حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے حوالے سے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگرچہ ان کی ذاتی رائے مختلف تھی، تاہم ایرانی عوام کے حقوق اور محاذِ مقاومت کے تحفظ کے بارے میں متعلقہ حکام کی یقین دہانی کے بعد اس کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے کی تمام شرائط پر عمل ہوگا اور مستقبل کے مذاکرات قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ایران کی پرجوش اور وفادار قوم!
جیسا کہ آپ آگاہ ہو چکے ہیں، ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان ایک مفاہمتی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے متعلقہ ذمہ داران نے خیرخواہی اور نیک نیتی کے ساتھ بہت سی کوششیں کیں، البتہ امریکی صدر نے اپنی بے بسی کے باعث اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف ذرائع اور دباؤ کے حربے استعمال کیے۔
اصولی طور پر میری رائے کچھ اور تھی، لیکن چونکہ محترم صدرِ جمہوریہ نے، جو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اپنی جانب سے اور کونسل کے دیگر اراکین کی طرف سے ایرانی قوم کے حقوق اور محاذِ مزاحمت کے تحفظ کے حوالے سے مجھے یقین دہانی کرائی اور اس کی ذمہ داری قبول کی، اس لیے میں نے اس کی اجازت دی۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر امریکی فریق کسی قسم کی زیادتی یا ناجائز مطالبات کرے گا تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ آج سے ہم، یعنی آپ سربلند قوم اور یہ ادنیٰ خادم، ان بیان کردہ شرائط کے عملی نفاذ کے منتظر رہیں گے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مستقبل میں ہونے والے براہِ راست مذاکرات کو دشمن کے مؤقف کو قبول کرنے کے معنی میں نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ہمیں امید ہے کہ ہمارے آقا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعائے خیر ایران کی باعزت قوم کے لیے نصرت، کامیابی اور فتوحات کا باعث بنے گی۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
28 خرداد 1405
(18 جون 2026)









آپ کا تبصرہ