تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
یقیناً ! اس دنیا میں کچھ شخصیات صرف ایک ملک کی قیادت نہیں کرتیں، بلکہ وہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک کی علامت بن جاتی ہیں۔ ان کی موجودگی دلوں کو حوصلہ، نگاہوں کو سمت اور قوموں کو عزم عطا کرتی ہے۔ جب ایسی شخصیت رخصت ہوتی ہے تو صرف ایک انسان نہیں جاتا، بلکہ تاریخ کا ایک روشن باب آنکھوں کو اشک بار کر جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ عظیم رہنما کبھی مرتے نہیں، وہ اپنے افکار، کردار اور مشن کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
آج اگرچہ ہم غمگین دل کے ساتھ کہتے ہیں: "خداحافظ اے مہربان رہبرم!" مگر یہ جدائی صرف ظاہری ہے۔ آپ کی آواز، آپ کی بصیرت، آپ کا حوصلہ، آپ کی استقامت اور امتِ مسلمہ کے لیے آپ کی بے مثال فکر ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی اسلام، انقلاب اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف کر دی۔ شاہی آمریت کی زندانیں ہوں یا استکباری طاقتوں کی دھمکیاں، آپ نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ قید و بند، تشدد اور بے شمار آزمائشوں کے باوجود آپ کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔ یہی استقامت آپ کی زندگی کا سب سے روشن عنوان بن گئی۔
1989ء میں امام خمینیؒ کے بعد جب آپ نے رہبری کی ذمہ داری سنبھالی تو دنیا کے بہت سے مبصرین نے گمان کیا کہ انقلاب کا سفر کمزور پڑ جائے گا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ مخلص قیادت افراد سے نہیں، نظریات سے زندہ رہتی ہے۔ آپ کی رہنمائی میں اسلامی جمہوریہ ایران نے عزت، خودمختاری، سائنسی ترقی، دفاعی قوت اور استکبار کے مقابلے میں استقلال کی نئی تاریخ رقم کی۔
اے مہربان رہبر! اگرچہ ہماری نگاہیں آپ کے دیدار سے محروم ہو جائیں، مگر آپ کا پیغام، آپ کی فکر، آپ کا حوصلہ اور آپ کی دعائیں اس امت کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ آپ نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ظلم کے سامنے جھکنا نہیں، حق کے لیے ڈٹے رہنا ہے، اور اللہ پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے ہر طاغوتی قوت کا مقابلہ کرنا ہے۔
عظیم انسان دنیا سے رخصت ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کے افکار، کردار اور قربانیاں کبھی دفن نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے خون سے تاریخ کے ایسے روشن باب لکھ جاتے ہیں جنہیں زمانے کی گرد بھی مٹا نہیں سکتی۔ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ نے بھی اپنی پوری زندگی اسلام، انقلاب، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف کر دی، اور بالآخر اپنے رب کے حضور سرخرو ہو کر حاضر ہوئے۔
آج اگرچہ ہماری آنکھیں اشک بار ہیں اور دل غم سے بوجھل ہیں، لیکن ہمیں یقین ہے کہ رہبر رخصت ہوئے ہیں، ان کا راستہ نہیں؛ جسم ہم سے جدا ہوا ہے، مگر ان کی فکر، ان کی بصیرت، ان کی استقامت اور ان کا پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ شہیدوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتا ہے۔
خداحافظ اے مہربان رہبر!
آپ نے ہمیں عزت سے جینا، حق پر ڈٹنا، ظلم کے سامنے نہ جھکنا، اور خدا پر کامل بھروسہ کرنا سکھایا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ کے مشن، آپ کے افکار اور آپ کی امانت کو آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔
آپ ہماری نگاہوں سے اوجھل ضرور ہوئے ہیں، مگر ہمارے دلوں سے کبھی جدا نہیں ہوں گے۔ آپ کی یاد، آپ کی آواز، آپ کی استقامت اور آپ کی قربانی ہمیشہ اہلِ حق کے قافلے کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
خداحافظ اے مہربان رہبر!
آپ کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی، آپ کی فکر ہماری راہوں کو منور کرتی رہے گی، اور آپ کا مشن اہلِ حق کے قافلے کو منزل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ دیتا رہے گا۔
جانم فدای رہبرِ عزیزم!
الوداع اے مردِ استقامت!
الوداع اے پاسبانِ انقلاب!
الوداع اے مظلوموں کی امید!
الوداع اے مہربان رہبر!
رَحِمَكَ اللّٰهُ يَا سَيِّدَنَا، وَحَشَرَكَ اللّٰهُ مَعَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَجَعَلَ دَمَكَ الطَّاهِرَ نُورًا يَهْدِي بِهِ الْأَحْرَارَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ









آپ کا تبصرہ