھا کہ: ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، سبھی لوگوں کو مبارک ہو۔ اس کے تحت آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی کے کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو معمول پر لانے کا وقت آگیا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران کو صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے محدود سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی۔‘‘ٹرمپ کا حال تو یہ ہے کہ ؎
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
سوال یہ ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کی بات کب کی تھی؟ ایران کے سپریم لیڈر شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ نے ہمیشہ کہا کہ: ’’جوہری ہتھیار بنانا میرے نزدیک جائز نہیں۔‘‘ کیونکہ جوہری ہتھیار انسانوں کی اجتماعی نسل کشی کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ’’ایران کو پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے محدود سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی‘‘ ایک مضحکہ خیز بیان ہے۔ ایران نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ یورینیم کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرے گا، البتہ یورینیم کے بہانے ایران پر جنگ مسلط کی گئی۔امریکی صدر نے بی۔۲ جنگی طیاروں کے ذریعے ایران پر حملہ کرکے جوہری طاقت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، مگر ان کا یہ دعویٰ بھی تمام تر دعوؤں کی طرح جھوٹ اور غلط ثابت ہوا۔یورونیم کو افزودہ کرنا اور اس کو قومی مفاد میں استعمال کرنا اسی طرح ایران کا حق ہے جس طرح اسرائیل اور امریکہ سمیت دیگر ملک کررہے ہیں ۔اگر یورونیم کی افزودگی اور نیوکلیائی ہتھیار رکھنا انسانیت کے لئے خطرناک ہے تو پھر امریکہ اور اسرائیل کو ایسے ہتھیار رکھنے کا حق کس نے دیا ؟دوسری جانب ٹرمپ نے کہا کہ ’’آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی کے کھول دیا جائے گا۔‘‘ سوال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز بند کب تھا؟ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز پوری دنیا کے لیے کھلا ہوا تھا۔ جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، جس کو کھلوانے میں امریکہ کو ’’چھٹی کا دودھ‘‘ یاد آگیا۔اس صورتِ حال سے تنگ آکر امریکہ نے بحری ناکہ بندی شروع کی، جسے ایران نے کئی بار ناکام بنا کر اپنے مال بردار جہازوں کو ہدف تک پہنچایا۔ اگر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنا اور اسے کھلوانا اتنا آسان ہوتا تو امریکہ کبھی ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہ آتا۔ چوطرفہ ناکامیوں نے امریکہ کو معاہدے پر مجبور کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایران کے ساتھ پنجہ آزمائی کرکے امریکہ نے کیا حاصل کیا؟ اس سوال کی گونج اب عالمی تجزیہ نگاروں کی تحریروں میں بھی سنائی پڑ رہی ہے۔ کیونکہ جن بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ امریکہ مشرق وسطیٰ، خصوصاً سمندر میں جنگی جہازوں کے ساتھ داخل ہوا تھا، وہ تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ نہ تو امریکہ ایران میں رجیم تبدیل کر سکا، نہ ایران کا یورینیم حاصل کر سکا، اور نہ ہی اس کے بی۔۲ جنگی طیارے ایران کی جوہری طاقت پر کوئی فیصلہ کن ضرب لگا سکے۔کشمکش کا آغاز رجیم کی تبدیلی اور یورینیم پر قبضے کے دعوؤں سے ہوا تھا، لیکن جب یہ ممکن نہ ہو سکا تو امریکہ نے پینترا بدلا اور کہا کہ ہم ایران کے میزائل پروگرام کو محدود یا ختم کر دیں گے۔ یہاں بھی ناکامی ہاتھ آئی تو آبنائے ہرمز پر تناتنی ہوگئی۔ ٹرمپ نے پھر اعلان کیا کہ امریکی فوجیں آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کریں گی، مگر کنٹرول تو دور، امریکی فوجیں آبنائے ہرمز میں داخل بھی نہ ہو سکیں، چہ جائیکہ دعوے یہ تھے کہ ایران میں زمینی آپریشن کا آپشن بھی موجود ہے۔آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام ٹرمپ پوری دنیا سے فریاد کرتا ہوا نظر آیا، مگر کوئی اس کی مدد کے لیے نہیں پہنچا۔ امریکہ کو عالمی سطح پر ایسی ذلت اور تنہائی کا اس سے پہلے کبھی سامنا نہیں ہوا۔ آخرکار بات جنگ سے معاہدے تک پہنچ گئی۔ معاہدہ پہلے بھی ایران کی شرطوں پر ہو رہا تھا اور آج بھی صورت حال بدلی نہیں ہے۔ایران کی کامیابی یہ ہے کہ وہ نہ جھکا اور نہ دبا۔ اس نے امریکی حملوں کا جواب دلیری کے ساتھ دیا، خطے میں امریکی فوجیوں پر زمین تنگ کر دی، اس کے خطرناک اسلحے کو دھول چٹا دی، خوف ناک جنگی بیڑوں کو اپنے بحری حدود سے باہر نکال دیا اور امریکی دفاعی نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایران نے امریکی مطالبات مسترد کرکے اپنے مطالبات منوائے، اور بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ وہ مقاومت کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوا ۔خاص طورپر لبنان پر اسرائیلی جارحیت کا دنداں شکن جواب دیا۔
اب آتےہیں معاہدے پر ایران کے موقف کی طرف ۔تہران میں ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ’’ایران ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی رہا ہے، تاہم معاہدے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ایران اپنے نقصانات اور جنگ کے دوران ہونے والے جرائم کو بھول جائے گا۔‘‘انہوں نے معاہدے کو منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کی تلافی اور لبنان میں مکمل جنگ بندی سے مشروط قرار دیا۔ جبکہ اسرائیل لبنانی حدود سے انخلاء اور جنگ بندی پر راضی نہیں ہے، مگر امریکی مطالبے پر اسے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ کیونکہ اگر اسرائیل امریکی مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گا تو نتن یاہو کے اقتدار کے لئےخطرات بڑھ جائیں گے۔
اس جنگ نے امریکہ کو کئی سبق سکھائے ہوں گے۔ اول تو یہ کہ ہر ملک کو وینزویلا سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔ دوسرے یہ کہ جنگ شروع کرنا امریکہ کے اختیار میں ہے، مگر جنگ کا خاتمہ اس کے بس میں نہیں۔ تیسرے یہ کہ امریکہ جس اسلحے اور دفاعی نظام پر بھروسہ کرکے دنیا پر بادشاہت کا خواب دیکھ رہا ہے، وہ اس کی حفاظت اور دفاع کے لیے ناکافی ہے۔چوتھے یہ کہ اسرائیل کی پشت پناہی اور اسلحہ کی فراہمی پر اُسے غوروخوض کرنا ہوگا، کیونکہ عالمی سطح پر امریکی ساکھ کی بربادی میں اسرائیل کا ناقابلِ فراموش کردار ہے۔ پانچواں نکتہ یہ ہے کہ امریکہ اب عالمی طاقت نہیں رہا۔ اس جنگ کے بعد نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا میں بھی طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔ دنیا اب امریکی دھونس کو برداشت نہیں کرے گی، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات اور فوجی مراکز غیر محفوظ ہیں۔ اس بنا پر امریکہ کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔









آپ کا تبصرہ