منگل 30 جون 2026 - 03:01
ممتاز عالم دین سلمان ندوی کے انتقال سے علمی دنیا سوگوار، ایک درخشاں عہد کا خاتمہ: اہل بیت فاؤنڈیشن ہندوستان

حوزہ/اہل بیت فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب صدر مولانا سید تقی عباس رضوی کلکتوی نے اہل سنت کے معروف عالم دین سلمان ندوی کی المناک رحلت پر لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیتؑ فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب صدر کے تعزیتی پیغام کا متن مندرجہ ذیل ہے۔

بسمہ تعالیٰ

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے

عالمِ اسلام کی ایک ممتاز علمی، فکری اور دعوتی شخصیت، حضرت مولانا سلمان حسنی ندوی کے انتقال کی خبر نے علمی و دینی حلقوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ بلاشبہ ان کی وفات ایک ایسے عہد کا خاتمہ ہے جس نے کئی دہائیوں تک علم، تحقیق، دعوت، تصنیف، خطابت اور امت کی فکری رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

مولانا سلمان حسنی ندوی ایک ایسے خانوادۂ علم سے تعلق رکھتے تھے جس نے برصغیر میں اسلامی علوم، تاریخ، ادب اور دینی فکر کی آبیاری میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔ ان کے علمی آثار، خطبات اور دعوتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

مولانا مرحوم نے اپنی زندگی علم، تحقیق، دعوت اور فکری مکالمے کے لیے وقف کر دی۔ ان کی شخصیت میں بے باک حق گوئی، علمی دیانت اور فکری جرأت وہ اوصاف تھے جنہوں نے انہیں اپنے دور کے ممتاز ترین اہلِ علم میں نمایاں مقام عطا کیا۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعد، جب ان کے لیے دعائے مغفرت اور ان کی علمی خدمات کا اعتراف ہونا چاہیے تھا، بعض حلقوں کی جانب سے ان پر نازیبا الزامات، تہمتوں اور ہرزہ سرائی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ کسی بھی صاحبِ علم کی وفات کے بعد اس قسم کا طرزِ عمل نہ اسلامی اخلاق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی علمی دیانت کا تقاضا ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ برصغیر میں ان کے علمی مقام، وسعتِ مطالعہ، تاریخِ اسلام پر گہری نظر، عربی و اردو ادب پر عبور اور بین الاقوامی سطح پر ان کی شناخت کا ہم پلہ عالم پیدا ہونا آسان نہیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر کسی شخصیت کی علمی خدمات سے انکار انصاف کے خلاف ہے۔

اگر ان کی زندگی کے آخری دور میں انہوں نے اہلِ بیتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں سے براءت و بیزاری کے اظہار کو اپنے ایمان و آخرت کی سلامتی کا ذریعہ سمجھا، تو یہ ان کا دینی فہم اور ذاتی اجتہاد تھا۔ ہر شخص اپنے رب کے حضور اپنے عقیدے، نیت اور عمل کے ساتھ حاضر ہوگا، اور یہی اس کا حقیقی نصیب ہے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ ایسے نازک موقع پر زبان و قلم کو تہذیب، انصاف اور تقویٰ کا پابند رکھا جائے۔

یہاں یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسی علمی خانوادے کے درخشاں ستارے علامہ سید سلیمان ندوی ؛ برصغیر کے ان عظیم علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ، سیرتِ نبوی، تحقیق، تنقید اور ادب کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی علمی عظمت آج بھی مسلم ہے اور ان کی تصانیف اہلِ علم کے لیے سرمایۂ افتخار ہیں۔ اسی علمی روایت کے امین کی حیثیت سے مولانا سلمان حسنی ندوی نے بھی اپنی زندگی علم و دعوت کی خدمت میں گزاری۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مولانا سلمان حسنی ندوی کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، انہیں اپنے صالح بندوں کے ساتھ جگہ عطا فرمائے، اور پسماندگان، شاگردوں اور متعلقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَاجْعَلْ مَأْوَاهُ الْجَنَّةَ.

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha