تبصرہ: آغا زمانی سکردو
حوزہ نیوز ایجنسی|
اسلام کی پوری دعوت کا نقطۂ آغاز اور اس کا مرکزی پیغام "لا إله إلا الله" ہے۔ یہی کلمہ انسان کو بندگیِ خدا، آزادیِ انسان، عدلِ اجتماعی اور طاغوت سے نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔ "توحید روحِ کائنات (لا إله إلا الله)" اسی عظیم حقیقت کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہایت عمیق، استدلالی اور انقلابی انداز میں پیش کرنے والی ایک اہم تصنیف ہے۔
یہ کتاب شہید رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہای رضوان اللہ علیہ کی فکر کا نچوڑ ہے، جبکہ اس کی ترتیب، تدوین اور ترجمے کی ذمہ داری سجاد حسین مفتی نے انجام دی ہے۔ اس کتاب کو القائم پبلی کیشنز بلتستان نے شائع کیا ہے۔
ادارے نے بجا طور پر یہ وضاحت کی ہے کہ اس کتابچے کی تدوین میں دارالثقلین کراچی کی شائع کردہ کتابچہ "روحِ توحید" سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے، جس پر ادارہ ان کا شکر گزار ہے۔ یہ علمی دیانت اور امانت داری قابلِ تحسین ہے۔
کتاب کا انتساب بھی اپنی جگہ ایک فکری منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے امام خمینی قدس سرة کے نام منسوب کیا گیا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کو روحِ توحید سے روشناس کرایا، اور شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی حسینی خامنہای رضوان اللہ علیہ کے نام، جنہوں نے اپنی پوری زندگی توحید کی تبلیغ، ترویج اور زندگی کے تمام شعبوں میں اس کے نفاذ کے لیے وقف کر دی اور اسی راہ میں شہادت کا جام نوش کیا۔ اس انتساب میں علامہ اقبال کے اشعار کا انتخاب بھی نہایت بامعنی ہے، جو بت شکنی، خودی اور توحیدی شعور کی دعوت دیتے ہیں۔
کتاب کے مترجم سجاد حسین مفتی نے اپنی تمہید میں نہایت خوبصورتی سے واضح کیا ہے کہ توحید محض ایک فلسفیانہ نظریہ یا زبانی عقیدہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے، جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، سیاسی، اقتصادی اور تہذیبی زندگی کو تشکیل دیتی ہے۔ ان کے مطابق اسلام انسان سے صرف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے اور ہر غیر الٰہی قوت کی غلامی سے نجات کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہی تصور توحید کو ایک انقلابی نظریہ بناتا ہے۔
کتاب کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ اس میں توحید کو صرف عبادات کے محدود دائرے میں نہیں رکھا گیا بلکہ اسے انسانی معاشرے کی تشکیل، عدل و انصاف کے قیام، ظلم و استبداد کی نفی، آزادی، عزتِ نفس، سیاسی حاکمیت اور اجتماعی نظامِ حیات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب قاری کو توحید کا ایک جامع اور ہمہ گیر تصور عطا کرتی ہے۔
رہبرِ معظم اپنی گفتگو کا آغاز اس حقیقت سے کرتے ہیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی محور ہمیشہ توحید رہا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب "لا إله إلا الله" کی صدا بلند کی تو سب سے پہلے مخالفت قبائلی سرداروں اور اقتدار کے مراکز کی طرف سے ہوئی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر یہ پیغام کامیاب ہو گیا تو ظلم، استحصال اور طبقاتی نظام کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ اس تاریخی حقیقت کے ذریعے مصنف یہ واضح کرتے ہیں کہ توحید ہمیشہ طاغوتی قوتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہی ہے۔
کتاب میں توحید کے تاریخی مفہوم، اس میں پیدا کی جانے والی تحریفات، مظلوم انسانیت کی نجات، معاشرتی صف بندی، نظریۂ کائنات، وحدتِ خالق، وحدتِ نظام، قوانینِ الٰہی، کائنات کی مقصدیت اور انسان کے مقام جیسے موضوعات پر نہایت گہری گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ چونکہ خالق ایک ہے، اس لیے پوری کائنات ایک وحدت اور ہم آہنگی کا مظہر ہے، اور اسی حقیقت سے انسان کی زندگی کا مقصد بھی متعین ہوتا ہے۔
کتاب کا باب "توحید اور مقامِ انسان" خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں انسان کی تکریم، آزادی، مساوات، تقویٰ، خدمتِ خلق اور صرف اللہ کی بندگی کو انسانی عظمت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ رہبرِ معظم اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ انسان کی شان کے خلاف ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے۔ یہی فکر انسان کو ہر قسم کی غلامی، جبر، سرمایہ پرستی، شخصیت پرستی اور طاغوتی نظام سے آزاد کرتی ہے۔
اسی طرح "توحید اور اجتماعی نظامِ حیات" کے عنوان کے تحت اسلامی حکومت، ولایت، قیادت، قانون، اقتصادی نظام اور اجتماعی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصنف یہ واضح کرتے ہیں کہ توحید صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ ریاست، معیشت، سیاست، عدالت اور معاشرت کے ہر شعبے میں اس کے اثرات نمایاں ہونے چاہییں۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ قاری کو صرف نظری مباحث تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اسے عملی زندگی میں توحید کے نفاذ کی دعوت دیتی ہے۔ یہ کتاب انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ "لا إله إلا الله" صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ظلم، استکبار، استحصال اور ہر غیر الٰہی طاقت کے خلاف اعلانِ آزادی ہے۔
سجاد حسین مفتی نے نہایت سلیس، رواں اور قابلِ فہم اردو میں اس فکر کو منتقل کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ کتاب عام قاری کے ساتھ ساتھ اہلِ علم، طلبہ، اساتذہ، مبلغین اور فکری کارکنوں کے لیے بھی یکساں مفید بن گئی ہے۔
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ "توحید روحِ کائنات (لا إله إلا الله)" عصرِ حاضر میں توحید کے انفرادی، اجتماعی اور انقلابی مفہوم کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت اہم کتاب ہے۔ یہ صرف مطالعے کی کتاب نہیں بلکہ فکر، شعور، عمل اور معاشرتی تبدیلی کا پیغام ہے۔ ہر وہ شخص جو اسلام کے حقیقی تصورِ توحید، انسانی آزادی، عدلِ اجتماعی اور اسلامی تہذیب کے بنیادی اصولوں کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔
یہ کتاب القائم پبلی کیشنز، بلتستان کی شائع کردہ ہے اور جامعہ نجف سکردو سمیت بلتستان اور سکردو کے تمام معروف بک اسٹورز پر دستیاب ہے۔









آپ کا تبصرہ