پیر 29 جون 2026 - 19:43
امریکی و اسرائیلیوں کا اپنے جرائم پر فخر کا اظہار، قانونی اعتبار سے ان کا اعترافِ جرم ہے

حوزہ / رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے عدلیہ کو ہدایت کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے گزشتہ سال ایران پر کیے گئے حملوں میں ہونے والے جنگی جرائم کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اسے ایرانی عوام کے پامال شدہ حقوق کی بحالی کے لیے ایک اہم قانونی اور عدالتی مسئلہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی پیروی کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم عدلیہ کے ہفتے اور شہید آیت اللہ بہشتی کی برسی کے موقع پر جاری کیا گیا۔

انہوں نے کہا: بعض امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات اور ان جرائم پر فخر کا اظہار، قانونی اعتبار سے ان کے جرم کا اعتراف ہے اور یہ ایرانی قوم کے حقوق کی بحالی کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

رہبر معظم نے کہا: جون 2025ء اور فروری 2026ء میں ہونے والی دو مسلط کردہ جنگوں میں شہید ہونے والوں، زخمیوں اور ملک کو پہنچنے والے جسمانی، نفسیاتی اور مادی نقصانات کی بنیاد پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں قانونی مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر میناب اور لامرد میں بچوں کی شہادت، طبی مراکز اور عوامی خدمات کی تنصیبات پر حملوں، اور نومولود بچوں سے لے کر بزرگ شہریوں تک کی اموات کو سنگین جنگی جرائم قرار دیا۔

رہبر معظم انقلاب نے کہا: عدلیہ کی ذمہ داری صرف انفرادی مقدمات تک محدود نہیں بلکہ عوامی حقوق کے تحفظ، قانونی آزادیوں، انصاف کے قیام، بدعنوانی کے خاتمے، قوانین کے نفاذ اور ملکی مفادات کے تحفظ تک بھی پھیلی ہوئی ہے اور ان فرائض کی ادائیگی سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مضبوط ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے قانونی اقدامات مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha