حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع علمائے اہل بیت ترکیه کے سربراہ شیخ قدیر آکاراس نے قدس ٹی وی کے پروگرام "قطب نما" (Pusula) میں گفتگو کے دوران محرم کے آغاز اور واقعہ کربلا کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس پروگرام میں کربلا کے تاریخی، مذہبی اور انسانی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور عصری دنیا کے لیے حضرت اباعبداللہ حسین علیہ السلام کی تحریک کے پیغامات کو بیان کیا گیا نیز انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا: ماہ محرم واقعہ کربلا کی یاد دلاتا ہے۔ نئے ہجری سال کی خوشی کربلا کے غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ کربلا صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم المیہ ہے۔ واقعہ کربلا، جو امت اسلامی کا ہمیشہ تازہ زخم ہے، ایک انتخاب کا نام ہے جو حقیقت اور فریب، حق اور باطل، ضمیر اور بے ضمیری کے درمیان کیا گیا۔
مجمع علمائے اہل بیت ترکیه کے سربراہ نے ماہ محرم کی عزاداری کی رسومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ان مراسم کی تاریخی اور ثقافتی جڑیں ہیں اور ہر معاشرہ اپنے غم کا اظہار مختلف طریقے سے کرتا ہے۔

قدیر آکاراس نے کہا: ترک قوم اپنے درد اور غم کا اظہار مرثیہ، نوحہ اور آنسوؤں کے ذریعے کرتی ہے۔ البہ اہم چیز عزاداری کی شکل نہیں ہے بلکہ واقعہ کربلا کے خلاف بے حس نہ رہنا ہے۔
انہوں نے حالیہ جھڑپوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: اس بارے میں بحث کہ فتح کس کی ہوئی، طویل عرصے تک جاری رہے گی لیکن اگر ہم ایک مسلمان کے نقطہ نظر سے معاملہ دیکھیں تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ عمل ایران اور مقاومتی محاذ کی فتح کے ساتھ ختم ہوا ہے۔
مجمع علمائے اہل بیت ترکیه کے سربراہ نے ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کے اہم اہداف کو اسلامی نظام کو کمزور کرنا، ایران کی میزائل صلاحیت کو ختم کرنا، افزودہ یورینیم کا کنٹرول حاصل کرنا اور علاقائی تسلط حاصل کرنا قرار دیا اور کہا: دشمن اپنے اعلان کردہ اہداف میں سے کوئی بھی ہدف حاصل نہ کر سکا اور یہی بڑی اہم کامیابی ہے۔









آپ کا تبصرہ