ہفتہ 20 جون 2026 - 02:08
علامہ شہنشاہ نقوی: حسینؑ؛ وہ پھول جو علیؑ و فاطمہؑ کی دسترَس میں کھلا اور جنت کی خوشبو بن گیا

حوزہ/پاک محرم ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام عشرۂ محرم کی تیسری مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے مولائے کائنات، امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی حیاتِ طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کس طرح آپؑ نے نخلستانِ ایمان کی آبیاری کی، عدل و انصاف کی شمع روشن کی اور علم و حکمت کے دروازے کھول دیئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاک محرم ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام عشرۂ محرم کی تیسری مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے مولائے کائنات، امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی حیاتِ طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کس طرح آپؑ نے نخلستانِ ایمان کی آبیاری کی، عدل و انصاف کی شمع روشن کی اور علم و حکمت کے دروازے کھول دیئے۔

انہوں نے حضرت علیؑ کی شجاعت، زہد، عبادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی غریبوں اور یتیموں سے بے پناہ محبت کرتے تھے، آخر وصیت میں مولا علی نے یتیموں کا خیال رکھنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح حضرت بی بی فاطمہؑ کی حیاء، عفت، شوہرداری، اولاد کی تربیت اور عبادتِ الٰہی کی مثال دنیا نہیں ملتی؛ لہٰذا یہی وہ خاندان ہے جس کے فرزند حسین ابن علیؑ نے اپنے دادا کے دین کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، حسینؑ: وہ پھول جو علیؑ و فاطمہؑ کی دسترَس میں کھلا اور جنت کی خوشبو بن گیا۔

آخر میں علامہ شہنشاہ نقوی نے شہدائے کربلا کے مصائب کو اس انداز میں بیان کیا کہ ہر ایک کے دل پر کربلا کی آگ بھڑک اٹھی۔

انہوں نے حضرت علی اصغرؑ کی پیاس، حضرت عباسؑ کی بے دستی اور حضرت زینبؑ کی بے نقابی کا ذکر اس مٹھاس اور درد کے ساتھ کیا کہ مجلس میں بلند نوحے اور سینہ کوبی کی صدائیں گونج اٹھیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha