پیر 22 جون 2026 - 12:49
ایران کے خلاف حالیہ جنگی جارحیت کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی عزت اور آزادی کی جنگ ہے

حوزہ / آیت اللہ سید یاسین موسوی نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حالیہ جنگ کی جامع نوعیت پر زور دیتے ہوئے اس تنازع کو کسی ایک ملک کی جنگ نہیں بلکہ امت اسلامی کی آزادی، عزت اور مستقبل کے دفاع کے لیے بھرپور جنگ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بغداد کے امام جمعہ اور حوزہ علمیہ نجف اشرف کے ممتاز استاد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے حالیہ سیاسی اور فوجی پیش رفتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: یہ پیشرفت جمہوریہ اسلامی ایران اور ریاستہائے متحدہ کے درمیان مذاکراتی عمل میں اہم تبدیلیوں کی عکاس ہے۔

انہوں نے کہا: میڈیا اور سیاسی حلقوں کی سب سے اہم خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چودہ (۱۴) نکاتی شرائط کو قبول کرنا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے پیش کردہ یہ شرائط منظور کر لی ہیں اور ایک مقررہ مدت میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے "یادداشت تفاہم" کے نام سے ایک دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔

آیت اللہ موسوی نے مزید کہا: امریکی میڈیا نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک حلقوں میں عدم اطمینان کی خبر دی ہے، یہاں تک کہ ان کی جانب سے اس معاہدے کو "مذاکرات میں امریکہ کی شکست اور ایران کا برتر ہاتھ کے ساتھ باہر نکلنا" قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے صہیونی حکومت کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: صہیونی حکومت کا موقف اس معاہدے کی مکمل مخالفت ہے اور اس حکومت کے حکام اسے ایک سیاسی اور فوجی شکست سمجھتے ہیں، اسی لیے وہ جنگ جاری رکھنے اور کسی بھی تفاہم کو ختم کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔

بغداد کے امام جمعہ نے مزید کہا: صہیونی حکومت کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عملاً معاہدے کی دفعات کی پاسداری نہیں کی اور امریکی دباؤ کے باوجود فوجی کشیدگی میں اضافہ جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا: ایران کا موقف شروع سے واضح رہا ہے اور اس کی بنیادی شرط کسی بھی حتمی معاہدے سے قبل مقاومتی محور کے تمام محاذوں پر لڑائی کی مکمل بندش ہے۔ ان کے مطابق، تہران نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ وہ لبنان کے خلاف زمینی، بحری اور فضائی جارحیت کی بندش کے بغیر مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔

حوزہ علمیہ نجف اشرف کے استاد نے کہا: ایران اور عراق کا رشتہ محض ایک جغرافیائی تعلق نہیں بلکہ یہ عقیدہ، اسلام، تاریخ اور مشترکہ اقدار پر مبنی رشتہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha