تحریر: شبیر علی
حوزہ نیوز ایجنسی| محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی دلوں میں ایک عجیب سی اداسی اتر آتی ہے۔ آنکھوں کے سامنے ایک ایسا منظر آ جاتا ہے جسے چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود زمانہ فراموش نہیں کر سکا۔ وہ منظر کربلا کا ہے، وہ سرزمین جہاں نواسۂ رسولؐ، جگر گوشۂ بتولؑ، امام حسینؑ اپنے اہلِ بیتؑ اور وفادار اصحاب کے ساتھ خیمہ زن ہوئے۔
یہی وہ مقام ہے جس کے بارے میں اہلِ دل کہتے ہیں:
"سخی حسینؑ کا خیمہ جہاں پہ لگنا تھا
وہاں کی خاک کے ذرّے بھی سوگوار رہے"
یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ کربلا کی حقیقت کا آئینہ ہے۔ کیونکہ جس زمین پر حسینؑ کے قدم پڑ جائیں، وہ عام زمین نہیں رہتی۔ اور جہاں حسینؑ کے غم کا سایہ پڑ جائے، وہاں کی مٹی بھی ماتم کرتی محسوس ہوتی ہے۔
دو محرم سن اکسٹھ ہجری کو جب امام حسینؑ کا قافلہ کربلا پہنچا تو آپؑ نے اس سرزمین کا نام پوچھا۔ جب بتایا گیا کہ اس کا نام "کربلا" ہے تو آپؑ کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ آپؑ نے فرمایا:
"یہ غم اور بلا کی سرزمین ہے۔"
گویا امامؑ جانتے تھے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں ان کے جوانوں کے لاشے گریں گے، جہاں علی اکبرؑ کی جوانی قربان ہوگی، جہاں عباسؑ کے بازو کٹیں گے، جہاں قاسمؑ کے ارمان خاک میں مل جائیں گے اور جہاں علی اصغرؑ کے ننھے گلے پر تیر چلے گا۔
کربلا کی خاک اس لیے سوگوار ہے کہ اس نے انسانیت کی سب سے عظیم قربانی کو اپنی آغوش میں لیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک باپ اپنے جوان بیٹے کی لاش اٹھا رہا ہے، ایک بھائی اپنے بھائی کے کٹے ہوئے بازوؤں پر گریہ کر رہا ہے، ایک بہن اپنے گھر کو اجڑتا ہوا دیکھ رہی ہے۔ یہ مناظر ایسے تھے کہ اگر پہاڑوں پر گزر جاتے تو وہ بھی پگھل جاتے، اگر سمندروں پر بیتتے تو ان کا پانی خشک ہو جاتا۔
کربلا کی مٹی آج بھی گواہی دیتی ہے کہ حسینؑ نے اقتدار کے لیے نہیں بلکہ قرآن کی بقا کے لیے قربانی دی تھی۔ آپؑ نے اپنے خون سے اسلام کی آبیاری کی اور دنیا کو یہ سبق دیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔
حضرت زینبؑ جب عصرِ عاشور اپنے بھائی کی لاش پر آئیں تو تاریخ کا دل بھی کانپ اٹھا۔ آسمان رویا، زمین روئی، فرشتے روئے، اور کربلا کی خاک بھی اشکبار ہوگئی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کربلا کی مٹی میں شفا بھی ہے اور غم بھی، برکت بھی ہے اور یادِ حسینؑ بھی۔
آج جب عزادار کربلا کی طرف رخ کرتے ہیں، جب "یا حسینؑ" کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، جب مجالسِ عزا برپا ہوتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کربلا کی وہی خاک پھر سے بیدار ہو گئی ہے اور اپنے آقا کے غم میں شریک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کربلا صرف ایک زمین نہیں، ایک پیغام ہے۔ اور اس پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی نہیں، حق کے لیے قربانی دینی ہے۔ یہی حسینؑ کا راستہ ہے اور یہی کربلا کا درس۔
سلام ہو اس خاکِ کربلا پر جس نے حسینؑ کو اپنی آغوش میں جگہ دی، اور سلام ہو اس حسینؑ پر جن کے غم میں آج بھی زمین و آسمان سوگوار ہیں۔
السلام علی الحسینؑ، وعلی علی بن الحسینؑ، وعلی اولاد الحسینؑ، وعلی اصحاب الحسینؑ۔









آپ کا تبصرہ