تحریر: سید انجم رضا
حوزہ نیوز ایجنسی| ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ امن معاہدے اور مذاکرات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے کی صورتحال غیر معمولی کشیدگی کا شکار ہے۔ بظاہر یہ مذاکرات امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے عنوان سے پیش کیے جا رہے ہیں، لیکن عالمی سیاست کے مبصرین کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ اس مرحلے پر معاہدے کی ضرورت زیادہ کس فریق کو ہے؟
ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ کو ایران کے مقابلے میں زیادہ سفارتی ریلیف درکار تھا۔ حالیہ جنگی حالات، خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی، عالمی اقتصادی دباؤ اور امریکی مفادات کو درپیش چیلنجز نے واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔ ایران، جو طویل عرصے سے پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے، اس کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کی بنیاد باہمی احترام، برابری اور عملی ضمانتوں پر ہونی چاہیے۔
ایران کے اندر بھی ان مذاکرات کے حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔ بعض حلقے سفارت کاری کو مسائل کے حل کا راستہ قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ حلقے امریکہ کے ماضی کے رویے کو دیکھتے ہوئے محتاط رہنے پر زور دیتے ہیں۔ رہبر شہید کے سیاسی طرزِ فکر کی روشنی میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مذاکراتی عمل کی حمایت کو اس بات کا اظہار سمجھا جاتا ہے کہ سفارت کاری کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، تاہم قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کو بنیادی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے کئی معاہدے اعتماد کے بحران کا شکار رہے ہیں۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے سابقہ وعدوں سے پیچھے ہٹنے کے واقعات نے تہران میں یہ احساس مضبوط کیا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے صرف الفاظ کافی نہیں بلکہ قابلِ عمل ضمانتیں ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں ایک مضبوط رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ امریکہ ماضی میں معاہدوں کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتا رہا ہے۔
ایران کا مؤقف رہا ہے کہ حالیہ کشیدگی میں اس نے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کو مدنظر رکھا۔ ایرانی حکام کے مطابق ایران نے جارحیت کا آغاز نہیں کیا بلکہ اپنے دفاع کے حق کے تحت ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے اس پر حملے کیے گئے۔ ایران یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے انسانی آبادیوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا اور دفاعی حکمت عملی اختیار کی۔
دوسری جانب امریکہ کے کردار پر تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی اکثر اپنے تزویراتی اور معاشی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ دنیا میں امن کے قیام کا دعویدار ضرور ہے، مگر عملی طور پر کئی خطوں میں اس کی پالیسیاں تنازعات کو جنم دیتی رہی ہیں۔
حالیہ کشیدگی نے عالمی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا امریکی بالادستی پہلے جیسی برقرار ہے؟ آبنائے ہرمز کی صورتحال، عالمی توانائی کی منڈی پر دباؤ، بحیرہ احمر میں پیدا ہونے والی بے یقینی اور خطے میں بڑھتی ہوئی مزاحمت نے امریکی پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کے لیے طویل عرصے تک عسکری دباؤ برقرار رکھنا آسان نہیں رہا۔
عالمی تاریخ میں یہ مثالیں موجود ہیں کہ جب طاقتور ریاستیں جنگی یا سیاسی مقاصد فوری طور پر حاصل نہیں کر پاتیں تو مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ بعض اوقات مذاکرات شکست سے بچنے اور سیاسی نقصان کم کرنے کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں، جبکہ حامیوں کے نزدیک مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو بڑے تنازعات کو ختم کر سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کو کیا حاصل ہوگا؟
کیا ایران کو حقیقی اقتصادی آزادی، تجارتی سہولتیں اور پابندیوں سے نجات ملے گی یا یہ صرف محدود نوعیت کا انتظام ہوگا؟ ایران کے محتاط حلقے یہی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ماضی کی طرح وعدے پورے نہ کیے گئے تو نئے معاہدے کی حیثیت کیا ہوگی؟
خطے کی صورتحال میں لبنان کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے۔ ایران کا مؤقف رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام فریقوں کے لیے یکساں اصول ہونے چاہئیں۔ ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر امن کی بات کی جا رہی ہے تو اسرائیلی کارروائیوں، فلسطین اور لبنان کی صورتحال کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے؟ ان کے مطابق امن کا آغاز انصاف اور جارحیت کے واضح تعین سے ہونا چاہیے۔
ایران میں موجود ایک اہم سوچ یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے توازن کے بغیر مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق تاریخ میں وہی معاہدے کامیاب رہے جن کے پیچھے مضبوط سیاسی، معاشی اور دفاعی قوت موجود ہو۔ کمزور فریق کے مذاکرات اکثر دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ مذاکرات، اگر باہمی احترام اور قابلِ اعتماد ضمانتوں کے ساتھ ہوں، تو طویل المدتی استحکام کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اصل امتحان یہی ہے کہ کیا یہ مذاکرات حقیقی امن کی بنیاد بنتے ہیں یا صرف وقتی سیاسی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔
مستقبل کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ مجوزہ چودہ نکات میں ایران کے بنیادی مطالبات کو کس حد تک تسلیم کیا جاتا ہے، پابندیوں کے خاتمے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جاتے ہیں اور فریقین اپنے وعدوں پر کس حد تک قائم رہتے ہیں۔
امن صرف نعروں سے نہیں بلکہ اعتماد، انصاف اور عملی اقدامات سے قائم ہوتا ہے۔ اگر مذاکرات واقعی امن کے لیے ہیں تو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ جارح کون ہے، متاثر کون ہے اور انصاف کا تقاضا کیا ہے۔ یہی اصول کسی بھی پائیدار معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ