یادداشت: مولانا سید تقی عباس کلکتوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
آج ہمارے سامنے بھی ایسے حالات ہیں جو سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہماری نئی نسل کو تعلیمی، معاشی، فکری اور اخلاقی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے وقت میں اگر ہماری تمام تر توجہ صرف ذاتی آسائشوں، جائیدادوں اور مالی ترقی تک محدود رہے اور ہم اپنی نسلوں کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کو نظر انداز کر دیں تو یہ حسینی فکر کے مطابق دور اندیشی نہیں ہوگی۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آنے والے برسوں میں کیا ہمارے نوجوان اتنے تیار ہوں گے کہ وہ معاشرے کے اہم شعبوں؛ تعلیم، طب، تحقیق، قانون، انتظامیہ، صنعت، تجارت، میڈیا اور قومی خدمت کے میدانوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں؟
یاد رکھنا چاہیے کہ قوموں اور ملتوں کی طاقت صرف تعداد سے نہیں بلکہ علم، کردار اور صلاحیت سے بنتی ہے۔ اگر ہم امام حسینؑ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں ان کے مقصد اور اصحابِ وفا کے کردار کو اپنی زندگیوں کا نمونہ بنانا ہوگا۔
عشقِ حسینؑ اور ذکر حسینؑ سے ہماری عملی ذمہ داریاں
1۔ تعلیم کو حسینی ذمہ داری سمجھنا
اصحابِ حسینؑ نے جہالت کے مقابلے میں حق کی معرفت کو ترجیح دی۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اولاد کو بہترین دینی، عصری اور فکری تعلیم فراہم کریں۔
ہر صاحبِ استطاعت عزادار اگر کم از کم ایک ضرورت مند طالب علم کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھا لے تو یہ ایک عظیم صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے۔
2۔ نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت
صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں، ہمیں ایسے نوجوان درکار ہیں جو علم کے ساتھ دیانت، امانت، اخلاق، خدمتِ خلق اور احساسِ ذمہ داری بھی رکھتے ہوں۔
امام حسینؑ کا مکتب ہمیں سکھاتا ہے کہ علم اگر کردار کے بغیر ہو تو معاشرے کے لیے نقصان دہ بھی بن سکتا ہے۔
3۔ قومی و سماجی میدانوں میں کردار
ہمیں اپنے نوجوانوں کو ڈاکٹر، انجینئر، استاد، محقق، وکیل، جج، منتظم، صحافی اور ماہرین کے طور پر آگے بڑھنے کی ترغیب دینی چاہیے، تاکہ وہ معاشرے کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔
4۔ معاشی مضبوطی اور خود کفالت
اسلام ہمیں محنت، ہنر اور جائز معاش کی تعلیم دیتا ہے۔ ضروری ہے کہ نوجوانوں کو جدید علوم، ٹیکنالوجی، کاروبار اور ہنرمندی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
5۔ عزاداری کے حقیقی پیغام کو زندہ کرنا
عزاداری کا مقصد صرف یاد منانا نہیں بلکہ حسینؑ کے پیغام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔
اگر مجالس ہمیں علم، اخلاق، اتحاد، خدمت اور ذمہ داری کی طرف نہ لے جائیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا ہوگا۔
اختتامی پیغام
شہدائے کربلا، خصوصاً آلِ ابی طالبؑ اور اصحابِ حسینؑ نے اپنی جانیں اس لیے قربان کیں کہ حق، عدل اور انسانیت کی اقدار زندہ رہیں۔
آج حقیقی عشقِ حسینؑ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو علم دیں، کردار دیں، شعور دیں اور انہیں ایسا انسان بنائیں جو معاشرے کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنے۔
یاد رکھیے! دینی، سماجی، سیاسی، تعلیمی، معاشرتی اور معیشتی مسائل—جیسے غربت، بے روزگاری، ناانصافی اور ظلم—سے آنکھیں چرا کر صرف امام حسینؑ کی یاد منانا، درحقیقت مقاصدِ حسینؑ سے غفلت بلکہ ان کی تعلیمات کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔
آج ہمارے معاشرے کے تباہ کن معاشی مشکلات، تعلیمی پسماندگی، بے روزگاری، سماجی و سیاسی کشیدگی اور مختلف نوعیت کے حالات و چیلنجز اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم نے مقصدِ حسینؑ کو نہ صحیح طور پر سمجھا ہے اور نہ ہی اسے اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔
عزاداری کیجیے، پورے مذہبی جوش، عشق اور عقیدت کے ساتھ کیجیے؛ لیکن اس کے فلسفے پر بھی ضرور غور کیجیے۔ عزاداری محض اجر و ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کی دینی، اخلاقی، فکری، سماجی اور دنیوی ارتقا کا ایک جامع درس ہے۔ اگر عزاداری ہمارے کردار، فکر اور معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا نہ کرے تو ہم اس کے حقیقی پیغام سے ابھی بہت دور ہیں۔
عزاداری اگر حسینؑ کے مقصد سے جڑ جائے تو یہ صرف آنسو نہیں رہتی بلکہ ایک عظیم تربیتی تحریک بن جاتی ہے۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ مضبوط ایمان، مضبوط کردار اور مضبوط نسلیں ہی قوموں کا مستقبل سنوارتی ہیں۔









آپ کا تبصرہ