حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہلِ سنت کے معروف عالمِ دین، ممتاز اسلامی اسکالر، مصنف، خطیب اور مفکر مولوی سید سلمان حسینی ندوی پیر کی صبح لکھنؤ میں 72 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر منظرِ عام پر آتے ہی ہندوستان سمیت دنیا بھر کے علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ علماء، دینی اداروں، شاگردوں، سماجی شخصیات اور عقیدت مندوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رحلت کو ملتِ اسلامیہ، بالخصوص ہندوستان کی دینی و علمی دنیا کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔
مولوی سید سلمان حسینی ندوی کا تعلق ہندوستان کے ایک معروف علمی خانوادے سے تھا۔ وہ طویل عرصے تک دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے وابستہ رہے اور علومِ حدیث، فقہ، دعوت، عربی ادب اور اسلامی فکر کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیتے رہے۔ تدریس، تصنیف، تحقیق اور بین الاقوامی علمی مکالموں میں ان کا کردار انتہائی مؤثر رہا، جس کے باعث برصغیر کے علاوہ عرب دنیا، خلیجی ممالک، یورپ، امریکہ اور افریقہ میں بھی انہیں ایک ممتاز اسلامی اسکالر کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔
انہوں نے عربی اور اردو زبان میں متعدد علمی و تحقیقی کتابیں تصنیف کیں، مختلف علمی جرائد کی ادارت کی اور دنیا بھر میں قرآن، حدیث، اسلامی فقہ، دعوتِ دین اور عصری مسائل پر بے شمار علمی خطابات کیے۔ ان کی علمی زندگی کئی دہائیوں پر محیط رہی، جبکہ ان کے ہزاروں شاگرد آج مختلف ممالک میں دینی، تعلیمی اور سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کئی تعلیمی، طبی اور رفاہی اداروں کے قیام اور سرپرستی میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث انہیں صرف ایک دینی عالم ہی نہیں بلکہ ایک فعال تعلیمی مصلح اور مدبر کے طور پر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
مولوی سید سلمان حسینی ندوی اپنی علمی بصیرت، وسیع مطالعے، بے باک حق گوئی اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل پر گہری فکر کے باعث برصغیر کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے پوری زندگی مظلوموں اور مستضعفین کی حمایت کو اپنا دینی و اخلاقی فریضہ سمجھا۔ فلسطین کے مظلوم عوام کی بھرپور حمایت، صہیونی اسرائیل اور عالمی استعمار کی کھل کر مخالفت، اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل پر جرات مندانہ مؤقف ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔
وہ اہلِ بیتِ اطہارؑ سے گہری محبت و عقیدت رکھتے تھے اور اپنی تقاریر، تحریروں اور علمی مجالس میں تاریخِ اسلام کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق و استدلال کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔ اپنی تصانیف اور خطابات میں انہوں نے بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار میں اہلِ بیتِ رسولؐ پر ڈھائے جانے والے مظالم کا متعدد مرتبہ ذکر کیا، ناصبیت کے رجحانات کی مخالفت کی اور واقعۂ کربلا کو اسلامی تاریخ کا عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے اس کے اسباب و نتائج پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ ان کے یہی بے لاگ علمی مؤقف بعض حلقوں کی تنقید کا باعث بھی بنے، تاہم انہوں نے دباؤ اور مخالفت کے باوجود اپنے علمی ضمیر کے مطابق اظہارِ حق کا سلسلہ جاری رکھا۔
مولوی سید سلمان حسینی ندوی ان ممتاز علماء میں شامل تھے جنہوں نے جرات و بصیرت کے ساتھ اسلامی انقلابِ ایران کی حمایت کی۔ وہ امام خمینیؒ کی تحریک کو امتِ مسلمہ کی بیداری کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے تھے اور اسلامی وحدت، عزتِ امت، عالمی استکبار کے مقابلے میں مقاومت اور مظلوم اقوام، بالخصوص فلسطینی عوام، کی حمایت کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ وہ رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای سے اپنی عقیدت اور فکری وابستگی کا بھی متعدد مواقع پر اظہار کرتے رہے۔ ان کے نزدیک امتِ مسلمہ کو فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر مشترکہ اسلامی مقاصد، وحدتِ امت اور ظلم و استعمار کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کا یہ مؤقف انہیں عالمِ اسلام کے آزاد فکر اور بااثر علماء میں منفرد مقام عطا کرتا تھا۔
مولوی سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال پر مختلف مذہبی، علمی اور سماجی شخصیات نے تعزیتی پیغامات جاری کرتے ہوئے ان کی علمی، دینی، فکری اور تعلیمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں افراد نے ان کی وفات پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ان کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔
مولوی سید سلمان حسینی ندوی کی رحلت سے ہندوستان کی دینی و علمی روایت کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوگیا، تاہم ان کی گراں قدر تصانیف، علمی خطابات، تحقیقی خدمات اور ہزاروں شاگرد ان کے علمی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرتے رہیں گے۔ اہلِ علم کا کہنا ہے کہ اسلامی علوم کی تدریس، دعوتِ دین، فکری رہنمائی، حق گوئی، مظلوموں کی حمایت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و بیداری کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا علمی سرمایہ اہلِ علم و تحقیق کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ بنا رہے گا۔









آپ کا تبصرہ