تحریر:مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ اسلام میں کربلا محض ایک جنگ یا ایک المناک سانحہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان برپا ہونے والا وہ ابدی انقلاب ہے جس نے انسانیت کو ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے کا درس دیا۔ اگر حضرت امام حسینؑ نے یزیدی استبداد کے مقابل اپنے خونِ مقدس سے آزادی، عزت اور حق پرستی کی تاریخ رقم کی تو آپؑ کے فرزند حضرت امام علی بن الحسین زین العابدینؑ نے اسی انقلاب کو فکری، روحانی اور اخلاقی بنیادوں پر دوام بخشا۔ امام حسینؑ نے ظلم، جبر اور فساد کے خلاف قیام کیا، جبکہ امام سجادؑ نے اخلاقی انحراف، فکری گمراہی اور روحانی زوال کے مقابلے میں دعا، عبادت، علم، تربیت اور تزکیۂ نفس کی ایسی خاموش مگر ہمہ گیر تحریک برپا کی جس نے اسلام کی حقیقی روح کو زندہ رکھا۔
شہادتِ امام حسینؑ کے بعد اسلامی معاشرہ اپنی تاریخ کے نہایت کٹھن دور سے گزر رہا تھا۔ اقتدار ظلم و جبر کی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ اہلِ بیتؑ کے نام سے وابستگی جرم بن چکی تھی، امامؑ کے گھر آنے جانے والوں پر بھی کڑی نگرانی رکھی جاتی تھی، اور معاشرہ سیاسی استبداد، مالی بدعنوانی، اخلاقی انحطاط اور فکری انتشار کی لپیٹ میں آچکا تھا۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ ظلم اور بدعنوانی کی قباحت بھی لوگوں کے دلوں سے مٹتی جارہی تھی۔
ایسے ماحول میں ایک جذباتی ردعمل شاید وقتی تسکین تو دے سکتا تھا، لیکن امت کی بقا کی ضمانت نہیں بن سکتا تھا۔ امام زین العابدینؑ نے حالات کا نہایت عمیق شعور رکھتے ہوئے ایک ایسی حکمتِ عملی اختیار کی جس نے آنے والی نسلوں کے لیے دین کی شناخت کو محفوظ کردیا۔ آپؑ نے میدانِ جنگ کے بجائے میدانِ تربیت کا انتخاب کیا، تلوار کے بجائے دعا کو ذریعہ بنایا، خطابت کے بجائے کردار کو اپنا ہتھیار بنایا اور خاموش مگر مسلسل جدوجہد کے ذریعے امت کی فکری تعمیر کا آغاز کیا۔
اسی لیے امام زین العابدینؑ کو بجا طور پر "انقلابِ گریہ کے قہرمان" کہا جاسکتا ہے۔ آپؑ کا گریہ کمزوری کی علامت نہیں تھا بلکہ ظلم کے خلاف مسلسل احتجاج، شہداء کربلا کی یاد کو زندہ رکھنے کا ذریعہ اور انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک مؤثر تحریک تھا۔ آپؑ کے اشکوں نے وہ کام کیا جو شاید اس دور میں تلوار بھی نہ کرسکتی تھی۔ آپؑ نے امت کو یہ باور کرایا کہ ظلم کو بھلا دینا خود ظلم کی تائید ہے، اس لیے کربلا کو زندہ رکھنا درحقیقت دین کو زندہ رکھنا ہے۔
لیکن امام سجادؑ کی عظمت صرف گریہ تک محدود نہیں۔ آپؑ نے یہ بھی ثابت کیا کہ بدترین حالات میں بھی اللہ سے تعلق مضبوط رکھا جاسکتا ہے، دعا کے ذریعے معاشرے کی فکری تربیت کی جاسکتی ہے، انحرافی افکار کا علمی جواب دیا جاسکتا ہے، درباری علماء کے فکری انحراف کو بے نقاب کیا جاسکتا ہے اور صالح انسانوں کی ایسی نسل تیار کی جاسکتی ہے جو مستقبل میں دین کی حفاظت کا فریضہ انجام دے۔
امام سجادؑ کی حقیقی سنت عبادت، دعا، شب بیداری، خشوع و انکساری، علم و معرفت، اخلاقِ حسنہ، خدمتِ خلق، یتیموں اور ضرورت مندوں کی خاموش کفالت اور حقوقِ انسان کی پاسداری ہے۔ آپؑ رات کی تاریکی میں محتاجوں کے گھروں تک کھانا پہنچاتے تھے اور برسوں تک کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ ان کا محسن کون ہے۔ آپؑ نے غلاموں کی تربیت اور آزادی کو بھی ایک سماجی اصلاحی تحریک میں تبدیل کردیا۔ یوں آپؑ نے اپنے عمل سے بتایا کہ بندگیِ خدا اور خدمتِ خلق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
امام زین العابدینؑ کی سب سے عظیم علمی اور روحانی میراث صحیفۂ سجادیہ ہے، جسے بجا طور پر زبورِ آلِ محمدؐ کہا جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ عظیم سرمایہ ہمارے گھروں میں موجود ہے، مگر ہماری زندگیوں میں اس کا اثر بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے اسے صرف دعاؤں کی کتاب سمجھ لیا ہے، حالانکہ یہ معرفتِ الٰہی، اخلاق، خودسازی، سماجی اصلاح، عدل، انسانی حقوق، ذمہ داری، توکل، صبر اور بندگیِ خدا کا ایک مکمل منشور ہے۔ اگر امت آج صحیفۂ سجادیہ کو سمجھ کر اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لے تو اخلاقی بحران، روحانی خلا اور فکری انتشار کا بہت بڑا علاج میسر آسکتا ہے۔
آج ہم عشرے بھی برپا کرتے ہیں، مجالس بھی منعقد کرتے ہیں، جلوس بھی نکالتے ہیں، اور یہ سب اپنی جگہ شعائرِ حسینی ہیں، باعثِ اجر و ثواب ہیں اور یقیناً احترام کے مستحق ہیں۔ ان شعائر کے ذریعے اہلِ بیتؑ کی محبت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے اور کربلا کا پیغام زندہ رہتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امام زین العابدینؑ سے حقیقی محبت صرف ظاہری وابستگی کے اظہار کا نام نہیں۔ ہاتھوں میں کلاوے، دھاگے یا ہتھکڑیاں باندھ لینا اگرچہ بعض افراد کے نزدیک عقیدت کی ایک علامت ہو سکتا ہے، لیکن اسے امامؑ کی محبت اور سنت کا معیار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ امام سجادؑ کی حقیقی سنت عبادت ہے، دعا ہے، تقویٰ ہے، علم ہے، اخلاق ہے، خدمتِ خلق ہے، ضرورت مندوں کی خاموش اعانت ہے اور صحیفۂ سجادیہ کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا دستور بنانا ہے۔ اگر ہماری مجالس، عزاداری اور جلوس ہمیں ان صفات سے آراستہ نہیں کرتے تو ہمیں سنجیدگی سے اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
امام زین العابدینؑ کا سب سے بڑا درس یہی ہے کہ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، اہلِ ایمان مایوس نہیں ہوتے۔ وہ جذبات سے نہیں بلکہ بصیرت سے فیصلے کرتے ہیں، وقتی نعروں کے بجائے دائمی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں، اصل مسائل کو پہچانتے ہیں، ترجیحات کا صحیح تعین کرتے ہیں اور پھر صبر، استقامت، علم، اخلاق اور کردار کے ذریعے معاشرے کی تقدیر بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ حکمت ہے جس نے کربلا کے پیغام کو صدیوں تک زندہ رکھا اور یہی آج بھی امت کی نجات کا راستہ ہے۔
آج، جب امتِ مسلمہ فکری انتشار، اخلاقی بحران، روحانی کمزوری اور اجتماعی بے سمتی کا شکار ہے، شہادتِ امام زین العابدینؑ ہمیں یہ دعوت دیتی ہے کہ ہم ان کے نام پر صرف آنسو نہ بہائیں بلکہ ان کی فکر کو اپنائیں؛ صرف عقیدت کا اظہار نہ کریں بلکہ ان کی سیرت کو اپنی زندگی میں نافذ کریں؛ صرف صحیفۂ سجادیہ کی تلاوت نہ کریں بلکہ اس کے پیغام کو اپنے کردار، اپنے گھر، اپنی نسل اور اپنے معاشرے کا حصہ بنائیں۔ امام سجادؑ کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم ان کی سنت کو زندہ کریں، کیونکہ زندہ قومیں صرف اپنے شہداء کا ماتم نہیں کرتیں بلکہ ان کے مشن کو اپنی زندگی کا دستور بنا لیتی ہیں۔









آپ کا تبصرہ