حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم کے حوزہ علمیہ کے اساتذہ کی انجمن کے نائب سربراہ آیت اللہ عباس کعبی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران عوامی حقوق، قومی مفادات اور ملکی خودمختاری سے متعلق اپنے بنیادی اصولوں اور سرخ خطوط پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور تمام فیصلے قومی عزت و وقار اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔
انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلط کردہ جنگ کے خاتمے اور موجودہ کشیدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے بعض اہم امور پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ان میں ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کے لیے ضروری انتظامات، خطے میں مزاحمتی محاذ کے اتحاد کا تحفظ اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ کے خاتمے جیسے نکات شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کا معاملہ جوہری مذاکرات سے الگ ہے اور ان دونوں موضوعات کو آپس میں نہیں ملایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جوہری مذاکرات پر جنگ کے خاتمے کے بعد الگ سے غور کیا جائے گا۔
آیت اللہ کعبی نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کی استقامت اور مزاحمت کے باعث امریکہ متعدد مواقع پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد بھی امریکی فریق نے اپنی بعض مطالبات میں نرمی دکھائی ہے، تاہم کسی ممکنہ معاہدے کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاہدے پر اتفاق ہوتا ہے تو اس کا اعلان صرف ملک کے سرکاری اور بااختیار اداروں کی جانب سے کیا جائے گا، جبکہ میڈیا میں گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
آیت اللہ کعبی نے مزید کہا کہ اہم قومی فیصلے قانونی طریقہ کار کے تحت قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے ذریعے اور رہبرِ انقلاب اسلامی کی منظوری کے بعد کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ انقلاب ملک کے تمام معاملات پر مکمل نظر رکھتے ہیں اور ان کی پالیسیاں قومی مفادات، ملکی اقتدار اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہیں۔









آپ کا تبصرہ