جمعرات 18 جون 2026 - 18:20
ہم جمہوریہ اسلامی ایران اور مقاومت کے انتہائی شکر گزار ہیں

حوزہ / تجمعِ علمائے مسلمین لبنان نے اپنے ایک بیانیہ میں کہا ہے کہ ایران اس جنگ سے فتح یاب ہوا اور بالآخر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو ایک ایسے معاہدے میں اپنی شرائط ماننے اور قبول کرنے پر مجبور کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تجمعِ علمائے مسلمین لبنان نے جمہوریہ اسلامی ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے موقع پر ایک بیان جاری کیا۔جس کا متن حسبِ ذیل ہے:

جمہوریہ اسلامی ایران نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک مضبوط ریاست ہے جو صیہونی-امریکی جارحیت کی وجہ سے عائد کردہ تمام بحرانوں سے نکلنے میں کامیاب رہی۔ یہ جارحیت، جس میں عظیم رہبروں بشمول شہید امام آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رہ) کی شہادت اور ایران بھر میں فوجی اور غیر فوجی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے والی تباہ کن بمباری شامل تھی، کے باوجود ایران اس جنگ سے فتحیاب ہوا اور بالآخر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو ایک ایسے معاہدے میں اپنی شرائط ماننے اور قبول کرنے پر مجبور کیا جو چند روز بعد سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔

اس بیانیہ میں مزید کہا گیا: جمہوریہ اسلامی ایران کا اس بات پر اصرار تھا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہو، یہ معاملہ اس معاہدے میں تین مرتبہ ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ایران کے اپنے وعدوں کے ساتھ سچے عہد اور لبنان کے لیے اس کی سچی دوستی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس معاملے نے لبنان کی خودمختاری کو مستحکم کیا، اس لیے حتمی معاہدے کی تفصیلات لبنانیوں کے سپرد کی گئیں تاکہ وہ جنگ کی دھمکی کے تحت نہیں بلکہ جنگ بندی کی شرائط میں مذاکرات کریں۔

اس اجتماع نے مزید کہا: ہم مسلمان علماء کا اجتماع جمہوریہ اسلامی ایران اور محور مقاومت کی اس ظاہری فتح کے بعد، خاص طور پر لبنان میں، اعلان کرتے ہیں:

پہلا: تجمعِ علمائے مسلمین لبنان جمہوریہ اسلامی ایران، شخصاً ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای، صدر مسعود پزشکیان، پاسداران انقلاب اسلامی اور اس معاہدے میں حصہ ڈالنے والے تمام لوگوں کے لیے اپنے اعلیٰ ترین شکریہ اور خراج تحسین کا اظہار کرتا ہے۔

دوسرا: تجمعِ علمائے مسلمین لبنان صیہونی جارحیت کے خلاف اپنی حماسی استقامت پر اسلامی مقاومت کا شکریہ ادا کرتا ہے اور اس فتح کو شہداء، زخمیوں اور مجاہدین کی جہاد کا ثمرہ قرار دیتا ہے کہ فضلِ خدا کے بعد اس فتح کا سہرا انہی کو جاتا ہے۔

تیسرا: تجمعِ علمائے مسلمین لبنان ایک بار پھر لبنان کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس موقع سے اپنی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے فائدہ اٹھائے، جس میں ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا، براہ راست مذاکرات منسوخ کرنا اور بالواسطہ گفتگو کی طرف لوٹنا اور دشمنیوں کے مکمل خاتمے اور پانچ نکات کے حصول پر اصرار کرنا شامل ہے۔

چوتھا: تجمعِ علمائے مسلمین، لبنان کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خود اور سیاسی قوتوں کے درمیان قومی مذاکرات کی حمایت کرے تاکہ ایک قومی موقف کی یکجہتی تک پہنچا جا سکے۔ ایک ایسا موقف جو فوج، عوام اور مقاومت کے "سنہری تثلیث" کی کارکردگی پر زور دیتا ہے۔

پانچواں: تجمعِ علمائے مسلمین لبنان اسلامی مقاومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ٹریگر پر انگلی جمائے رکھے اور صیہونی دشمن کو جنگ بندی کی مدت سے فوجی پیش قدمی کے لیے پیچھے ہٹنے کے بجائے غلط استفادہ کی اجازت نہ دے اور 2 مارچ سے پہلے کی صورت حال کو واپس آنے نہ دے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha