حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں تقریب مذاہب کونسل کے چیئرمین حجۃ الاسلام والمسلمین سید صادق حسینی نے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ہندوستان میں پیدا ہونے والی غیر معمولی فضا اور عوامی جذبات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “جیسا منظر ہم نے ہندوستان میں رہبر کی شہادت کے بعد دیکھا، ایسا منظر اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔”
انہوں نے قم المقدسہ میں نمائندے ولی فقیہ ہند کے دفتر میں ہندوستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کے بعد پورے ہندوستان میں عوامی سطح پر غیر معمولی عقیدت اور جذبات کا اظہار دیکھنے کو ملا۔ ان کے بقول کچھ ہی دن پہلے ہندوستان کے بعض علاقوں میں حالات یہ تھے کہ رہبر معظم کی تصویر آویزاں کرنے سے روکا جا رہا تھا لیکن شہادت کے بعد ہر ہاتھ میں رہبر کی تصویر دکھائی دی اور ملک کے دور دراز علاقوں سے لوگ پروگراموں میں شرکت کے لیے پہنچے۔
ہندوستان میں تقریب مذاہب کونسل کے چیئرمین نے کہا: “کوئی شہر یا گاؤں ایسا نہیں بچا جہاں رہبر کی مجلس منعقد نہ ہوئی ہو۔ نمائندۂ رہبر حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی نے شب و روز ایک کر کے مسلسل ہندوستان کے ہر علاقے میں منعقد ہونے والے تعزیتی جلسے میں شرکت کی اور ہندوستان کی ہر قوم نے ہندو مسلمان سکھ، عیسایی انسے انسانی ہمدردی کا ثبوت دیا۔
نمایندہ رہبر شہید نے ہندوستانی اقوام کو یکجہتی آپسی بھائی چارگی کا پیغام دیتے ہوئے تمام ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا۔
مولانا سید صادق حسینی کے مطابق، رہبرِ انقلاب کی شہادت ہندوستان میں مختلف فکری اور مذہبی حلقوں کے درمیان اتحاد کا محور بن گئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام شہروں میں نظریاتی اختلافات کم ہو گئے اور مختلف طبقات ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ سکھ برادری نے بھی نہایت عقیدت کے ساتھ رہبرِ انقلاب کو خراج عقیدت پیش کیا، بیانات جاری کیے اور مختلف پروگرام منعقد کیے گئے۔ ان کے مطابق معروف یوگا گرو بابا رام دیو نے بھی رہبرِ انقلاب کو اچھے الفاظ میں یاد کیا اور امام حسین علیہ السلام اور تشیع کے حوالے سے مثبت بیان دیا۔
حجۃ الاسلام سید صادق حسینی نے مزید کہا کہ ہندو مذہبی رہنماؤں، آچاریہ، عیسائی برادری اور جین مذہب کے افراد نے بھی رہبرِ انقلاب کی شہادت پر پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے نظر آئے۔
ان کے مطابق، صوفی سنی حلقوں نے ہندوستان کی خانقاہوں اور مزارات پر جلسات تعزیت منعقد کیے خاص طور پر برصغیر کے سب سے بڑے صوفی مرکز خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں تعزیتی پروگرام منعقد ہوا صوفیائے کرام نے بارگاہ رسالت مآب میں رہبر شہید کا پرسہ رو رو کر پیش کیا۔
انہوں نے کہا: “پوری تاریخ میں شاید ہی کسی شیعہ شخصیت کے لیے اس نوعیت کے پروگرام دیکھنے کو ملے ہوں۔ اج صوفی حلقے اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ شیعہ مکتب اور ایران سے قربت رکھتے ہیں۔”
حجۃ الاسلام سید صادق حسینی نے بتایا کہ ہندوستان میں برادران اہل سنت نے بھی رہبرِ انقلاب کی شہادت پر اجتماعات اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے۔
اہلسنت کی تمام اکابر ،معروف ،مشہور مذہبی سیاسی اور ثقافتی شخصیتوں چاہے وہ امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی ہوں یا جمعیت علمائے ہند کے ذمہداران یا خواجہ معین الدین چشتی کے آستانے کے متولی سید سرور چشتی یا سابق وزیر خارجہ ہندوستان جناب سلمان خورشید اس طرح دسیوں اہم ترین شخصیات سیکڑوں وفود کی رفت آمد ایرانی خانہ فرہنگ دہلی میں نمایندہ رہبر شہید حجت الاسلام ڈاکٹر حکیم الہی کی خدمت میں رہبر شہید کی تعزیت کے لیے جاری ہے سبھی نے ایران پر ہوئے جارحانہ حملے کو مذموم قرار دیا اور اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہندوستان کی نمایاں شخصیت جنمیں حضرت مولوی سجاد نعمانی کا نام سر فہرست ہے آپ نے نہ فقط خانہ فرہنگ ایران دہلی میں پہنچ کر اظہار تعزیت اور ہمدردی پیش کی بلکہ واضح طور پر پوری امت مسلمہ کو درپیش خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا آج یہ امریکا اور اسرائیل کا حملہ شیعوں پر نہیں ہے بلکہ یہ حملہ پوری امت مسلمہ پر ہے ریلی اور تظاہرات کے لیے ہزاروں افراد ایسے علاقوں میں سڑک پر نکلے جہاں شیعہ آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے جنگی حالات کے دوران ہندوستانی طلاب کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ طلاب نے میڈیا میں آکر “پیغامِ حق” کو مؤثر انداز میں پہنچایا اور انتہائی حساس ماحول میں مثبت کردار ادا کیا۔
ہندوستان میں تقریب مذاہب کونسل کے چیئرمین نے مزید کہا کہ ہندوستان میں ایران مخالف سرگرمیوں میں تین بڑے گروہ سرگرم تھے؛ ایک امریکہ اور اسرائیل نواز حلقہ، دوسرا ناصبی گروہ اور تیسرا سلفی و سعودی حمایت یافتہ حلقہ، جو روزانہ ایران مخالف ویڈیوز اور مواد نشر کرتے تھے البتہ ہندوستان کے لوگوں نے ان سارے فتنوں اور تہمتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔









آپ کا تبصرہ