تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی
حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخِ انسانی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے بلند ہو کر ابدیت کا عنوان بن جاتی ہیں۔ وہ کسی ایک قوم، ایک نسل یا ایک دور کی میراث نہیں ہوتیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ بن جاتی ہیں۔ امام حسینؑ بھی ایسی ہی ایک آفاقی شخصیت ہیں جن کا نام حق، عدالت، آزادی، عزت، وفا، قربانی اور بندگیِ خدا کا استعارہ بن چکا ہے۔
کربلا صرف دسویں محرم 61 ہجری کا ایک واقعہ نہیں، نہ یہ محض ایک جنگ ہے اور نہ صرف ایک المناک سانحہ؛ بلکہ یہ انسانیت کے ضمیر کی بیداری، دین کی بقا اور حق کی سربلندی کی ایک دائمی تحریک ہے۔ عاشورا ایک دن کا نام نہیں بلکہ ایک فکر، ایک پیغام اور ایک ابدی دعوت کا نام ہے۔
حسینؑ؛ تمام انبیائے الٰہی کے مشن کا وارث
امام حسینؑ کی داستان صرف عاشورا تک محدود نہیں بلکہ آدمؑ سے خاتمؐ تک جاری رہنے والی دعوتِ توحید اور جدوجہدِ حق کا تسلسل ہے۔
حضرت آدمؑ کی توبہ، حضرت نوحؑ کا صبر، حضرت ابراہیمؑ کی قربانی، حضرت موسیٰؑ کا طاغوت کے خلاف قیام، حضرت عیسیٰؑ کی روحانیت اور حضرت محمد مصطفیٰؐ کی رحمت و ہدایت؛ یہ سب کربلا میں ایک نئی شان کے ساتھ جلوہ گر نظر آتے ہیں۔
اسی لیے اہلِ معرفت کہتے ہیں کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے سیدالشہداءؑ کے مصائب پر غم نہ کیا ہو، کیونکہ کربلا کسی ایک فرد کی مظلومیت نہیں بلکہ تمام آسمانی اقدار کے دفاع کا عنوان ہے۔
کربلا میں تمام انبیائے الٰہی کی صدائیں سنائی دیتی ہیں اور حسینؑ کی قربانی میں تمام آسمانی پیغامات کی بقا محفوظ نظر آتی ہے۔
اگر حسینؑ نہ ہوتے...
یہ سوال تاریخ کا سب سے بڑا سوال ہے۔
اگر امام حسینؑ اور ان کے باوفا اصحاب کی قربانی نہ ہوتی تو دینِ محمدیؐ کی محبت، اس کا صحیح فہم، اس کی حقیقی روح اور اس کی پاکیزہ شناخت باقی رہتی یا نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ کربلا نے اسلام کو یزیدی تحریف، جبر اور استبداد سے بچایا۔
اسی لیے اہلِ علم نے کہا:
اسلام محمدیؐ الحدوث ہے اور حسینیؑ البقا۔
رسولِ اکرمؐ نے دین کی بنیاد رکھی اور امام حسینؑ نے اپنے خون سے اس بنیاد کی حفاظت فرمائی۔
آج اگر قرآن محفوظ ہے، اذان بلند ہو رہی ہے، نماز قائم ہے اور اسلام اپنی اصل شناخت کے ساتھ دنیا میں موجود ہے تو اس کے پس منظر میں کربلا کے شہداء کا خون موجود ہے۔
اگر اسلام محمدؐ نے دنیا کو ملا تو اس کی بقا حسینؑ کے خون سے ہوئی۔ اگر نماز محمدؐ کی ہے تو اس کی آبرو حسینؑ ہیں، اور اگر دین خدا کا ہے تو اس کی حفاظت کے لیے قربانی دینے والے حسینؑ ہیں۔
حسینؑ؛ مصباحُ الہدیٰ اور سفینۃُ النجاۃ
رسولِ اکرمؐ نے فرمایا:
«إنَّ الحُسَینَ مِصباحُ الهُدیٰ وَ سَفینَةُ النَّجاة»
حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں۔
چراغ اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے اور کشتی طوفانوں سے بچا کر منزل تک پہنچاتی ہے۔
دنیا کے فکری، اخلاقی اور روحانی اندھیروں میں اگر کوئی روشن مینار ہے تو وہ حسینؑ ہیں، اور زندگی کے فتنوں اور آزمائشوں کے سمندر میں اگر کوئی کشتیِ نجات ہے تو وہ بھی حسینؑ ہیں۔
جو اس چراغ سے روشنی حاصل کرے گا وہ ہدایت پائے گا، اور جو اس کشتی میں سوار ہوگا وہ نجات پائے گا۔
حسینؑ؛ ایک موسمی یاد نہیں، دائمی ہدایت
یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ امام حسینؑ کا تعلق صرف محرم، عاشورا اور اربعین سے نہیں ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات ہمارا تعلق بھی حسینؑ سے انہی چند دنوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، حالانکہ حسینؑ کسی خاص موسم یا مخصوص ایام کے امام نہیں بلکہ تمام زمانوں اور تمام نسلوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔
امام حسینؑ آفتابِ ہدایت کی مانند ہیں۔ سورج صرف گرمیوں میں نہیں چمکتا اور نہ ہی کسی خاص موسم کا محتاج ہوتا ہے، بلکہ سال کے بارہ مہینے، ہر دن اور ہر صبح اپنی روشنی اور حرارت پوری دنیا پر نچھاور کرتا ہے۔
اسی طرح امام حسینؑ کی فکر، ان کی سیرت، ان کا پیغام اور ان کی قربانی بھی ہر روز انسانیت کی رہنمائی کر رہی ہے۔ ان کی حریت، ان کی بندگیِ خدا، ان کا صبر، ان کی استقامت اور ان کا ایثار کسی ایک عشرے یا چند دنوں کے لیے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے نمونۂ عمل ہے۔
افسوس یہ ہے کہ ہم محرم، عاشورا اور اربعین میں تو حسینؑ کے غم میں شریک ہوتے ہیں، ان کے فضائل بیان کرتے ہیں اور ان کے مصائب پر اشک بہاتے ہیں، مگر سال کے باقی ایام میں اس نورِ حسینی سے اتنا فائدہ نہیں اٹھاتے جتنا اٹھانا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ: حسینؑ محرم کے نہیں، تمام زمانوں کے امام ہیں۔
کربلا ایک دن کا واقعہ نہیں، پوری زندگی کا دستور ہے۔
عاشورا ایک تاریخ نہیں، ایک دائمی شعور ہے۔
جس طرح سورج کی روشنی سے ہر روز فائدہ اٹھانے والا ہی اس کی نعمت کا حق ادا کرتا ہے، اسی طرح حقیقی حسینی وہ ہے جو محرم کے بعد بھی حسینؑ کے پیغامِ حق، عدل، آزادی، عبادت، ایثار اور بندگیِ خدا کو اپنی زندگی میں زندہ رکھے۔
امام حسینؑ کا نور ہر روز چمکتا ہے، سوال صرف یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کی کھڑکیاں کتنے دن کھلی رکھتے ہیں؛ صرف محرم میں یا پورے سال؟
وجیهاً بالحسین؛ عزت و آبرو کا سرچشمہ
زیارتِ عاشورا میں مؤمن خداوندِ متعال سے عرض کرتا ہے:
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي عِنْدَكَ وَجِيهًا بِالْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
کتنی عظیم دعا ہے!
ہم خدا سے مال نہیں مانگتے، اقتدار نہیں مانگتے، شہرت نہیں مانگتے؛ بلکہ عرض کرتے ہیں:
"پروردگار! حسینؑ کی آبرو کے صدقے ہمیں بھی آبرو عطا فرما۔"
وہبِ نصرانی چند دنوں میں اصحابِ الحسینؑ بن جاتا ہے۔
حبیب بن مظاہرؓ پچاسی برس کی عمر میں تاریخِ وفا کا روشن باب بن جاتے ہیں۔
حرؓ ایک لمحے کی سچی توبہ سے ایسا مقام حاصل کرتے ہیں کہ رہتی دنیا تک عزت و احترام کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں۔
یہی "وجیهاً بالحسین" کا مفہوم ہے؛ یعنی عزت بھی حسینؑ سے، شناخت بھی حسینؑ سے اور نجات بھی حسینؑ سے۔
عاشورا؛ خدا، معاد اور انسانیت کی دلیل
عاشورا صرف اسلام کی حقانیت کی دلیل نہیں بلکہ خدا، قیامت، حقیقت، انسانیت اور سعادتِ ابدی کی بھی دلیل ہے۔
اگر خدا حقیقت نہ ہوتا تو حسینؑ اپنے اہلِ بیتؑ اور اصحاب سمیت ایسی عظیم قربانی پیش نہ کرتے۔
اگر آخرت پر یقین نہ ہوتا تو علی اکبرؑ جوانی قربان نہ کرتے، قاسمؑ مسکراتے ہوئے میدان میں نہ جاتے اور عباسؑ وفا کی لازوال مثال قائم نہ کرتے۔
کربلا نے ثابت کر دیا کہ انسان کی اصل کامیابی دنیاوی اقتدار، مال و دولت اور ظاہری آسائشوں میں نہیں بلکہ حق کے لیے جینے اور حق کے لیے قربان ہونے میں ہے۔
مجالسِ حسینؑ؛ گریہ نہیں، خود احتسابی
مجالسِ امام حسینؑ محض گریہ و ماتم کی محفلیں نہیں بلکہ اصلاحِ نفس اور محاسبۂ ذات کا مدرسہ ہیں۔
جب ہم کربلا سنتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے بجائے اپنا حساب لینا چاہیے۔
میری نماز کی حقیقت کیا ہے؟
میرا روزہ کتنا خالص ہے؟
میری توبہ کتنی سچی ہے؟
میرا تعلق خدا سے کتنا مضبوط ہے؟
اصحابِ حسینؑ کی وفاداری اور امیرالمؤمنینؑ کی عبادت کو دیکھ کر انسان اپنی کوتاہیوں کو پہچانتا ہے اور یہی احساسِ عجز اصلاح کی پہلی منزل ہے۔
مجلسِ حسینؑ صرف آنکھوں کو اشکبار کرنے کے لیے نہیں، بلکہ دلوں کو بیدار کرنے، ضمیر کو زندہ کرنے اور انسان کو خدا سے قریب کرنے کے لیے ہے۔
کربلا؛ انسانیت کی آخری امید
آج دنیا کے پاس طاقت ہے مگر سکون نہیں۔
علم ہے مگر معرفت نہیں۔
ترقی ہے مگر انسانیت نہیں۔
ایسے میں کربلا انسانیت کو پکارتی ہے:
اگر عزت چاہیے تو حسینؑ کے پاس آؤ۔
اگر آزادی چاہیے تو حسینؑ کے پاس آؤ۔
اگر خدا چاہیے تو حسینؑ کے پاس آؤ۔
اگر نجات چاہیے تو حسینؑ کے پاس آؤ۔
کیونکہ حسینؑ صرف ایک شہید نہیں بلکہ انسانیت کی بقا، حریتِ فکر اور عزتِ انسان کے سب سے روشن عنوان ہیں۔
شہادتِ حسینؑ کی حقیقی تفسیر
حقیقت یہ ہے کہ امت آج بھی حسینؑ سے محبت تو کرتی ہے، مگر ابھی شہادتِ حسینؑ کے تمام اسرار و معارف کو پوری طرح نہیں سمجھ سکی۔
جس دن کربلا کا فلسفہ سمجھ لیا گیا، جس دن عاشورا کا پیغام دلوں میں اتر گیا، اس دن امت کی فکری اور روحانی سمت بدل جائے گی۔
اسی حقیقت کو شاعر مشرق علامہ اقبال نے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
بیاں سرِ شہادت کی اگر تفسیر ہو جائے
مسلمانوں کا قبلہ روضۂ شبیرؑ ہو جائے
یعنی اگر قربانیِ حسینؑ کا راز سمجھ لیا جائے تو امت کی ترجیحات بدل جائیں گی، اس کے افکار حسینی ہو جائیں گے، اس کا کردار حسینی ہو جائے گا اور اس کی زندگی کا ہر شعبہ عدل، حق، آزادی اور بندگیِ خدا کے نور سے منور ہو جائے گا۔
اختتامیہ
چودہ صدیاں گزر گئیں، مگر نہ حسینؑ کی یاد ماند پڑی، نہ کربلا کا پیغام پرانا ہوا، نہ شہادت کی وہ سرخ داستان دلوں سے محو ہوئی۔
وقت نے کتنے بادشاہوں، کتنی سلطنتوں اور کتنے جابر حکمرانوں کو مٹا دیا، مگر حسینؑ کا نام آج بھی عزت، محبت اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کربلا ایک جنگ نہیں، ایک پیغام ہے۔
حسینؑ ایک شخصیت نہیں، ایک مکتب ہیں۔
عاشورا ایک دن نہیں، ایک دائمی دعوت ہے۔
یہ دعوت آج بھی انسانیت کو پکار رہی ہے:
حق کے لیے جیو۔
باطل کے سامنے نہ جھکو۔
خدا کو نہ بھولو۔
انسانیت کا دفاع کرو۔
اور اگر کبھی حق اور باطل کے درمیان انتخاب کا وقت آئے تو حسینؑ کی طرح حق کا انتخاب کرو، خواہ اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔
اسی حقیقت کو شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
آئے گی یاد تا بہ قیامت حسینؑ کی
کیا درس دے رہی ہے شہادت حسینؑ کی
واقعۂ کربلا رہتی دنیا تک انسانیت کو یہ درس دیتا رہے گا کہ حق کے لیے قربانی دینا شکست نہیں بلکہ ابدی کامیابی ہے، اور خدا کی رضا کے لیے جان دینا فنا نہیں بلکہ حیاتِ جاوداں ہے۔
سلام ہو اس حسینؑ پر جنہوں نے اپنے خون سے دین کو حیات بخشی، انسانیت کو وقار عطا کیا، مظلومیت کو عظمت بخشی اور قیامت تک آنے والی نسلوں کو یہ سبق دے دیا کہ:
سر کٹایا جا سکتا ہے، مگر حق کو جھکایا نہیں جا سکتا۔
سلامٌ علی الحسینؑ، وعلی علی بن الحسینؑ، وعلی أولاد الحسینؑ، وعلی أصحاب الحسینؑ۔









آپ کا تبصرہ